بڑا آدمی

ہمارے معاشرے میں کئی اقسام کے لوگ موجود ہیں، ان میں کچھ لوگ معاشرے کے لئے سود مند ہوتے ہیں اور کچھ وبالِ جان. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سے لوگ معاشرے کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں اور کون سے لوگ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں. وہ لوگ جن کی وجہ سے لوگ پرسکون زندگی گزار سکیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام کریں وہ لوگ سود مند ہوتے ہیں اور جن لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو لوگ پریشان رہیں وہ لوگ نقصان دہ ہوتے ہیں.
کوئی بھی معاشرہ خواہ وہ اسلامی معاشرہ ہو یا غیر اسلامی بڑے لوگوں کی خصوصیات ایک جیسی ہی ہوتی ہیں عموماً جن لوگوں میں تین خصوصیات موجود ہوں وہ بڑے انسان ہوتے ہیں.
سب سے پہلی خصوصیت جو بڑے لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بے مقصد زندگی نہیں گزارتے ان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی بڑا مقصد ضرور ہوتا ہے. وہ اپنے گھر پریوار کے علاوہ دوسرے لوگوں کی فلاح و بہبود کا پہلے خیال رکھتے ہیں. وہ لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور اپنے عمل سے معاشرے میں سدھار لاتے ہیں پہلے خود عمل کرتے ہیں اور پھر لوگوں کی سمت درست کرتے ہیں. جو لوگ بڑا مقصد رکھتے ہیں انہیں چھوٹی موٹی باتیں پریشان نہیں کرتیں انہیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ اس راہ میں رکاوٹیں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے سو وہ اپنی دھن میں آگے بڑھتے رہتے ہیں.
دوسری بڑی خوبی جو بڑے لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کے لیے انگریزی میں بہت خوب لفظ ہے کہ tolerance for pain ان میں غیر معمولی ہوتا ہے. یعنی کہ وہ درد کو برداشت کرتے ہیں اور دوا کھا کر اس کا علاج نہیں کرتے بلکہ اس درد کی وجہ کو تلاش کرتے ہیں اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر ایمان رکھتے ہیں. کیونکہ کہ اس درد کی دوا کھانے سے اس درد کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر پھر اس صورتحال کا شکار ہونا ممکن ہے اور اگر آپ اس کی وجہ تلاش کر لیں تو اس کا مکمل علاج ممکن ہے. اصل میں درد ایک الارم ہوتا ہے جو آپ کو بڑی پریشانی آنے سے پہلے ہی ہوشیار کر دیتا ہے کہ جسم میں کچھ گڑبڑ شروع ہو گئی ہے اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے نہ کہ دوا کھا کر اسے دبا دیا جائے. مگر آج کا انسان اتنا لا پرواہ ہو گیا ہے کہ دوا تو کھا لے گا مگر مرض کا علاج نہیں کرے گا کیونکہ کہ اس میں محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ یہ کر نہیں سکتا.
اس مثال کو ہم روز مرہ زندگی میں دیکھیں تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اندر بہت ساری خامیاں موجود ہیں اور اگر ہم ان خامیوں کو تلاش کریں اور ان پر کام کریں اور ان کو مکمل طور پر ختم کر دیں تو ہم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں یہ خامیاں ہماری ترقی کی راہ میں دیوار کی صورت ہوتی ہیں.
تیسری خوبی جو بڑے آدمی میں پائی جاتی ہے وہ ہے tolerance for hunger بھی اس میں خوب ہو گا. وہ کھانے کا بھوکا نہیں ہوتا بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھاتا ہے نہ کہ کھانے کے لیے زندہ رہتا ہے.
یہاں بھوک سے مراد صرف کھانے کی بھوک نہیں بلکہ جبلی ضرورتوں کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے. وہ اپنی نفسانی خواہشات کو قابو کرنے میں بھی غیر معمولی قدرت رکھتا ہے. دنیا کی چکاچوندھ اس کے مقصد کے سامنے بے معنی ہوتی ہے. وہ ان تمام چیزوں کو حاصل کر کے بھی چھوڑ سکتا ہے.
کوئی بھی معاشرہ ہو ان بڑے لوگوں کی وجہ سے امن کا گہوارہ ہوتا ہے اور وہاں لوگوں کو زندگی گزارنے کے لیے صحیح سمت کو تعین کرنے میں سہولت رہتی ہے.

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے