نیلم بھٹی

آگیا راس تیرے شہر کا موسم سارا
بن گیا میری تھکی آنکھ کا مرہم سارا

محوِ الفت ہے کوئی خاکی سرِ دشتِ جنوں
اور مبہوت ہوا جاتا ہے عالم سارا

سرِ محفل نہ کیا اس نے تماشہ مجھ کو
رازِ الفت یوں رہا بات میں مبہم سارا

رقص پانی پہ کیا کرتا ہے عاشق کوئی
کس کی چاہت میں کھنچا آتا ہے زمزم سارا

سرِ افلاک صحیفہ جو ستاروں نے لکھا
میرے آنچل میں سمٹ آیا ہے یکدم سارا

دشتِ الفت میں دھڑکتا ہے کوئی کانچ بدن
میری چوڑی میں گرفتار ہے عالم سارا

اک فسوں ساز کو دھڑکن میں بسا کر نیلمؔ
سوزِ الفت کو کیا قلب پہ لازم سارا

نیلم بھٹی

About ویب ڈیسک

Check Also

کراچی کے شہریوں کیلئے خوشخبری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے