گدھے کی بے ہنگم اواز۔ کامران رضوی

اللہ سلامت رکھے مہاجروں کو اپ
لوگ بھی سطحی بےضمیر اور کم ظرف لوگوں کی بات کا جواب دینے کی بات کہے رہۓ ہیں میرا قلم تو اٹھتا نہیں لیکن اسکا جواب میرے دوست ڈاکٹر ندیم رضوی نے دیا تو ندیم بھاٸ اپ جواب دو لیکن ان کم ظرف افراد کو راجہ داہر سے مت ملاو ۔ یہاں رہ کر تو اب ہماری اردو بھی اردو عام نہیں عامیانہ اردو ہوگٸ ہے اس لیے ہمت کر کے لکھ رہا ہوں کے گلی کے ٹچے کسی ٹھیلے پہ ناٸ کی دوکان پہ اب بھی اکثر نظر اتے ہیں تو اپ لوگ یقین کریں وہاں سے نکلنا ایسا ہوجاتا ہے کے جیسے اس پہ نظر پڑی اور وضوع ٹوٹا اس قسم کے ٹھرکی سرکی 1970 کے بعد انا شروع ہوگۓ تھے حالانکہ یہ اندورن سندھ میں اج بھی جہاں جہاں رہتے ہیں وہاں جب انہیں چوری چکاری قتل و غارت پہ سزا گاوں چھوڑنے کی ملی اور یہ چور اچکے پردیسی ہوے کراچی تو انکے لیے اج بھی سونے کا انڈا دینے والا ملک ہے یہ ٹھرکی سرکی کہتے ہیں کے کراچی تمھارے باپ کا ہے یا تمھاری ماں جہیز میں لاٸ تھی اوقات کا پتہ دے دیا ٹھرکی سرکی نے ھم ان سے بات کرنا ہی توہین سمجھتے ہیں مہاجروں کی ہاں جو بات کرنے کا ڈھنگ ہے اسطرح بات کر لیتے ہیں

راجا داہر اب سے 1200 1300 سال پہلے سندھ کا بادشاہ تھا ہم سیدوں نے حجاج بن یوسف کے قتل و غارت اور پاک بیبیوں کو اسکے شر سے بچانے کے لیے سندھ ہجرت کی عبداللہ شاہ غازی اور بی بی پاک دامن سے کون واقف نہیں راجہ داہر نے سیدوں کو پناہ دی وہ ظالم حجاج بن یوسف کے مظالم کو جانتا تھا مولا علی کے خلاف زہر کی پڑیا کا حجاج بن یوسف کا کردار راجہ داہر کے علم میں تھا وہ برہمن تھا اور برہمنوں کی بستی برہمن اباد میں رہتا تھا یہ جو اج سندھڑی کاعلاقہ ہے جہاں جونیجو اباد ہیں یہ تھا برہمن اباد راجہ داہر نے جب سیدوں کو پناہ دی تو حجاج بن یوسف تلملا اٹھا اور اس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے یہ انوکھی شرط رکھی کہ جو شخص سیدوں کو سندھ سے راجا داہر سے چھین کر لاٸیگا اسکی شادی اس شخص سے کردی جاٸیگی بن قاسم جو یہاں کچھ لوگوں کا ہیرو ہے وہ ضرور پڑھیں بن قاسم کی نظر تھی ہی اسکی بیٹی پر اور وہ جنگ کے لیے سندھ ایا اور انے کے بعد پہلا منفی پروپگنڈا جو کیا وہ راجہ داہر کی سگی بہن سے شادی کا تھا کامن سینس کی بات ہے کے راجہ داہر سیدوں کو پناہ دے رہا ہے بن قاسم اور حجاج بن یوسف سے جنگ کی تیاریاں بھی شروع کر دیتا ہے وہ عام ادمی تو تھا نہیں بادشاہ تھا وہ حرکت کیوں کریگا جسکی اجازت نہ تو ہندو عقیدہ دیتا ہے نہ ہندوانی معاشرہ پھر اسوقت جاٸداد کی تقسیم میں بھی عورت کا کوٸ کردار نہیں تھا تو راجہ داہر ایسا کیوں کرتا۔ہندو عقیدہ حضرت ابراھیم کے زمانے سے یا اس سے پہلے سے چل رہا ہے اور معاشرے میں اپنے مقام یا اپنے عقیدے کو اللہ کے نظام سے اوپر رکھنے کی خواہش انکی کیا ہر مذہب اور عقیدے والوں کی ہوتی تھی لیکن ناکام رہتے تھے اور ناکام رہتے ہیں موسیٰ علیہ سلام کے دور میں خود موسیٰ نے جو شادیاں کیں وہ دو سگی بہنوں سے ہے اور دونوں بیٹیاں پیغمبر کی تھیں انہوں نے موسیٰ سے کہا تھا کہ اج سے یہ بڑی بیٹی تمھاری بس تم 12 سال تک کنویں سے پانی لاو اور تم کامیاب ہوگۓ تو 12 سال بعد یہ دوسری بیٹی بھی تمھاری وہ دونوں سگی بہنیں تھیں موسیٰ علیہ سلام کی نہیں۔ معاشرہ ایک ہی رہا ہے اج ہندوعقیدہ یا ہندو مذہب میں بہنیں چچا تایا کی بیٹیاں بھی ہوتی ہیں اور خالا اور ماموں کی بھی اسلام سے ایک ہاتھ اگے رکھنے کی کوشش ہے اور ایسا ہی راجہ داہر کے دور میں بھی تھا سگی بہن قابل عزت تھی جبکہ بن قاسم عربوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو عورت کے گرد گھومتا تھا اور پھر انجام بھی ویسا ہی ہوا حجاج بن یوسف کی بیٹی نے حکم جاری کیا کے بن قاسم کو قالین میں لپیٹ کر بھیجو اور بن قاسم کو قالین میں لپیٹ کر ہی بھیجا گیا ایک اور بات یاد اگٸ حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک وفد سندھ کو دیکھنے ایا سوچ سندھ کو فتح کرنے کی تھی ساتھ رکنی وفد نے کچھ وقت سندھ میں گزارا اور پھر ایک خط حضرت عمر کو روانہ کیا کے سندھ کا پانی گدلا ھے کھجور سخت ہیں اور کوٸ ذاٸقہ نہیں جبکہ ادمی کاہل ہیں اور پیچھے سے حملہ کرتے ہیں تو ندیم رضوی بھاٸ راجہ داہر کے خلاف بن قاسم کے پروپگنڈے کو ترک کریں یہ جو بھی ٹھرکی سرکی ہے یا مگسی بھٹو یا جی ایم سید یہ سندھی نہیں راجہ داہر کے دور سے اب تک پانچ سندھی قبیلے ہیں کھوڑو کلھوڑو سموں جونیجو پانچواں معزرت ذہن سے نکل گیا ہے تو ان پانچ سندھی قبیلوں نے کبھی انسانوں کی ہجرت کا برا نہیں منایا ہمیشہ عزت دی یہ جتنے لوگ بھی یا جعلی سندھی رہنما بنتے ہیں ان میں بلوچ سراٸیکی پٹھان عربی اور کچھ نۓ مسلمان ہیں جو گجراتی ہندو سے مسلم ہوے جیسے بھٹو

اب یہ جو گدھے کی بے ہنگم اواز میں شور مچا رہے ہو اپ مہاجر دیکھ لیں مقامی سندھی نہیں وہی چور اچکے ہیں جو خاموشی سے ادھر ادھر جھانک کر شفٹ ہوتے رہۓ لیکن ان میں جونیجو سموں کھوڑو اور کلھوڑو دستیاب نہیں ان چور اچکوں کو نہ تعلیم نہ نوکری کسی چیز سے دلچسپی نہیں یہ نوکریاں بھی بیچتے ہیں اور تعلیم بھی اپنا قد بڑھانے کے لیے کبھی پختون برا کبھی پنجابی نہیں تو مہاجر تو ہے ہی اور جب تم ناپاک نا مراد لوگ الٹی سیدھی بکواس کروگے تو اب 1970 نہیں اب مہاجر تمہیں اتنا دوڑاٸینگے اتنا دوڑاٸینگے کے دوڑتے دوڑتے سو پیاز بھی کھاوگے اور سو جوتے بھی اسوقت پوچھ لینا کہ کراچی کس کے باپ کا ہے ہر بچہ جوتا ہاتھ میں لیکر تمہیں جواب دیگا تمھاری تسلی ہونے تک

اک بات مہاجروں اپ سے یہ وطن پاکستان اور یہ شہر کراچی اپکا ہے پرانی ابادی بلوچوں کی ہے جن سے کبھی بھی کہیں بھی بات کر لینگے وہ ہمارے لیے مسلہ نہیں اور یہ جو غیر سندھی ہیں اندرون سندھ کے ان سے شہری سندھ کو چھڑانا ھے اب یہ معملا انکا ہے غیر سندھیوں کا وہ راضی خوشی پیچھے ہٹتے ہیں بات کرنے سے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں کسی بات پہ اب کوٸ اعتراض نہیں خود پیچھے ہٹوگے تو ادھا سندھ تمھارا ادھا ہمارا بات چیت کر کے ہٹوگے تو 70 % ہمارا 30 % تمھارا اور غنڈہ گردی کی چھینٹ بھی تم نے ماری توکشمور تک جا کر فتح کی اخری کیل ٹھونکینگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About ویب ڈیسک

Check Also

سابق ڈی سی ویسٹ اور اس کے دست راست کے خلاف انکوائری شروع۔

سابق ڈی سی ویسٹ فیاض سولنگی کے بعد دست راست بھی انکوائریوں کی زدمیں نیب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے