مشیران مشکلات بڑھانےلگے

اسلام آباد
بیوروکریسی کے بعد حکومتی مشیران کی طرف سے بھی مبینہ طور پر وفاقی حکومت کے لیئے مشکلات کھڑی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ مستند ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے بیشتر مشیران ک طرف سے اختیارات کا بےجا استعمال عوامی اور سیاسی سطح پر تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ حکومت جو پہلے ہی بیوروکریسی کہ طرف سے ڈی فیم کیئے جانے کے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے کو اب اپنے ہی مشیروں کے اقدامات کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی طرف سے ملکی سطح پر تجارت کی پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کو نہ صرف ہدف تنقید بننا پڑ رہا ہے بلکہ مستقبل میں مقدمات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، بالخصوص بھارت سے تجارت میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آ رہی ہیں،  جان بچانے والی ادویات کے ساتھ عام ادویات کی درآمد اور ملکی اضافی برآمدات کے ساتھ ضرورت کی اشیاء کی برآمد کی اجازت بھی دی جا رہی ہے،  جس سے نہ صرف ملک میں ان اشیاء کی قلت بلکہ مہنگی ہونے کا بھی خطرہ ہے،  جو حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی یے۔ ذرائع محکمہ صحت کے مطابق بھارت سے جان بچانے والی ادویات کے ساتھ دوسری ادویات کی درآمد کے انکشاف پر وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا، جنہوں نے بھی نہ صرف تحقیقات کو مبینہ طور پر سرد خانے میں ڈال دیا ہے بلکہ ابھی تک بھارت سے ادویات کی درآمد روکے جانے سے متعلق ابہام موجود ہے۔ یوں وزیراعظم کے دو مشیروں کا کردار اس حوالے سے مشکوک ہے، دوسری طرف شوگر مافیا کے خلاف تحقیقات میں جہاں 1985 سے واقعات کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے وہاں شوگر کی برآمدگی کے معاملے میں حالیہ ذمہ داران کے تعین میں ذمیداروں کے تعین میں ذمہ داران کی نامزدگی کے بجائے وفاقی کابینہ یا صوبائی کابینہ کے الفاظ استعمال کر کے اجتماعی ذمہ داری ڈال کر اصل ذمہ داروں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت مشیران حکومت کو ڈی فیم کرنے کی بیوروکریسی کی کوششوں پر اپنے اقدامات کے  ذریعے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں۔

About ویب ڈیسک

Check Also

قربانی کے فضائل اور مسائل

تحریر ثنا آغا خان عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے