آخر بلی تھیلے سے نکل ہی آئی


وطن عزیز پاکستان بزرگوں نوجوانوں عورتوں بچوں کی عزت جان ومال کی بے پناہ قربانیوں اور ازاد ملک کا خواب دیکھنے والے لوگوں کی کئی سالوں کی جدجہد کے بعد ملنے والے صلہ کے نتیجہ ہے ۔ پاکستان دنیا کہ نقشے پر ابھرا اور میرا اللہ اسے تاقیامت سلامت رکھے دشمنوں کی بدنظر گندے ارادوں سے ان کے شر سے محفوظ رکھے امین ۔پاکستان میں اقتدار کے ہوس پرست انسانوں کے روپ میں انسانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے کمزور انسانوں کی محنت کا خون پینے والےدرندے کب سے پاکستان میں گھات لگاے معصوم عوام کے حسین خوابوں ان کی جائز خواہشات اور ایک پروقار زندگی جینے کے ساری پلاننگ کا ستر سالوں سے اپنے مکرو فریب کا جال بچھاے سیاست براے طاقت ،طاقت براےدولت،دولت براےفرعونیت ،شیطانیات کا کھیل جارہی رکھے ہوے ہیں۔ یہ انسان کے بھیس میں چھپے ان درندوں نے کمزور طبقعات کے دماغ کنٹرول کرنے کے لیے ان تمام عوام کو محرومیوں ،غربت،
بے روزگاری ، جرائم ، بیماری ،مہنگاہی، کے لاتعداد مسائل میں اس طرح گھیرے رکھا تاکہ کوئی بھی ان لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوں ان مسائل میں ہی اولجھے رہے اور ان کے کالے کرتوتوں کی طرف ان کی سوچ بھی نہ جا سکے۔اور یہ فرعون اپنی دولت کے بل بوتے اپنی اونچے اونچے محلوں کی شان شوکت سے مرغوب رکھتے ہوے ان کو اپنا غلام زہنی غلام بناے رکھے اور یہ غلام اقا کی ہر کرپشن پر اقا کے ہر ظلم اقا کی ہر غلطی کا دفاع کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے رہیں۔ایک خدا کو ناراض کرسکتے ہیں مگر اپنے اقا کو نہیں ۔ان کے سوفٹ وئیر اس طرح انسٹال کردیے گے ہیں کہ وہ یہ تمیز کرنا بھی بھول گے کہ غلط کو غلط کہنا اور ٹھیک کو ٹھیک کس طرح کہا جاتا ہے ان کو صرف اپنے احکامات کی حکم عدولی کرنا ہی سکھایا گیا ہے ۔چاہے وہ اداروں کے خلاف بات کرنا ہو یا ملک کے اداروں پر حملہ کرنا ہو یا وطن عزیز کے خلاف بیان بازی۔ جنرل ضیاء الحق کےدور کی پیداوار غدار ملک نواز شریف جو لندن میں بیٹھ کر ملک کے خلاف باتیں کررہا ہے ۔ جس کا اپنا سیاسی ماضی سیاست اورجمہوریت اور اداروں کے خلاف سازشیں اور اداروں پر حملہ کرنے کی وجہ سے پہلے ہی داغدار ہے۔ملکی قانون کااشتہاری مفرور مجرم سچ کا سامنا کرنے سے قاصر اپنے جرائم کی وجہ سے سزایافتہ تاحیات نااہل میاں نوازشریف عرف میاں سانپ ستر سال کی عمر میں پہنچ کر سٹھیاجانے کی وجہ سے کہ رہا ہے میں مزید غلامی کی زندگی نہیں گزار سکتا؟ اور اب اس نے اپنے غلاموں کو اپنے بعد اپنی اولاد کی غلامی میں قید رکھنے کے لیے مفرور مجرم نے اپنی بیٹی جیسے سیاست کی الف ب ج تک نہیں اتی اپنے مجرمانہ سرگرمیوں کے تحفظ عوام کو اپنی ڈھال بناکر اداروں اور حکومت کے خلاف جاکر دشمنوں سے کندھے سے کندھا ملا کر ملک کا امن خراب کرنے اسے ترقی سے روکنے ملک میں انتشار پھیلانے حکومت اور پاکستان کی سلامتی کے اداروں کو بلیک میل کرنے غلام عوام کو بے وقوف بناکر اپنے مہنزوم مقاصد حاصل کرنے کے لیے مریم صفدر کی صورت میں اپنا مہرہ سیاست کے میدان میں چھوڑا ہے۔تاکہ وہ یہاں رہے کر غدار باپ کے ادھورے مشن کی تکمیل کرسکے۔الحمد اللہ اس وقت پاکستان کی عدلیہ پاکستان کے اداروں پاکستان کی عکسری قوتوں پاکستان کے سلامتی اداروں پاکستان کی عوام اور خود ن لیگ کے رہنماوں کو پتہ چل گیا ہے۔کہ یہ پورا خاندان ملک عوام دشمن اور ملک دشمن ہے ۔یہ پورا خاندان ملک کے اہم صوبے صوبہ پنجاب کو یرغمال بناکر ملک پر قبضہ کرکے خدانخاستہ ملک کو ناقابلے تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ نواز شریف چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کی سیاست کا ڈان بننے کا خواب دیکھ رہا تھااور ایک وقت ایسا بھی اتا اللہ نہ کرے جب نواز شریف یہ اعلان کرتا کہ ہم اج سے ایک ہندوستان ہیں ہمارا خدا ہمارے رہن سہن ہمارے کھانے پینے میں ہماری عبادات ہماری زبان ہمارے کلچر میں کوئی فرق نہیں۔اج سب کی انکھیں کھول چکی اج تمام لوگوں کی سوچ کا انداز بدل چکا ہے ۔تمام عوام محب وطن اور باشعور ہے۔اگر اج ادارے ہوں یا عوام حکومت ہو یا قانون ساز عکسری قیادت ہو یا سیاستدان سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگارہا ہے۔پاکستان کی سالمیت واس کی بقاء کے خلاف جانے والوں سے اعلان لاتعلقی کررہا ہے۔ اور ایسے عناصر کی شدید مزمت بھی کررہا ہے۔وہ جان چکے ہیں کہ وہ ربورٹ یا کھٹ پتلیاں ہیں ہیں۔ وہ وطن دشمن اور شخصیت پرستی کے حصار سے نکل چکے ہیں۔وہ ایک خدا پرست اور ملک پرست بن چکے ہے۔
ملک کے غداروں کو وطن کے خلاف کیسی بھی میڈیا پر اپنا زہر اگلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اپنے جرائم کی گٹھری لے کر جھوٹ مکرو فریب کا جال بن کر جالسازی کا سہارہ لے کر جس طرح ملک سے بھاگنے والا بھگوڑہ گیدڑ نوازشریف عرف میاں سانپ باہر بیٹھ کر جس طریقے سے انکھیں دیکھا رہا ہے ۔وطن عزیز کے سلامتی کے اداروں اور حساس اداروں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس سے لگ رہا ہے اس کے مٹنے اور نشان عبرت کا وقت بہت ہی قریب اچکا ہے فرعون کی مثال سب کے سامنے ہیں کس طرح وہ غرق ہوااور رہتی دنیا تک نشان عبرت بنا رہے گا۔جس طرح پیمرا نے سزایافتہ مجرم اور مفرور افراد کی میڈیا پر تقاریر اور خبروں پر پابندی لگا دی. ہم امید کرتے ہیں پیمرا اس فیصلے پر عمل کرتے ہوے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرےاور ان لوگوں کی تقاریروں پرتاحیات مکمل پاپندی عائد کردے۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز سمیت کٸی سیاسی رہنماٶں کو بلیک آٶٹ کرے۔ حکومت پاکستان ایسے عناصر کو پاکستان کے خلاف سیاست کی اڑ میں اپنی سر زمین بھی استعمال نہ کرنے دے ان کے جلسہ جلوس و ریلیوں پر مکمل عائد کرتے ہوے انہیں ہرگز اجازت نہ دے ۔ایسے عناصر اور ان کے معاون اور ان کے سہولت کاروں کی اصل جگہ جیل کی کال کوٹھری اور قانون کے مطابق سزایں اور ان پر فورا عملدرامد کو یقینی بنانا ہے۔ ہمارا ریاست اداروں سے بھی یہ مطالبہ ہے۔کہ وہ نواز شریف اس کے معاونین اس کے سہولت کاروں کو ان کے کرتوتو‌ں کی سزا دی جائے۔ ملک کی سلامتی ریاست اور حساس معملات پر کوئی سمجھوتا قابل قبول نہیں۔ہمیں اپنا ملک اپنی دھرتی اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔اج اگر ہم ان بان شان سے سر اٹھا کر چل رہے ہیں۔ازاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں تو اس پاک وطن کی بدولت ہے۔ ہم سب کی ایک زبان سب سے پہلے پاکستان پاکستان زندہ باد

About ویب ڈیسک

Check Also

تنظیم سازی

لفظ ” تنظیم سازی“ تمام سیاسی پارٹیز کیلئے ایک ”گالی“ بن کر رہ گیا ہے،امید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے