اشفاق خان ضرورت بن گئے


آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اپنے ادارے کی سمت درست جبکہ آفیسرزاوراہلکاروں کی خوداعتمادی بحال کرنے کیلئے رائٹ مین فاررائٹ جاب کے اصول پرکاربند ہیں۔وہ سیاسی مداخلت کومسترد کرتے ہوئے اپنے ادارے اورعوام کے بہترین مفاد میں سخت فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔شعیب دستگیر نے پنجاب پولیس کومستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے جدیدخطوط پراستوارکردیا ہے ۔پنجاب اورلاہورپولیس کی جدت اورمہارت سے اس اہم صوبائی ادارے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی جبکہ اس پر عوام کااعتماد بحال ہوا ہے،آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اپنے ویژن کے مطابق پولیس کی مختلف سروسز سے شہریوں کیلئے آسانیاں پیداکررہے ہیں،عنقریب تبدیلی کے اثرات منظرعام پرآنیوالے ہیں اور پولیس فورس درحقیقت پولیس سروس بن جائے گی،پولیس حکام اوراہلکارعوام کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اب ان کیلئے خدمات انجام دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔پولیس کاخودکوبدلناآسان نہیں اس کیلئے شہریوں کوبھی پولیس کے ساتھ اپناانفرادی اوراجتماعی رویہ بدلناہوگا۔عوام اپنے شہروں ،قصبوں اوردیہاتوں میں پائیدارامن وامان کیلئے پولیس اہلکاروںکے ساتھ بھرپورتعاون کریں۔پولیس پرجہاں تنقید ناگزیر وہاں ضرورتنقیدکی جائے اورجہاں پولیس شہریوں کیلئے ویلفیئر کیلئے مثبت اقدامات اٹھائے تواسے بھرپوراندازسے سراہاجاناچاہئے ۔کروناوبا کے دوران بھی ڈاکٹرز اورنرسز کی طرح پولیس حکام اوراہلکاروں نے بھرپورانداز سے دفاعی دیوار کاکرداراداکیاہے اوردوسروں کی جان بچاتے ہوئے اپنی قیمتی زندگیاں بھی داﺅپرلگائی ہیں۔کرونا وبا کے نتیجہ میں شہیدہونیوالے آفیسرز اوراہلکاروں کی فہرست بھی ریکارڈ پر ہے۔اس صورتحا ل میں پولیس حکام اوراہلکاروں کامورال بلندسے بلند تررکھنا ہمارااخلاقی فرض ہے۔ 
سی پی اولاہورمیںہے اسلئے شعیب دستگیرکا لاہورمیںہونیوالی ہرقسم کی معمولی اورغیرمعمولی مجرمانہ سرگرمیوں سے آگاہ رہنافطری امر ہے۔شعیب دستگیراپنے ویژن کے مطابق جس طرح لاہور کی سطح پر تھانہ کلچر کی تبدیلی اورمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث شرپسندعناصرکی سرکوبی چاہ رہے تھے مگر بار بار ہدایات کے باوجود انہیں مطلوبہ نتائج نہیں ملے لہٰذاءانہوں نے ایک بڑافیصلہ کرتے ہوئے اشفاق احمدخان کو اپنے بھرپوراعتماداور مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہورتعینات کردیاہے ،اس تقرری پر لاہورپولیس کے حکام اوراہلکار اپنے اپنے انداز میں خوشی اوراطمینان کااظہارکررہے ہیں کیونکہ پہلی تقرری کے دوران اشفاق احمدخان کااپنے ماتحت آفیسرز اوراہلکاروں کے ساتھ رویہ بہت پیشہ ورانہ تھا۔ڈی آئی جی اشفاق احمدخان ڈی پی اوبہاولپور،سی پی اوفیصل آباداورسی پی اوگجرانوالہ کی حیثیت سے اپنی کمانڈ کے اعتماد پرپورااترے۔ اشفاق احمدخان جس شہرمیں جاتے ہیں وہاں ان کے اچھے کام کی شہرت ان سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔ ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کی محض چھ ماہ بعد لاہورمیں دوسری بارتقرری معمولی بات نہیں ،وہ لاہورمیں مجرمانہ سرگرمیوں روکنے کیلئے ضرورت بن گئے ہیں۔یقینا ان کی دوبارہ تقرری کے اس خوش آئند فیصلے کے پیچھے اشفاق احمدخان کی بحیثیت ڈی آئی جی آپریشنزلاہورگرانقدر خدمات جبکہ شہریوں اورپولیس اہلکاروں کے درمیان فاصلے مٹانے کیلئے ان کی مثبت اصلاحات کارفرما ہیں۔اشفاق احمدخان خودکواپنے آفس میں محدود یامحصور نہیں رکھ سکتے وہ فیلڈ کے آدمی ہیں ،انہیں مہم جوئی پسندہے ۔وہ مختلف معاملات کابہت نزدیک سے مشاہدہ کرتے ہیں۔اشفاق احمدخان کی لاہور میں تقرری کے سات ماہ کے دوران ان کی اصلاحات کے جو اثرات دیکھے گئے ان سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔لاہور میں عوام کی محبوب ترین گیم کرکٹ کی بحالی ،پرامن ماحول میں مقابلوںکاانعقاد ،شہرلاہورمیںہونیوالی مختلف سیاسی وسماجی سرگرمیوں کیلئے بھرپور حفاظتی انتظامات اورخاص طورپرماہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کو منافرت اورفرقہ واریت کاایندھن نہ بننے دینا ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کی انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کاغماز ہے۔
ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کی خصوصی دلچسپی سے لاہورمیں پولیس کی انٹرل سرگرمیاں شروع ہوئیں ۔پولیس میں مختلف ریفریشر کورس شروع کروائے گئے ،مردوخواتین اہلکاروں کونشانہ بازی کی مشقیں کروائی جاتی رہیں۔تھانوں میں نیک شہرت والے ایس ایچ اوزتعینات کئے گئے ۔سات ماہ کے دوران لاہورپولیس کوسیاسی مداخلت سے پاک کرنے کاکریڈٹ بھی اشفاق احمدخان کوجاتا ہے ۔اشفاق احمدخان لاہور کیلئے بہت کچھ سوچ کرآئے تھے مگران کے کمانڈر شعیب دستگیر نے انہیں ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ کے منصب کیلئے موزوں سمجھا اوروہاں بھی اشفاق احمدخان اپنے پروفیشنل آئی جی شعیب دستگیر کے اعتماد پرپورااترے اورچھ ماہ کے دوران نہایت شفاف اندازمیں کانسٹیبل سے اوپرتک کے ہزاروں اہلکاروں کی ترقی کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے شعیب دستگیر کاخواب شرمندہ تعبیر کردیا ۔مدتوں تک ترقیوں سے محروم اہلکارترقی پانے کے بعد انتہائی پرجوش اورپراعتماد انداز میں اپنااپنا فرض منصبی انجام دے رہے ہیں۔شہداءپولیس کے سینکڑوں خاندانوں کیلئے بھی اشفاق احمدخان کسی مسیحا کی طرح آسانیاں پیداکرتے رہے ۔اشفاق احمدخان کی دوبارہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی حیثیت سے تقرری شہریوں ،اہلکاروں اورشہیدوں کے ورثا کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے۔اشفاق احمدخان سے پروفیشنل پولیس آفیسر انگلیوں پرگنے جاسکتے ہیں ،یقیناڈی آئی جی اشفاق احمدخان کو جس اعتماد کے ساتھ لاہورمیں دوبارہ تعینات کیا گیا ہے امید ہے انہیں اس تاریخی شہرمیں اپنی ترجیحات کی تکمیل کیلئے مناسب ٹائم فریم دیاجائے گا ۔اشفاق احمدخا ن ہرطرح کے حالات میں بھرپورانداز سے ڈیلیورکرنے والے آفیسر ہیں ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے