نیوز الرٹ

صحافی اور صحافت کیا ہے

.
جس طرح آزادی واختیارات کے ساتھ فرض وذمہ داری بھی عائد ہوجاتی ہے، اسی طرح صحافت اور صحافی جب آزادی حاصل کرتے ہیں تو گویا بہت سی ذمہ داریاں بھی قبول کرلیتے ہیں ان میں سے پہلی ذمہ داری حق شناسی وحق گوئی کی ہے۔ حکمرانوں کے اہم فیصلوں کی صحیح معلومات حاصل کرکے انہیں بروقت عوام تک پہنچاناہوتا ہے۔
، جو میڈیا چاھے وہ پرینٹ ہو یا الیکٹرونک ہو۔سرکار اور ان کے ماتحت اداروں کی سرگرمیوں سے پردہ نہیں اٹھاسکتے تو وہ اپنے وجود کو بھی اس سماج میں باوقار انداز سے زیادہ دن تک برقرار نہیں رکھ سکتے، میڈیا کا فرض ہے، بولنا ، لوگ تو خاموش ہوسکتے ہیں? لیکن میڈیا کی خاموشی اس کی موت کے مترادف ہوتی ھے ، اسی طرح صحافی کا کردار ایک مورخ کی طرح ہوتا ہے جو حقائق کی تلاش میں اپنی جان کی پروہ کیے بغیر ٹھیک ٹھیک معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرداں رہتا ہے اور انے والے وقت کے لئے تاریخ لکھتے ہوے۔ سچائی چھوڑ جاتا ہے،
دورِ حاضر میں بڑھتے ہوے جرائم، سماجی
بے چینیاں اور سیاسی بدنظمی کا اگرجائزہ لیا جائے تو ان کی تہہ میں صحافی کو ایسی۔ معلومات کا بڑا ذخیرہ ملے گا، جو غیرذمہ دار صحافت کے وسیلہ سے عام انسانوں تک آج پہنچ رہی ہے اسی طرح اخبارات ورسائل کے صفحات پر جن نظریات وخیالات کی تبلیغ ہورہی ہے، جس تہذیب یا اس کے رسوم ورواج سے متعارف کرایاجارہا ہے اس کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ صحافت کے لئے کھلی فضا اور اخبارنویسوں کے لئے قلم چلانے کی آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ کسی جاندار کے لئے ہوا اور پانی ضروری ہے۔ اس طرح بے باک صحافت اور نظامِ عدل ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کی کمزوری سماج میں بیگاڑ پیدا کردیتی ہے لیکن اس آزادی کو کس طرح اور کس مقصد کے لیے استعمال کیاجائے یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔ ازادی صحافت میں کسی کےحق پر ڈاکہ ڈالنا، نفرت انگیز مواد پھیلانا، اور حقائق کو مسخ کرکے شہریوں کے ذہنوں کو گندہ کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
یہ صحیح ہے کہ ہمارا معاشرہ آج جن اعلیٰ اقدار پر ناز کرتا ہے ان میں سے بیشتر قدروں کے لئے صحافیوں نے ہی سب سے پہلے آواز بلند کی اور ایسی جہدو جہاد میں کافی قربانیاں بھی دی ہیں ، لیکن آج صحافیوں میں ایسے عناصر کا غلبہ بھی موجود ہے جو اپنی صحافت کے زور پر اپنے ملک کی تعمیر اور قوم کے اخلاق کو سنوارنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچانے میں مصروف عمل ہیں ، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے صحافی کو یہ یاد دلایا جائے کہ وہ سماج کا سب سے بڑا ذمہ دار فرد ہے ، اس کا پیشہ بکاؤ نہیں ہے۔، صحافی کا۔کام معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں ۔ناانصافیوں ظلم کرپشن ۔دھوکہ دہی فراڈ ۔رشوت کا بازار گرم رکھنے والوں کے خلاف اواز بلند کرنا۔ھے اور معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنا ھے اور ہر حال میں اپنی صحافت کی حرمت کا ہتھیار دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنا ھے۔ اسی طرح وہ معاشرے سے گندگی کی نشاندہی کرتے ہوے تعمیرانسانیت میں اپنی گوناگوں خدمات انجام دے سکتا ہے۔ اور اس کام سہرہ اے ار وائی نیٹ ورک کے صحافی واینکر سید اقرار الحسن کے سر جاتا ہے ۔جو ایک سچے اور محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے ۔معاشرے میں ہونے والی سماجی۔اخلاقی۔سیاسی۔اور معاشرتی ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف اپنی جان کو خطرے میں رکھ کر معاشرے کے ناسوروں کو بے نقاب کرتے چلے ارھے ہیں ۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ھے.اور صحافی معاشرے کی انکھ اور زبان ہوتا ھے۔مگر اس مقدس پیشے میں بھی ایسی کالی بھیڑیں گھس ائی ہیں جن کا صحافت سے دور دور تک کوئی لینا دینا ہے ہی نہیں اور نہ ہی ان کو صحافت کی الف ۔ب ۔اتی ہے ۔جنہوں نے اس مقدس پیشے کو ناصرف بدنام کیا۔بلکہ صحافت کی اڑ میں اس معاشرے کے گھناونے کرداروں کو پروان چھڑانے ۔اور مک مکا کی پالیسی پر عمل کرتے ہوے ۔ان کو تحفظ فراہم بھی کیا ۔ جس طرح کالی بھیڑوں نے سنیئر صحافی سرعام ٹیم کے انیکر پرسن سید اقرارالحسن سے دست اندازی و تلخ کلامی کی یہ کوئی نیا وقوعہ نہیں ھے۔ وطن غزیز میں ایسے بے شمار واقعات ان صحافیوں کے ساتھ روز پیش اتے ہیں۔مگر افرین ہے۔ایسے محب وطن صحافیوں پر جنہوں نےایسے ماحول میں اپنی صحافتی زمہ داریاں جاری رکھے ہوے ہیں۔ معاشرے کی ہر وہ کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کی قسم کھائی ہوئی ھے۔ جو اس معاشرے میں کالا دھبہ ہیں۔ ایک چوری دوسرا سینہ زوری ہم ان تمام اچھے اور سچے صحافیوں کے ساتھ ہونے والے ایسے رویعوں کی پرزور مزمت کرتے ہوے ویراعظم پاکستان عمران خان، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ سے ایک محب وطن صحافی و اینکر سید اقرارالحسن سے دست اندازی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس طرح کی گھٹیا حرکت آزادی صحافت پر حملہ ہے ہم سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں من جملہ صحافیوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ حکومت کا اولین فرض ہے ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

پھولوں سے نزاکت چھین لو

آج اعلیٰ الصبح جب سیر کے لئے باغ کا طرف رخ کیا تو کچھ بیزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے