رمضان شوگر مل۔لاہور ہائی کورٹ نے نیب تفتیشی افسر کوطلب کرلیا

تحریر ثنا آغا خان

لاہور ہائیکورٹ نے سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے اپنے حصص کی عدم رجسٹریشن کے خلاف شریف فیملی کے رمضان شوگر ملز کی جانب سے درخواست پر قومی احتساب بیورو (NAB) کے متعلقہ تفتیشی افسر کو بدھ کے روز طلب کرلیا۔ ملز ایڈمنسٹریٹر نے ایک وکیل کے ذریعے عدالت کے سامنے عرض کیا کہ اس کے تمام اثاثے نیب کی جانب سے بنائے گئے ریفرنسز کے بعد منجمد کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملز بینک سے قرض حاصل کرنا چاہتی ہیں اور اس مقصد کے لئے اس نے ایس ای سی پی سے درخواست کی کہ وہ اپنے حصص رجسٹر کروائے۔ تاہم، وکیل نے کہا کہ کمیشن نے شوگر ملز کے خلاف زیر التواء نیب ریفرنسز کی وجہ سے حصص کو رجسٹر کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ ایس ای سی پی کو ملز کے حصص رجسٹر کرنے کا حکم دیں۔
نیب کی طرف سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاست دان نے جو مختلف شوگر ملوں کے مالکان بھی ہیں قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چینی کی ذخیرہ اندوزی کرتے رہے اور سیاسی دور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شوگر ملز پر اپنی اجارہ داری چلاتے رہے ہیں۔
رمضان شوگر مز کا کیس بھی ان میں سے ایک ہے۔احتساب عدالت میں رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز اور جج کے مابین تکرار سے ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری کارروائی کررہے تھے، جس میں حمزہ شہباز کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سماعت کے آغاز پر جج نے کمرہ عدالت میں لوگوں کو اپنے ساتھ ‘سیلفیاں’ لینے کی اجازت دینے پر حمزہ شہباز کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آگے آنے کی ہدایت کی جس پر حمزہ نے سرزنش کی۔ جج نے حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کی توہین کررہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے پوچھا کہ کیا وہ پریس کانفرنس کرنے عدالت آئے ہیں؟ حمزہ نے جواب دیا کہ بہت سے لوگ ان سے ملنا چاہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالتی تحویل میں ہیں اور نہ کسی کو فون کیا اور نہ ہی خود لائیں۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) رانا مشہود نے معاملہ یہ کہہ کر رفع دفعہ کر دیا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے ایسا اقدام قابل قبول نہیں۔

اس احتساب عدالت (اے سی) نے منگل کو حمزہ شہباز اور ان کے والد شہباز شریف کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی۔ احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے کیس کی کارروائی کی۔ حمزہ شہباز پر کیس میں دوبارہ فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی کیونکہ جیل حکام نے covid-19 کی وجہ سے اسے پیش نہیں کیا۔ عدالت نے جیل حکام کو گزشتہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے پر 12 مئی کو حمزہ شہباز کو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ کیس میں حمزہ اور ان کے والد سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر الزام تھا۔ ریفرنس کے مطابق نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف پر اختیار کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ حمزہ پر رمضان شوگر ملز کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

نیب کے مطابق شہباز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناتے ضلع چنیوٹ میں ایک نالے کی تعمیر کے لئے بنیادی طور پر اپنے بیٹوں کی ملکیت شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ ماہ ڈان کو بتایا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے اپنے بیٹوں کی ملکیت کی فیکٹریوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا۔ شہباز اور حمزہ نے "دھوکہ دہی اور بے ایمانی سے” قومی خزانے کو 213 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔۔

ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف، اُن کے بھائی وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کے ایک رشتہ دار کی چار شوگر ملیں ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 78992 میٹرک ٹن چینی ذخیرہ کی تھی۔اس کے علاوہ مختلف سیاسی رہنما بھی شوگر ملز سکینڈل میں شامل رہے جن میں آصف علی زرداری ‘سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین پنجاب شوگر ملز کے مالک’سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز’ سابق گورنر پنجاب میاں اظہر پتوکی شوگر ملز کے مالک ‘پاکستان مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی نصراللہ دریشک انڈس شوگر ملز کے مالک ہیں اور اس کے علاوہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی انور چیمہ نیشنل شوگر ملز کے مالک سب کے نام چینی ذخیرہ اندوزی میں شامل ہیں
ملک میں چینی کے بحران کے حوالے سے نیب کی تحقیقات سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں شروع کی گئ تھی۔

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے