پی ایس پی چھوڑنے والے مایوس رہنماوں کا ملک چھوڑنے کا فیصلہ

کراچی
(برکت علی اعوان)
پاک سر زمین پارٹی ( پی ایس پی) سے نکالے جانے والے اور ایم کیو ایم کے سابق 5رہنما اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے شدید مشکلات، مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ دو رہنماوں نے تو دل برداشتہ بیرون ملک منتقل ہونی ہر غور شروع کردیا ہے یہ بات باخبر ذرائع نے بتائی ذرائع کے مطابق 3مارچ 2016کو ایم کیو ایم کے دو اہم ترین رہنماووں مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم سے علیحدگی اور بغاوت کرکے اپنی پارٹی پی ایس پی بنانے کے اعلان کے ساتھ ایم کیو ایم اور دیگر پارٹیوں کے کئی رہنما پی ایس پی میں شامل ہوئے ان میں ایم کیو ایم کے رہنما اور سابق وزرا ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ، وسیم آفتاب، سلیم تاجک وغیرہ شامل تھے تاہم ان پانچوں رہنماوں کی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے اتحاد کی تجویز پی ایس پی کی کور کمیٹی کی جانب تجویز مسترد ہونے اور الیکشن 2018 میں بدترین شکست کے بعد ان پانچوں رہنماووں کو پارٹی سے نکال دیا گیا ذرائع کے مطابق یہ پانچوں رہنما اپنی پرانی پارٹی ایم کیو ایم میں شمولیت کے لئے بہادر آباد گئے اوروسیم اختر ، خواجہ اظہار ، فیصل سبزواری کے ذریعے لابنگ کی مگر ان کی یہ کوشش بری طرح ناکام ہوگئی اور ایم کیو ایم کے کئی رہنماووں نے ان کی شمولیت پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر یہ پانچوں دوبارہ ایم کیو ایم میں آئے تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے جس کے بعد ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ، وسیم آفتاب، سلیم تاجک کو ایم کیو ایم کے دروازے سے مایوس لوٹنا پڑا اس کے باوجود ایم کیو ایم کی 2019کی افطار پارٹی میں رضا ہارون اور وسیم اختر کے مشورے پر وسیم آفتاب اور سلیم تاجک شریک ہوئے تاہم وہاں انہیں حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کے مقابلے میں انتہائی تضحیک آمیز رویہ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں عام نشستوں پر بٹھا کر ان کے غیر اہم ہونے کا پیغام دیا گیا ذرائع کے مطابق اس تذلیل کے بعد ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ، وسیم آفتاب، سلیم تاجک پر مشتمل اس گروپ نے فاروق ستار کا رخ کیا جہاں فاروق ستار کے کئی رہنماوں نے رضا ہارون کے سامنے ان کے بطور آئی ٹی منسٹر کی حیثیت سے سنگین کرپشن کے معاملات رکھے جبکہ ڈاکٹر صغیر کے سول اسپتال اور سندھ کی دیگر اسپتالوں میں مشینوں اور ادویات کی خریداری میں گھپلوں کے حوالے سے باز پرس شروع کردی جبکہ سب سے زیادہ تند وتیز سولات اور تضحیک کا سامنا وسیم آفتاب کو کرنا پڑا جنہیں کراچی بھر میں اندھا دھند خصوصا مہاجر آبادیوں میں پارکوں، رفاعی پلاٹوں ، فلیٹوں، گھروں ایس ٹی پلاٹوں پر غیر قانونی قبضے کرنے والی مافیا کا ماسٹر مائنڈ قرار دیاذرائع نے بتایا کہ فاروق ستار کی موجودگی میں ان کے ایک قریبی ساتھی نے انیس ایڈوکیٹ کو غدار تک کہا گیا جبکہ فاروق ستار نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ انکشاف بھی کیا کہ 2011 میں انیس ایڈوکیٹ نے لندن سے بھارت میں مقیم پاکستان میں را کے نیٹ ورک کے انچارج ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما قمر منصور کے بھائی محمود صدیقی کا بھارتی ویزہ لگوانے کے لئے شدید دباو ڈالا تھا اور اس وقت بہ حیثیت وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی فاروق ستار نے بھارتی سفارت خانے سے محمود صدیقی کا ویزہ لگوا کر لندن میں انیس ایڈوکیٹ کے حوالے کیا تھا ذرائع نے بتایا کہ فاروق ستار اور ان کی کور کمیٹی کی جانب سے ہری جھنڈی دکھانے کے بعد ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ، وسیم آفتاب اور سلیم تاجک نے تحریک انصاف میذن شمولیت کے لئے وسیم اختر کے ذریعے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے رابطہ کرکے پی ٹی آئی میں بلامشروط شمولیت کے لئے درخواست کی ذرائع نے بتایا کہ وسیم اخترکی فرمایش پر عمران اسماعیل نے عمران خان کے حالیہ دورہ کراچی میں ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ، وسیم آفتاب اور سلیم تاجک کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی تجویز دی جو عمران خان نے ناپسندیدگی کے ساتھ مسترد کردی اور عمران اسماعیل کو اس معاملے میں مزید ہیش رفت سے بھی باز رہنے کی ہدایت کی ، ذرائع کے مطابق اب یہ پانچوں افراد کا گروپ پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے سعید غنی ، وقار مہدی اور نثار کھوڑو سے رابطے کی کوشش کررہا ہے تاہم اب تک رابطہ نہیں ہوسکا ہے ، ذرائع نے بتایا اس تمام تذلیل اور تضحیک اور دل برداشتہ ہوکر رضا ہارون نے لندن اور ڈاکٹر صغیر نے کینیڈا منتقل ہونے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے