جام پور وگردنواح میں تمباکو پیسنے کے سکوٹے عوام کیلئے وبال جان

(تحریر کائنات ملک )
جام پور تحصیل میں لاکھوں ایکڑر قبہ پر کاشت کی جانے والی تمباکو کی فصل علاقائی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔اور اس کے کاروبار سے مقامی کاشتکار ، زمیندار، دوکاندار، سکوٹہ مالکان ، مزدور ، کھاد اور زرعی ادویات سمیت لاکھوں لوگوں کا روزگار وا بستہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کاروبار سے 27ارب روپے کا مارکیٹ میں لین دین ہوتا ہے۔ جام پور میں تمباکو کی فصل پچھلے 70سالوں سے کاشت کی جارہی ہے۔مگر آج تک کسی ادارے نے اسے مضرِ صحت قرار ۔
نہیں دیا۔تمباکو کی فصل کاشت کرنے سے پہلے درج زیل باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔1۔تمباکو کے بیج کو بوائی سے پہلے تیزدھوپ میں اچھی طرح خشک کیا جاتا ہے 2۔کاشت ہونے والی زمین کو اچھی طرح سے ہل چلا کر بالکل نرم کیا جاتاہے اور زمین کو اچھی طرح دھوپ لگوا کر خشک کی جاتی ہے 3۔ تمباکو کی پنیری لگاتے وقت پودوں کے درمیان فاصلے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ تاکہ فصل میں اگ انے والی جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے میں آسانی رہے ۔اس سلسلے میں تین سے چار فٹ چوڑائی آٹھ سے بارہ فٹ لمبائی تک کا فاصلہ رکھا جاتا ہے ۔تمباکو کی پنیری کو ایک سے دو دن کے وقفے سے بویا جاتا ہے۔تمباکو کی پنیری دس اکتوبر سے دس نومبر تک بوائی جاتی ہے۔اور اس کی کاشت پندرہ جنوری تک مکمل کی جاتی ہے۔تمباکو کی تیار کھڑی فصل ساٹھ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی بیگہ کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پیسا ہوا تمباکو پانچ ہزار سے آٹھ ہزار روپے فی من بکتا ہے اور اس کی ردی ایک ہزار سے پندرہ سوروپے فی من فروخت کی
جاتی ہے۔ اس تمباکو کے خریدار بلوچستان اور کے پی کے سے اتے ہیں ۔ اس وقت جام پور میں 100 کے قریب تمباکو کے سکوٹے غیر قانونی طور پر موجود ہیں ۔جام پور شہر ڈیرہ روڈ ۔چوٹی روڈ داجل روڈ ،راجن پور روڈ ، وگرد ونواح میں قائم تمباکو کے سکوٹہ عوام کے لئے وبال جان بن گئے ہیں جن کی گرد سے پورے علاقے کی فضاء الودہ ہوجاتی ہے اور تعفن سے سینکڑوں شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف اقسام کی بیماریاں پھیل چکی ہیں جن میں کینسر ،گلے،ناک۔ آنکھ
سانس، ٹی بی ،دمہ ،پھیپھڑوں، الرجی، گردوں ہیپاٹائٹس سی، بی جلد کے امراض کی بیماریاں شامل ہیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ان بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تمباکو کی کاشت سے زیر زمین پینے کا میٹھا پانی خراب اور زہریلہ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ غازی چوک سے جام پور پائی پاس تک سفر کرنا ناممکن بن چکاہے ۔ روزانہ درجنوں مسافروں کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔ محکمہ ماحولیات کے افسران اور ضلعی انتظامیہ، تحصیل انتظامیہ، نے ماہانہ لاکھوں کی مبینہ منتھلی کے عوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ وہ ان تمباکو کے سکوٹہ جات کو آبادی سے باہر منتقل کراے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے کر ان موذی بیماریوں سے بچ سکیں۔۔

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے