سب کا احتساب ضروری

عزیز دوستو ایک بات تو طے ہے
کہ جب تک ہم خود ہی ٹھیک نہیں ہونگے۔ اس وقت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ۔ہمیں اگر سب کچھ ٹھیک کرنا ہے۔تو شروعات خود سے کرنی پڑے گی ۔دل پر پتھر رکھ کر اور ہمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اندر سے تبدیلی لانا پڑے گی ۔اپنی سوچ میں اپنے عمل میں ورنہ ساری زندگی تبدیلی کا راگ الاپتے الاپتے اس کائنات سے گزر جائیں گے ۔کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچا کہ ہم لوگ ایسے کیوں ہیں ۔کیا ہمارے مفادات ایسے لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔جنہوں نے ملک خدا داد کو بے دردی سے لوٹا ترقی سے روکے رکھا۔مگر خود ترقی کرتے کرتے۔کئی کئی مربعے زمینوں کئی کئی شادی حال کے مالک بن گئے۔ اور سوئٹزر لینڈ کی بینکوں،اور لندن کے فیلٹوں تک پہنچ گے۔ کیا ہماری تواقعات ان لوگوں سے وابستہ ہیں جنہوں نے عام ادمی کو تو پسماندہ دی ،مگر اپنے بچوں کو لندن ،امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔ تو کیا ہم ان لوگوں کی شخصیت پرستی کی قید میں ہیں۔جن لوگوں کی وجہ سے غریب لوگوں کے بچے کچرے سے کھانا ڈھونڈ کر کھاتے ہیں ۔اور اکثر بھوکھے پیٹ ہی سوجاتے ہیں ۔۔مگر ان لوگوں کے کتے،گدھے، گھوڑے ،بادام ،شہد،کھاتے ہیں ۔ہمیں ان مظلوم لوگوں کے آنسو نظر کیوں نہیں اتے۔جو بھوک افلاس تنگدستی اور بے روزگاری سے تنگ اکر ایک روٹی چوری کرلے تو اسے ضمانت نہیں ملتی اور وہ کئی کئی سال جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑتے رہتے ہیں ۔اور اس کے مقابلے میں ایک امیر آدمی جس نے پورے ملک کو لوٹا ہو ۔اسے جیل کی کال کوٹھڑی سے بچایا جاتا ہے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں پاک فوج بھی ایک ادارہ ہے پاک فوج سے ہم بہت پیار کرتے ہیں ۔مشکل کی گھڑی ہو پوری عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ۔مگر پاک فوج میں ماضی اور حال میں ایسے لوگ بے نقاب ہوے ہیں جو ملک کے خلاف دشمنوں سے ملکر جاسوسی کے کام سرانجام دینے پر مامور رہے جنہیں خود پاک فوجی عدالتوں نے سزائے موت دی۔اس ادارے کے ایک ان فرد کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔ کوئی ادارہ یا فرد واحد یا کوئی خاندان قانون سے زیادہ طاقتور نہیں ہونا چاہیے ۔چاہیے وہ عام بندہ ہو یا کوئی طاقت ور سیاستدان ۔بیورو کریٹ ہو یا ایک جرنیل جس کو سزائے موت کی سزا سنادی گئی ہو۔ اور اس پر یہ ظلم کہ اس پر یہ ردے عمل ہو کہ اس کی سزا کلادم قرار دے دی جاے۔اور ایسے مجرم کو جس کو عدالت تاحیات نااہل قرار دے کر مجرم بھی ثابت کرچکی ہو اسے پچاس روپے کے اسٹام پر چھٹی والے دن ضمانت منظور کرکے ملک سے باہر بھیج دیا جاے
۔غریب ادمی وہ بریف کیس نہیں دے سکتا۔اور اپنے لیے انصاف نہیں خرید سکتا اس لیے اسے بھیانک سزا ملتی ہے ۔ انصاف کی دیوی نے ترازو اس لیے پکڑا ہوا ہے۔کہ ایک طرف رقم ڈالو دوسری طرف اپنی مرضی کا فیصلہ لو۔افسوس بے گنہاہ غریب ادمی کے لیے ثبوت بناے جاتےہیں۔اور گنگار امیر ادمی کے لیے ثبوت مٹاے جاتے ہیں ۔ اور پھر ان غریب انسانوں کی غریب اور مجبوریوں کو خرید کر اپنے حق میں نعرے لگواے جاتے ہیں۔ایک طرف ہم نعرہ لگاتے ہیں احتساب سب کے لیے۔ ان میں سیاست دان بیوروکریٹ اور فوج بھی شامل ہے۔جب احتساب کا وقت اتا ہے۔تب ہم مخالفت شروع کردیتے ہیں۔
ان ادروں اور ان کرپٹ لوگوں کو مقدس گاے سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ وہ کرپٹ ادارے اور کرپٹ لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوے ہیں ۔ ایک دوسرے کا فائدہ اٹھاتے بھی ہیں اور وقت انے پر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے بھی ہیں ۔
ہمارے ملک کا طاقتور طبقہ فوج بھی ہے ان کو بھی احتساب میں انا چاہیے۔ ہم خدا پرست کی بجاۓ، شخصیت پرست ہوچکےہیں۔ہم اپنی سوچ اور اپنی زبان کی بجاے ان کی سوچ سوچتے ہیں ۔ اوران کی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں ۔ہم غلط کو غلط اور صیح کو صیح نہیں کہ سکتے۔ہم خوشامد میں اس قدر اگے نکل جاتے ہیں ۔ کہ اپنی شخصیت کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ سچ ہے ۔”جوبیج بویا جائے گا اسی کی فصل کاٹےگا”ہم کب شخصیت پرستی کے حصار سے نکل کر پاکستان کے بارے میں سوچیں گے وہ پاکستان جو ہم سب کا گھر ہے ۔وہ پاکستان جس کی وجہ سے ہماری عزت ہے۔وہ پاکستان جو ہماری شناخت ہے۔ہم کب پاکستان کی ترقی عوام کی بھلائی اور اپنے بچوں کی ترقی اور فلاح کا سوچے گے۔۔ پلز اپ تمام سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر اس طرف تو سوچ کر دیکھیں اخر کب تک ان کرپٹ لوگوں کی کرپشن کا دفاع کرتے رہیں گے۔جنہوں نے ہمارا پیسہ لوٹ کر باہر تجوریاں بھر رکھی ہیں ۔یہاں غریب عوام دو وقت کی روٹی۔روزگار اور ایک چھت کے لیے ترس رہی ہے۔اور ان لوگوں نے اپنے کئی کئی محل بنا رکھے ہیں ۔شاید انھیں اس عذاب کی خبر نہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ۔یا ان لوگوں کو موت کا ڈر نہیں۔ کہ ان لوگوں نے مرنا ہی نہیں ۔یا پھر یہ اس دولت کے نشے میں مست ہیں۔کہ اللہ کو دولت دے کے خود کو بخشوا لیں گے۔۔یہ تووہ ظالم لوگ ہیں۔جو انصاف کے ساتھ بڑی صفائی سے نہ انصافی کرتے ہیں ۔یہ وہ ظالم لوگ ہیں جو سیاست کو عبادت کہ کرگنہاہ کماتےہیں۔ یہ وہ بے حس لوگ ہیں جو اپنے فائدے کے لئے لوگوں کو زندہ جلادیتے ہیں ۔یہ وہ ظالم لوگ ہیں جوغریب تک کا نوالہ تک چھین لیتے ہیں یہ ورہ ظالم لوگ ہیں جو یتیموں کا حق کھاجاتے ہیں ۔کسی مظلوم کی آہ و بکا تک سنائی نہیں دیتی ان کویہ بہرے بن جاتے ہیں ۔یہ وہ پتھر دل لوگ ہیں۔کہ بیمار کی ادویات تک گم کردیتے ہیں ۔دیہاڑی دار کی دیہاڑی کھاجاتے ہیں۔ یہاں ہر ادارے میں انسان نما گدھ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔جو انسان ہوکر انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں ۔انسانوں کے خواب ۔خوائیش،ارمان ، زندگی تک
ختم کردیتے ہیں ۔ہمارا ملک وہ بدقسمت ملک ہے یہاں انسان تو بہت نظر اتے ہیں مگر انسانیت بہت ہی کم نظر آتی ہے۔شرفا تو بہت ہیں ۔مگر شریف بہت کم نظر اتے ہیں ۔یہاں حاجی تو بہت ہیں ۔مگر ایماندار بہت نظر اتے کم ہیں یہاں دین دار تو بہت ہیں ۔مگر پرہیزگار بہت کم نظر اتے ہیں ۔یہاں تعلیم یافتہ تو بہت ہیں مگر شعور والے بہت کم نظر اتے ہیں۔ یہاں بولنے والے تو بہت ہیں مگر سچ بولنے والے بہت کم مقدار میں ہیں ۔یہاں مسلمان تو بہت ہیں ۔مگر سچے مسلمان بہت کم نظر ایئں گے ۔یہاں انصاف کا پرچار کرنے والے بہت ہیں ۔مگر انصاف دینے والے بہت کم ہیں ۔بات انصاف اور برابری کی ہے۔ ہمارے ملک کی ہے، یہاں پر ایک جرنیل سے لیکر وزیراعظم ایک بیوکرٹ سے لیکر کلرک تک سب جوابدہ ہونے چاہیے ،اگر میں کہیں کام کرتی ہوں میرے امدن سے زائد اثاثہ جات ہیں۔تو مجھے بھی اس کا حساب ضرور دینا چاہیے۔ اگر ہمارا دامن صاف ہے تو میں کیوں ڈرنا چاہیے۔ مجھے کیوں چھپنا چاہیے ۔ اور مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں اتی جب کوئی سیاست دان ۔بیورو کریٹ ۔جج جرنیل کرپشن کرتا ہے۔تو کیا وہ ہم سے مشورہ کرکے کرتا ہے۔یا ہمارے سامنے کرتا ہے تو ہم سے پوچھ کر نہیں کرتا اپنی نسلوں اورکئی انے والی نسلوں کے لیے سوچتا ہے ۔لیکن جب کبھی اس سے اس کے اثاثہ جات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ اس کا حساب اس سے مانگا جاتا ہے ۔تو ہم لوگ کیوں ان کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے اگے اجاتے ہیں ۔ کیا جو لوگ ان کی کرپشن کا دفاع کررہے ہوتے ہیں۔ وہ بھی ان جیسے ہوتے ہیں ؟ یا وہ بھی ان کی کرپشن میں حصہ دار ہوتے ہیں ؟ ۔یا پھر ان کو دیہاڑی دار مزدور کے طور پر ملازم رکھا جاتا ہے؟ جب ہم کہتے ہیں کرپشن سے پاک پاکستان ۔ تو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے ۔چاہیے وہ کمزور طبقہ ہو یا طاقت ور طبقہ سب کو یکساں برابری کی سطح پر انصاف حاصل ہو۔تو پھر جب کسی کمزور طبقہ پر قانون کی گرفت پڑتی ہے۔ تو ہم سب خاموش تماشائی کیوں بنے ہوتے ہیں۔اس وقت ہماری انسانیت کیوں نہیں جاگتی۔ہماری انسانیت اور ہمدردیاں صرف مخصوص طبقے کے لیے کیوں ہوتی ہیں؟ ۔جب کوئی غریب ادمی کسی چھوٹے سے جرم میں پکڑا جاے تب تو ہم کہتے ہیں۔ جس نے جوجرم کیا وہ بھگتے ۔لیکن جب کسی پیسے والے پر قانون ہاتھ ڈالتا ہے ۔تب ہماری اس سے پہلے کیوں چیخیں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔اس کو بے گنہاہ اور معصوم ثابت کرنے کی ہمارے پاس ایک ہزار دلیلیں نکل کر آرہی ہوتی ہیں۔ ہم غضبناک ہوے محاظ سنبھالے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہمارا دن کاچین رات کا سکون سب ختم ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے سامنے سب کچھ عیاں ہوتا ہے ۔ اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ خدا کے لیے دوغلے پن سے چھٹکارا پاو اپنا نقاب اتارو ۔ اپنی آنکھیں کھولو اپنے اندر جھانکو۔رزق۔عزت۔ زندگی اور موت دینے والا میرا رب رحیم ہے۔ اس پر بھروسہ اور توکل کرو ۔اپنے ضمیر کی آواز سنو ۔کل کو اپ نے اپنے خدا کے حضور جانا ہے اپنے کیے کا جوابدے ہونا ہے۔کسی کے لیے اپنی قبر مت خراب کرو اپ نے اپنی قبر میں جانا ہے ۔اپنے اپنے کیے کا حساب دیناہے۔اپ نے ان پیسوں والوں کا حساب نہیں دینا ۔اور نہ ہی قیامت کے دن پیسے والے اکر اپ کے حق میں گواہی دیں گے ۔نہ ہی ان لوگوں نے خدا سے اپ کے لیے سفارش کرنی ہے ۔ یہ تو سب گمہراہ ہوچکے ۔تم ہی بعض اجاو خدا کےدیے ہوے راستے پر چلو۔خدا کے لیے جس نے جو جو جرم کیا ہے ان کو خود کو حساب دینے دو ۔اگر وہ بے قصور ہونگے ۔تو باعزت بری ہونگے۔اگر وہ گنہگار ثابت ہوے تو اپنے حصے کی سزا بھگتےگے۔اللہ اللہ خیر صلہ ۔ ان لوگوں کو خود بولنے دو۔اپ ان کی زبان مت بنو۔ان لوگوں کو اپنا کندھا مت استعمال کرنے دو۔ وہ اپنا حساب خود دیں ہم لوگ کیوں ان کا ایدھن بنیں۔ان کو احتساب سے بچاتے ر ہیں ۔۔اس لیے یہاں کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہوسکتا ۔جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہونگے ۔پھر امید بھی رکھتے ہیں۔یہاں پر سب ٹھیک ہو۔اس طرح تو کبھی قیامت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ رہے جاے گی ہمارے ساتھ تو ہماری رسوائی۔۔۔

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے