سوشل میڈیا اور ہم

تصویر کونسی تصویر معافی چاہتی ہوں میں تو کہانی بولنا چاھتی تھی کہانی ! کہانی کیا ہوتی ہے کہانی کچھ خاص نہیں ہے بس زندگی کے کچھ رخ ہیں اصل زندگی جو ہم جیتے ہیں محسوس کرتے ہیں انہیں ارد گرد پھلتے پھولتے دیکھتے ہیں وہی کہانیاں بن جاتی ہیں ہم ہمیشہ سے کہتے ہیں کہ یہ کتابی باتیں ہیں تم فلمی ڈائیلوگ مت بولو لیکن ہم ایسا کیوں کہتے ہیں کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ جو کچھ بھی کہانیوں میں لکھا جاتا ہے ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے یا فلم میں ایک رونمائے محبت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے یا اس کو تھورا بہت بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پہ لکھا جا تا ہے وہ سب وہی واقعات اور حالات ہوتے ہیں جو ہمارے ارد گرد رونما ہو رہے ہو تے ہیں موقع کی نزاکت کو دیکھے بغیر ہم لوگ روزانہ ایک کہانی پڑھتے ہیں ، لکھتے ہیں ، سوچتے ہیں اور نجانے کتنی کہانیاں بیان کرتے ہیں رکیے! میں ہر گز کسی رائیٹر کی بات نہیں کررہی میں بطور رائیٹر میں بطور لکھاری یہ نہیں کہہ رہی کہ یہ ایک مصنف کی بات ہو رہی ہے یہ اوطہر ، رائیٹر یا جس بھی زبان میں آپ اس کلا کو یا اس ٹیلنٹ کو پکارنا چاہتے ہیں اس کو پکاریں میں اس کی بات نہیں کر رہی میں عام زندگی کی بات کر رہی ہوں پہلے زمانوں میں کہا جاتا تھا کہ تصویر کہ دو رخ ہوتے ہیں ہمیں دونوں رخوں کو دیکھنا چاہیے لیکن یہ کونسا زما نہ ہے یہ کونسی صدی ہے میں حیران ہوں پریشان ہوں میں دیکھتی ہوں روزانہ یہ ایسی صدی ہے یہ وہ زمانہ آگیا ہے یہ وہ وقت چل رہا ہے جس میں ہم ایک نہیں دو نہیں ہم نجانے دس رخ پیش کرتے ہیں ایک ہی کہانی کے کبھی ایک پش کے نام پہ کبھی ایک تو کبھی دوسرے کی سایڈ کے نام پہ تو کبھی سکرین شوٹ کے نام پہ تو کبھی مسیجز کے ریکورڈ کے نام پہ کہیں ہم اپنی رائے بیان کرتے ہیں اور یہ کہاں ہو رہا ہے میرا خیال ہے میں جس طرف اشارہ کر رہی ہوں آپ وہ سمجھ رہے ہیں جی بلکل میں بات کر رہی ہوں سوشل میڈیا کی ہم کہیں سے بھی کوئی بھی پوسٹ کوئی بھی وڈیو اٹھاتے ہیں اس کو سوشل میڈیا پر رہجان دے دیا جاتا ہے یہ کونسا رہجان ہے جس سے بڑھاوا دے کر کسی کی پرسنل لائف وائرل ہو جا تی ہے میں یہاں کسی کی بھی سا ئیڈ لینے نہیں آئی مجھے بھی اس پر اعتراضات ہیں نہ ہی میں کسی کو ڈیفنڈ کر رہی ہوں میں تو صرف بات کر رہی ہوں ہماری نوجوان نسل کی ! کدھر کو جا رہی ہے انکے پورے دما غ اور ذہن کو ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے جکر لیا ہو جو سوشل میڈیا کہتا ہے یہ سنتے ہیں جو وہ دکھاتا ہے یہ دیکھتے ہیں اور ہر دن ان کی اسی ایک ہی چیز کو دیکھنے کے رخ بدل جا تے ہیں آجکل کی تروتازہ پچھلے دو ڈھائی ہفتوں سے بہت زیادہ پروان چڑھی خبریں تھی عظمیٰ خان اور عثمان ملک کی بیوی آمنہ ملک کون ہیں یہ لوگ کیا یہ آپکے بہن بھا ئی ہیں جو بھی ہیں اپنی زندگی میں ہیں لیکن آج ہم ان کے بارے میں اسی طرح چرچا کرتے ہیں جس طرح ہمیں شاید نہیں کرنی چاہیے ہمارا فرض نہیں بنتا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا پیغا م دے رہے ہیں کیا ہم ان کو یہ سیکھا رہے ہیں کہ تمہیں دوسروں پہ تنقید کرکے ہی چلنا ہے یہ انکی زندگی ہے ایک شوہر نے اپنی بیوی کے سا تھ بے وفا ئی کی اس کی بیوی نے تہش میں آکر کسی پر حملہ بھی کیا یا کسی کو دھمکی دینے کی بھی کو شش کی اور ایک لڑکی نے اپنے بچا ؤ میں جو کہ تھرڈ پا رٹی تھی جس کے بقول میں وہ بلکل الگ کہانی بن چکی ہے ۔ اسی طرح ایک اور کہا نی ابھی وہ کہانی ختم ہونے کو نہیں آ ئی تھی اس کا فیصلہ لوگوں نے اپنے اپنے لحا ظ سے اپنے اپنے تنزیے سے تجربے سے لیا کہ ہم نے ایک نئی کہانی شروع کردی شہروز سبزواری کی جی بلکل میں شہروز سبزواری ہی کی با ت کر ر ہی ہوں اس کہانی کا بھی ہماری زندگیوں پر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ہا ں کوئی چیز ڈیفنڈ نہیں کر سکتی میں کبھی نہیں کہہ رہی کہ گھر توڑنے والے مرد یا عورت غلط نہیں ؟ بلکہ میں اس پہ روشنی ڈال رہی ہوں کہ یہ تھرڈ پاڑٹی ہے تیسرا پہلوہیں ہمیشہ یاد رکھیں وہ تیسرے پہلو سے پہلے دو پہلویعنی میاں بیوی یا کوئی بھی رشتے میں بندھے دو افراد سب سے ذیادۂ معنی رکھتے ہیں تیسرے سے پہلے دو رخ پہ توجہ دینی چاہیئے جب رشتے میں بندھا انسان ہی رشتہ کے تقدس کو پامال کر گیا تو کسی اور سے گلہ شکوہ بیکار ہے لیکن یہاں میں ہرگز یہ نہیں کہ رہی کہ کسی دوسرے کی زندگی میں شامل ہو کر کسی کے گھر کو بربادی کے دیہانے پر لانے والا تیسرا فرد بری الذمہ ہےبہت زیادہ کہانیوں کے بہت سے رخ ہوتے ہیں میری سب سے صرف یہ گزارش ہےکہ استعمال کرتے ہو ئے تھوڑی احتیاط کریں!
اب ہے ایک اور کہا نی یہ تو تھی ملتی جلتی سلیبریٹیز کی کہا نیاں لیکن میں اب بات کرنا چا ہتی ہوں اس ایشو پہ کہ ہم نے اسی سوشل میڈیا پہ اور یہی ایک سوشل میڈیا کا نقصان نہیں اس کے فا ئدے بھی بہت ہے کنکشن بہت ہیں آوئیرنس پھیلاسکتے ہیں لیکن یہ کیا ہوا ہم آوئیرنس چلاتے رہے ڈاکٹرز چیخ چیخ کر بتاتے رہے اس کرونا کے اس قدر منفی پھر بھی ہم نے ڈاکٹرز پہ یقین نہیں کیا بلکہ ہم نے یقین کیا اپنی سوچ پہ او ر ادھر وائرل ہوئی وہ وڈیوز کسی نے کہا کہ ہم آٹھ لاکھ لیتے ہیں کسی نے اس پہ گا لیاں دینی شروع کردی کسی نے لعن طعن شروع کر دیا اور اب نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا کہ انہی وڈیوذ پہ ڈاکٹرز خود سے ڈیفنڈنگ ہوئے انہی وڈیوذ کو پورا بنا رہے ہیں ان کی وہی کہ یہ ہم سب کر تے ہیں یہ سب آہستہ آہستہ سب کے دما غوں میں ڈپریشن اور فرسٹریشن لے آئے گا ایک دوسرے پہ یقین کرنا چھوڑ دیں گیں یقین جو رشتوں کی زندگی جینے کی پہلی وجہ ہوتا ہے ہم وہ اگر چھوڑ گئے تو ہم لوگ دوبارہ نہیں کر پا ئیں گیں ہمیں یہ سیڑیاں عبور کرنی ہے ہمیں اس سب سے ہٹ کر سوچنا ہے آپ اپنی زندگی میں متوازن پیدا کریں سوشل میڈیا کی روح پر نہیں اسلام اور اپنے گھر والوں کے دیے ہوئے تجر بات کو شئیر کریں اپنی سوچ سے سوچیں نہ کہ دوسرے کی رائے پر عمل کریں زرا سا نہیں پورا سو چئے دھیان سے آج ہی سوچنا شروع کر دیجیے یہ نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جا ئے اﷲتعالیٰ ہم سب کے ہامی و ناصر ہو۔ خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو سوشل میڈیا پر پھیلے انتشار کا غلام نہ بننے دیں بلکہ انہیں خود سے صحیح اور غلط میں فرق سکھایئں اور اسلام کی رعشنی سے مدد لیں ۔صرف سکرین شوٹس ، چھوٹی سچی وڈیوذ اور کہی ان کہی کہانیوں پر بھروسہ کرکہ رشتوں کے تقدس اور خوبصورتی کو ختم نہ کریں ۔شکریہ!

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے