را ایجنٹوں کا احتساب ہونا چاہئے


پاکستان کا خوبصورت نام عبدلستار ایدھی جس کی ساری زندگی دنیا کے تمام زندہ ضمیر اور انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک بے نظیر مثال ہے عبدالستار ایدھی نے داڑھی رکھ کر نبی کی سنت کی پیروی کرتے ہوے اسی سنت کی مرتے دم تک لاج رکھی۔انہوں نے اپنی زندگی ایمانداری سچائی کے راستے پر چل کر سادگی اختیار کرتے ہوے ایک درویش بن کر دانشمندی سے گزار دی۔ پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں کی مرگز نگاہ رہے اور عزت احترام کی بلندیوں تک پہنچ گے۔ انسانیت کی بھلائی وخدمت کے کاموں میں اپنااولین فرض سمجھ کر ادا کرتے رہے۔ وہ کسی مشکلات سے نہیں گھبراے اور نہ ہی وہ پیچھیے
ہٹے۔انہوں نے زندہ اور مردہ بچے بڑھے نوجوان عورتیں معزور نظرانداز طبقہ اور کمزور بے بس لاوارث لوگوں کی ساری عمر خدمت کرتے کرتے اس دنیا سے بڑی شان کے ساتھ رخصت ہوگے۔ انہوں نے جب بھی رفاحی کاموں کے لیے چندہ مانگا۔یا انہیں کہیں سے بھی ڈونیشن ملی وہ باقاعدہ حساب کتاب قانونی ضابطے کے ساتھ خرچ کرتے۔ انہوں نے لاواث یتیم بچوں کو اپنے بچوں کی طرح رکھا انہوں یتیم اور لاوارث بچوں کو جنت کے نام پر جہادی ٹریننگ دلاکر دہشت گرد تنظیموں کو بچے نہیں فروخت کیے ۔ان کے ادارے کو ملنے والا فنڈ اپنی شان شوکت بڑھانے کے لیے،لوگوں پر اپنی دھاک بیٹھانے کے لیے نہیں خرچ کیا نہ ہی انہوں نے لوگوں کا حق کھاتے ہوے اس رقم سے اپنے لیے مکان فلیٹ گاڑیاں بنگلے پلاٹ زمینیں مارکیٹ شوگر ملز خریدے۔نہ ہی انھوں نے زندگی میں کوئی تقریر کی نہ ہی کوئی مزہبی تبلیغ کی اور نہ ہی گلے پھاڑ پھاڑ کر نفرتوں کے درس دیٸے ٬ نہ کوئی سیاسی پارٹی بنائی ٬ نہ اسلحہ بردار گارڈز کے ساتھ بڑی گاڑیوں سے اُتر کر مذہب کو بیچا ٬ نہ کوئی فتوے دیٸے ٬ نہ وہ پیر بنے نا سائیں ٬ نہ اونچے اونچے محلات نہ نرم نرم بستر نہ ان میں روپے پیسے اور دنیا داری کی
ہوس بس انسانیت کی بے لوث خدمت کی وہ بھی بغیر کیسی تفریق کے کسی خاص مذہب یا فرقے کی نہیں بلکہ ” اِنسانیت “ کی اور اُن اِنسانوں میں مسلم ٬ ہندو ٬ سکھ ٬ عیسائی سب شامل تھے۔ وہ عجیب شخص تھا صرف اِنسانیت کی بات کرتا تھا۔ لا وارثوں کے وارث عبدالستار ایدھی کو اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے امین۔ بات ہورہی ہے انسانیت کی خدمت کی ہمارے ہاں ایک رواج چل نکلا ہے۔انسانیت کی خدمت کے لیے ایک شاٹ کٹ راستہ سیاست کا ہے ۔جی ہمارے نام نہاد ملاں جن کا کام صرف اسلام کی تبلیغ کرنا دین اسلام کے بتاے ہوے اصولوں کی لوگوں میں رہنمائی کرنا اپس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے دینا دنیا کی بجاے اخرت کی فکر کرنا ایمانداری سچ حق کی تلقین کرنا نفرت کو مٹانا برائی سے بچانا اور اچھائی کی تلقین کرنا ۔مگر ہمارے ہاں کام الٹ ہے۔اب ان تمام باتوں کو الٹا کرلوں تو یہ سب باتیں ہمارے ننانوے فیصد نام نہاد ملاوں میں پائی جاتی ہے۔ان کے قول فعل ظاہر باطن میں زمین اسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔
• مگر اج ننانوے فیصد نام نہاد ملاں تو چور جھوٹے بدحواس کرپٹ ، دلال ، دین فروش ، ایمان فروش ہیں۔ان نام نہاد ملاوں نے مزہب کے فروغ کی اڑ میں اپنی خرمات فروخت کرکے اپنی جائیدادیں اور اثاثوں میں اتنی تیزی سے اضافہ کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ان کے رہن سہن ان بان جھوٹی شان کو دیکھ کر یوں لگتا ہے۔ جیسے ان کے ہاتھوں کو قارون کا خزانہ لگ گیا یابھر کوئی جادو کا چراغ یابھر ان کی زمینوں پر ڈالرز کے درخت اگ ائے ہیں. ان سب مولویوں کو آخرت کی کوئی فکر ہے ہی نہیں۔اخرت کے سارے بھاشن تقاریر جلسے مجالس عبادات ساری کی ساری عوام کے لیے اور اربوں کھروبوں کے اثاثے بینک بیلنس زمینیں ماکیٹ گرڈ اسٹیشن مکان فلیٹ بنگلے پلاٹ مہنگی مہنگی گاڑیاں خریدنے کے لیے یہ مولوی بنے یہ سب ان کے لیے ہیں ۔دنیا کی تمام عیاشیاں سارا سامان یہاں ہی اکٹھاکرنے کی کوشش میں دن رات لگے رہتے ہیں مولویوں کے دبئی میں فلیٹ،پاکستان میں شوگر ملز،سرکاری زمینوں پر قبضے بنگلے مدرسے مکانات گرڈ اسٹیشن
کروڑوں مالیت کی مارکیٹ ہزاروں کنال زمین اور دوکانیں وغیرہ موجود ہیں ۔انہوں نے یہ اثاثے کیسے بناے ایک تو ان کے لیے کمانے کا طریقہ مزہب کی اڑ لے کر سیاسی جماعتیں بناکر پھر بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ الحاق کرکے اپوزیشن جماعتوں کے لیے ان کے پرسراقتدار جماعت سے اپنی مرضی کے مقاصد کے حصول کے لیے ان پر دباو ڈالنے کے لیے اپنے مطالبات منوانے کے لیے کیسی پر فتوے لگانے ملک دشمن تنظیوں گرہووں کے کہنے پر انتشار پھیلانے من گھڑت کہانی بناکر ملک میں فرقہ روایت کی اگ بھڑکانے کے لیے یہ ان سے اربوں روپے لے کر اس طرح کا فریضہ بڑی ایمانداری سے سرانجام دیتے ہیں ۔برسراقتدار سیاسی جماعت کے دور میں ان کو اپنی بھر پور حمایت کا یقین دلا کر حکومت سے ریلیف لینا ۔اسلام کے نام اور خصوصا کشمیر کے نام پر مدرسوں میں پڑھنے والے غریب اور لاوارث بچوں کو جہاد کے نام پر جہادی ٹریننگ دلا کر کہ تم کشمیر جاکر بھارتی فوجیوں سے جاکر لڑو اور شہید ہوجاو تمہیں جنت کے ساتھ ساتھ حوریں ملیں گی۔اور پھر انہیں اگے دہشت گرد تنظیوں کے گرہووں کو بھاری بھرکم رقم کے عوض فروخت کرنا شامل ہے۔ملک میں وہ دولت مند طبقہ جو ان کے مدسوں کو غریب یتیم مسکین بچوں کی تعلیم تربیت خوراک اچھی صحت کے لیے لاکھوں کے فنڈ زکوات کے طور پر دیتا ہے۔وہ یہ زکواة کا پیسہ ان بچوں کی فلاح وبہود پر خرچ کرنے کی بجاے اپنے بچوں اور ان کی انے والی نسلوں کی فلاح وبہود کے لیے چھپالیتے ہیں۔ حتی کے کھانےکی اچھی اچھی دیگیں جن میں نان قورمہ بریانی فروٹ اچھے کپڑے جو اللہ کے نام پر مخیر حضرات ان کے مدرسوں میں بھجواتے ہیں ۔وہ بھی یہ لوگ اپنے گھروں میں فریج کی چھپالیتے ہیں ۔ کپڑے اپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔اچھا پھل کی پیٹیاں خود اٹھا لیتے ہیں۔سستا اور گلہ سڑا عام پھل بچوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ نان قورمہ اور بریانی کی دیگیں اپنے گھروالوں کے لیےاور اپنے دوستوں کی دعوت کرتے رہتے ہیں۔جن بچوں کے نام پر یہ سب کچھ ان کو ملتا ہے۔وہی بچے پھٹے پرانے کپڑوں میں رہتے ہیں۔سادہ چنے والے چاول ان کو ملتے ہیں۔ دال الو سے روٹی کھاتے ہیں۔یہ لوگ اتنے چلاک مکار ہوتے ہیں۔بچوں کو ایسی خستہ حالت میں رکھ کر مخیر حضرات اور سیاسی رہنماوں کی انکھوں میں دھول جھونک کر ان سے بھاری چندہ ودیگرے قیمتی کپڑے اور اچھی پکی پکائی خوراک کے نزرانے وصول کرتے ہیں۔ ہمارا حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں قومی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ ہے ۔پاکستان میں کرپشن کے خاتمہ اور امن امان کو قائم رکھنے کے لیے ایسے تمام مدرسوں کی مکمل چھان بین کرے تمام مدرسوں کو اپنی تحویل میں لے کر اس میں دو پڑھا لکھے مزہبی سکالر تعینات کرے ان کو سرکاری نوکری کی طرح باقاعدہ اچھی تنخواہ مقرر کرے ۔پاکستان میں قائم تمام مدرسوں کے انگوٹھا چھاب کم پڑھے مولویوں سے چھٹکارہ دلایا جاے۔ ان مدرسوں میں صرف دینی تعلیم کی روشنی میں دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کے اصول اسلام کے مطابق زندگی بسرکرنے اور سچے پکے مسلمان بننے کی رہنمائی شامل ہو۔ اور ایسے نام نہاد ملاووں کی کمین گاہ حجرے جہاں اخلاقی قدروں کو پامال کیا جارہا ہے ۔جنسی ہوس اڈے بن چکے ہیں۔ مالی وملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں اور ان میں اسلام کے نام پر سیاسی اور زاتی مفادات کے حصول کے ملکی مفاد داو پر لگاتے ہیں۔اور شرمناک قسم کا کھیل رچاتے ہیں ۔ایسے اداروں اندرون اور بیرون ملک سے ملنے والی فنڈنگ کی حوصلہ شکنی کرتےہوے فوری تاحیات پابندی عائد کردینی چاہیے۔ ایسے تمام مدرسوں کی رجسٹریشن منسوخ کرکے انہیں بند کردینا چاہیے۔پاکستان میں پرائیوٹ مدرسوں کی بجاے سرکاری مدرسے قائم کیے جاے ۔مزہب کی اڑ میں سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ایسے تمام مدرسے جو فنڈ لے رہے ہیں ۔ان سب کا تمام ریکارڈ چیک کرنا چاہیے۔ امد خرچ کا حساب لیا جاے ان کے تمام اثاثوں کی تفصیل اور زریعہ امدن کی چھان بین کی جاے اور تمام مدرسوں کا اڈٹ کیا جاے اور ملک میں فرقہ ورانہ فسادات جہاد کے نام پر بچوں کو دہشت گرد گرہووں میں بھیجنے اور ان سے رابطے والے امن خراب کرنے والوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کرتے ہوے انہیں گرفتار کیا جاے۔اور ان کی تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرکے ان لاوارث یتیم بچوں کی فلاح و بہود پر خرچ کرنی چاہیے۔۔۔
پاکستان کی سیاسی و مزہبی جماعتوں کی اڑ میں چھپے را کے ایجنٹوں کا احتساب شروع کرتے ہوے والیم 10بھی کھولا جاے تاکہ ملک غدار دشمنوں کے مکمل کالے کرتوت عوام کے سامنے اجایئں

About ویب ڈیسک

Check Also

تنظیم سازی

لفظ ” تنظیم سازی“ تمام سیاسی پارٹیز کیلئے ایک ”گالی“ بن کر رہ گیا ہے،امید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے