فاطمہ جناح کی برسی

9 جولائی یومِ وفات محترمہ فاطمہ جناح۔۔

بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی جدوجہد ازادی میں شریک سفر ان کی ھمشیرہ فاطمہ جناح کے بھرپور کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔۔
قائداعظم کی وفات کے بعد فاطمہ جناح کو مسلم لیگ کی ضمیر فروش جاگیردار ننگ وطن اور منافق قیادت نے کبھی بھی سیاسی جدوجہد میں شامل نہ ھونے دیا اور ایک مفاد پرست مسلم لیگیوں نے فاطمہ جناح کو ان کی رہائیش گاہ وزیر مینشن سے باہر نہ نکلنے دیا اور وہ عملاً نظر بند ھو کر رہ گئیں
1956 میں بانی خاکسار تحریک حضرت علامہ المشرقی نے فاطمہ جناح کو وزیر مینشن سے نہ نکلنے دینے پر احتجاجی مارچ بھی کیا جس کے نتیجہ میں انہیں سماجی سرگرمیوں میں شامل ھونے کا موقع مل گیا۔1957 تک مسلم لیگ کی ننگ وطن ننگ ملت حکومتوں کے کرتوت فاطمہ جناح بغور دیکھتی رہیں لیکن ایک خاتون اور وہ بھی تنہا ھونے کی وجہ سے کچھ کر نہ سکیں۔1958 کے فوجی مارشل لا کے بعد جب مغربی پاکستان کے بڑے بڑے وڈیرے جاگیردار اور انگریز کے زمانہ کے برٹش وفادار مسلم لیگی فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے ساتھ فوجی حکومت میں شامل ھوگئے تو محترمہ فاطمہ جناح نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔فوجی ڈکٹیر ایوب خان نے اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے ہر جائز اور ناجائز حربہ اختیار کیا۔اخرکار 1964 میں صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا گیا یہ وہ زمانہ تھا جب فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے سامنے کوئی آنکھ نہیں اٹھا سکتا تھا تو محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب کے مقابلے میں صدارتی امیدوار ھونے کا اعلان کردیا۔عوام کی اکثریت تو فاطمہ جناح کے ساتھ تھی لیکن مسلم لیگ کی تمام قیادت اپنی روایتی ضمیر فروشی اور اقتدار میں شامل رہنے کے لالچ میں مکمل طور پر فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ مل چکی تھی جبکہ خاکسار تحریک اور مولانا بھاشانی کی عوامی لیگ کے علاوہ سب جماعتوں کو فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان خرید چکا تھا۔عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ملک کے بڑے ملاؤں سے فاطمہ جناح کے خلاف مہنگے اور شرمناک فتوے خرید کر انہیں سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے مشرقی اور مغربی پاکستان میں پھیلایا گیا۔ملتان سے محترمہ فاطمہ جناح کے امیدوار خاکسار رہنما خان شیر نواب خان اور ان کے بھائی خان محمد اشرف خان کو گرفتار کرکے سکھر جیل میں نظر بند کردیا گیا جبکہ عوامی لیگ کے سربراہ مولانا عبد الحمید بھاشانی کو گرفتار کرکے چٹاگانگ بھیج دیاگیا۔
فوجی ڈکٹیر نے صدارتی انتخاب بھاری اکثریت سے جیت کر مسلم لیگ کے منافق اور غداران وطن وڈیروں کے زریعے اپنے اوپر جمہوریت کی عوامی کھال اوڑھ لی۔
محترمہ فاطمہ جناح کو اس شکست سے بہت مایوسی ھوئی انہوں نے مزید سیاسی سرگرمیوں کی بجائے خاموش زندگی اختیار کرلی۔1968میں عوامی لیگ کے سربراہ مولانا عبد الحمید بھاشانی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک بہت بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ جو قوم اور سیاستدان اپنے قائد کی پاک دامن ھمشیرہ کی وفادار نہیں ھے میں اس دھرتی کو ھمیشہ کے لئے خیر آباد کہہ کر مشرقی پاکستان جارہا ھوں اس کے بعد بھاشانی دوبارہ مغربی پاکستان نہ آئے۔حقیقت یہ ھے کہ 1964 کے صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ کا فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب کاساتھ دینا ہی پاکستان دو ٹکڑے ھونے کاسبب بنا غیر جانبدار مورخ جب ملک ٹوٹنے کی وجہ تحریر کرے گا تو وہ مسلم لیگ کے سیاہ داغدار چہرے کو ضرور عیاں کرے گا۔مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ایک طاقتور فوجی ڈکٹیر کا راستہ روکنے کی ایک کمزور آواز ضرور تھی لیکن ان کی جرات اور بہادری کو ھمیشہ یاد رکھا جائےگا۔
تحریر و تحقیق
قائد خاکسار تحریک پاکستان
پروفیسر ڈاکٹر حکیم عسکری

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے