جاگیردار اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاتے ہیں مگر لوگوں کو تعیلم سے محروم رکھتے ہیں

تحریر کائنات ملک ۔۔۔.
ضلع راجن پور کی کل ابادی 20 لاکھ ہے ۔ضلع راجن پور پنجاب کا دور افتادہ اور پسماندہ ضلع ہے اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کے بلند پہاڈ۔تو مشرق میں دریاے سندھ بہتہ ہے ۔یہ بہت زرخیز علاقہ ہے۔یہاں گندم۔کپاس۔گنا۔چاول۔چنا۔سرسوں ۔سورج مکھی۔ تمباکو۔سبزیاں پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔اس کی ستر فیصد ابادی دیہات میں رہتی ہے جس کا زریعہ معاش کھیتی باڑی ہے ۔یہاں غریب اور بے روزگار لوگ بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں کا محنت کش اور غریب طبقہ محنت مزدوری کی غرض سے کراچی۔بلوچستان۔دوبئی۔اور سودیہ میں جاکر کام کرتا ہے۔چند پڑھے لکھے لوگ سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔قیام پاکستان سے لیکر اج تک ضلع راجن پور پر سرداروں وڑیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہے ۔یہاں کےسیاست دان سرداروں نے اس ضلع کو پسماندہ رکھا ہوا ہے ۔اور یہاں کے معصوم بھولی بھالی عوام کو ہر پانچ سال بعد سبز باغ دیکھا کر ان سے ووٹ لے کر ایوان اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں ۔اور بچاری عوام ان سرداروں کے ساتھ ہاتھ ملا کر اور سیلفیاں بنا کر اسے سوشل میڈیا کی زینت بنا اپنے دوستوں پر رعب ڈالتے ہیں ۔اوراپنی قسمت پر نازاں ہوتے ہیں۔ یہاں کے شاطر سیاست دان سردار اپنی عوام کو بے وقوف بنا کر اپنی سیاسی دوکانداری کو چمکاے ہوے ہیں۔ اور ان سرداروں کی خوشامد میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی جنگ میں مقامی صحافیوں اور میڈیا کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔یہاں کے سیاست دان ہر دور حکومت میں اپنی سیاسی شطرنج کا کھیل کھیلتے ہوے اپنی سیاسی وفاداریاں اپنے زاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر تبدیل کرتے رہتے ہیں۔اس طرح وہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے پرچم تلے ہم اور ہمارے مفادات ایک ہیں کے سلوگن پر عمل پیرا ہیں ۔ ضلع راجن پور کے سیاست دان سابقہ دور حکومتوں میں اعلی اور اہم عہدوں پر برجمان رہے اور اب بھی موجودہ دور حکومت میں اعلی عہدوں سے فیضیاب ہونے کے باوجود لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق اور ان کو سہولیات دینے اور علاقے کی ترقی خوشحالی کے جھوٹے خواب دلاسوں اور زبانی جمع خرچ کے علاہ عملی کارکردگی میں ناکام ثابت ہوے ہیں۔ان سیاست دانوں کی پہلی ترجیحات میں صرف۔ اور صرف اپنی مرضی کا ایس ایچ او۔کی تعناتی۔ جس سے مخالفین اور کمزور لوگوں پر جھوٹی ایف ائی ار درج کرا کر ان کو دبانا۔اور اپنی پسند کا تحصیلدار۔ کی تقری شامل ہے۔ جس سے وہ سرکاری املاک پر ناجائز قبضے اور کمزور لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا شامل ہیں ۔ضلع راجن پور جہاں صحت اور تعلیمی سہولیات کی پہلے بھی بہت کمی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم کے حصول کے لیے ۔ملتان۔لاہور۔اسلام اباد۔ کراچی۔تک جانا پڑتا ہے۔جس سے وہ سفری اخراجات بھی بہت مشکل سے اکھٹاکر پاتے کرتے ہیں۔مگر ان کے مقابلے میں یہاں کے سرداروں جاگیرداروں کے بچے۔پاکستان اور پاکستان سے باہر کی کی مہنگی مہنگی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اس لیے یہاں کے سرداروں جاگیرداروں کو اس علاقے میں تعلیمی سہولیات اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے کالجز۔اور یونیورسٹی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس لیے عام غریب لوگوں کو مقامی یونیورسٹی کے قیام سے محروم رکھا ہوا ۔ضلع راجن پور کے تمام سیاستدانوں نے نوجوانوں کو تعلیم کی بہتر سہولیات نہ فراہم کرکے بہت مایوسی کیا ہے۔ تووہاں کے نوجوانوں نے
بھی اخر کا سیاستدان سرداروں کے رویعہ سے تنگ اکر ضلع راجن پورمیں یونیورسٹی کے قیام کے لیے عملی جدجہد باقاعدہ اعلان کرتے ہوے۔تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے باقاعدہ ضلع بھر کے نوجوانوں کو اس تحریک میں شامل کرنا شروع کردیا ہے۔اس تحریک کا بنیادی مقصد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ضلع راجن پورمیں یونیورسٹی کے قیام ضروری ہے ضلع راجن پورکے متحرک نوجوانوں نے گزشتہ روز تنظیم سازی شروع کردی ۔۔تحریک کے چیئرمین عون زبیرگشکوری،جنرل سیکریٹری زربخت خان گشکوری،وائس چیئرمین نادرپتافی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری انصرنذیر،سیکریٹری فناس شہبازفدا،میڈیا اینڈشوشل میڈیا کوآرڈینیٹر جمال ناصر،سیکریٹری انفارمیشن عون رمضان،سیکریٹری ریکارڈمحمدنجم بھٹی،ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری محمدجاوید،ڈپٹی کوآرڈینیٹر شوشل میڈیاعلی حسن گشکوری،ڈپٹی پبلک ریلیشن فہدخان کورائی،سیکریثری پبلک ریلیشن میاں نجم شامل ہیں۔عون زبیرگشکوری اورزربخت گشکوری کا کہنا تھا کہ ہم نوجوان سیاستدانوں سے مایوس ہوکر یہ تنظیم بنائی ہے۔اور ضلع راجن پور میں یونیورسٹی کے قیام تک ہماری یہ تحریک جاری رہے گی۔ ضلع راجن پور آبادی کے لحاظ سے جنوبی پنجاب کا بڑا
ضلع ہے اور یہاں کے لوگوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے یونیورسٹی کی اشد ضرورت ہے اسی لیے ترقی پسند سوچ رکھنے والے نوجوانوں نے یونیورسٹی تحریک کاخیر مقدم کرتے ہوے شامل ہونے کا اعلان کیا ہے
اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں یونیورسٹی کی اہمیت و افادیت پر زور دے رہے
ہیں۔اس یونیورسٹی تحریک کی سینٹرل کمیٹی کا کہنا تھا وقت آنے پر ہم احتجاج بھی کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو بھوک ہڑتال کیمپ بھی لگا سکتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف ضلع راجن پور کے سیاستدان سردار ہمیشہ
سے یونیورسٹی کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ضلع جام پور بناو تحریک ہو۔ یاضلع راجن پور میں سوئی گیس دو تحریک ہو۔تو یہ سردار سیساتدان اپنے گماشتوں کے زریعے سے ایسی تحریکیں پھلنے پھولنے سے پہلے ہی ہائی جیک کرانے میں ماہر ہیں اب دیکھتے ہیں یہ نوجوان ضلع راجن پور میں یونیورسٹی بناو تحریک کو کتنا کامیاب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔یا ماضی کی تحریکوں کی طرح یہ بھی پھلنے پھولنے سے پہلے ہی دم توڑ دے گی اس کا فیصلہ یہ نوجوان خود کریں گے ہماری دعائیں۔اور مکمل تعاون ان کے ساتھ ہے۔۔۔ ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے