انصاف کی دہائی

سانحہ ساہیوال کے بچوں کو اور نقیب اللہ محسود کو انصاف نہیں ملا ۔پی آئی اے کی تباہ ہونے والی پرواز کے شہید ہو جانے والے مسافروں کو بھی انصاف نہیں ملے گا۔ کبھی بھی انصاف نہیں ملے گا کہ ان حادثات کے پیچھے طاقت ور طبقہ ملوث ہوتا ہے۔اشک سوئی کیلئے اپنے ماتحتوں پر مشتمل انکواری کمیٹی سارا قصور پرندوں اور پائلٹ پر ڈال دے گی اور اس سانحہ کو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دبا دیا جائے گا۔ اور لوگوں کو چپ کرانے کے لیے فرضی کہانیاں سنائی جائیں گی ۔ کیا پالیسی میکرز نے اپنے بچاو کے لیے تمام پالیساں بنارکھی ہیں جس سے وہ صاف صاف بچ نکلتے ہیں اور قانون بھی آنکھوں پر سیاہ پٹی ڈال کر اندھا ہو جاتا ہے ۔ کسی معاملہ میں کوئی با اثر شخص پکڑا جائے تو پہلی کوشش اسے صاف بچانے کی ہوتی ہے ۔پھر مظلوم کو صلح پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر دھونس اور ریاستی طاقت کے استمال سے جبرا معاملہ کلیر کر لیا جاتا ہے ۔ فیصلہ سو فیصد با اثر کے حق میں کراکر اپنی وفاداری کا ثبوت دیا جاتا ہے۔شاید انہیں اس کام کے کرنےسے بھاری بھرکم معاوضہ ملنے اوراپنی پرموشن کی بھی امید ہوتی ہے۔ طاقتور طبقہ انہیں یہ مراعات دیتا بھی ہے۔ کوئی جانی یامالی حادثہ غریب طبقے کے لوگوں کو پیش آجائے تو ورثاء ساری عمر قانون کے دروازے پر دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔کمزور طبقے کے خلاف ہونے والے سانحے کے گواہوں اور ثبوتوں کو مٹاکر ان کو کمزور کیا جاتا ہے اور عدالت بغیر ثبوت کے کوئی فیصلہ نہیں کرتی اور متاثرین کو عدم ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر انصاف نہیں ملتا اور ان لوگوں کو نا۔انصافی کی دلدل میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ کمزور غریب طبقے کے حق میں کوئی اپنی اواز بلند نہیں کرتا سواےانسانی حقوق کی نمائندہ تنظیموں اور میڈیا کہ وہ بھی صرف اس وقت کے سانحے پر بریکنگ نیوز بنانےکے سوا۔ ہمارے ملک میں ایسی مثالیں زندہ موجود ہیں جن میں سانحہ ماڈل ٹاون لاہور17 جون 2014 پنجاب پولیس کی فائرنگ سے خواتین سمیت 4ا افراد ہلاک 90سے زائد زخمی ہوئے ۔اس سانحہ پر جن افسران کے نام لئے گئے تھے ان میں سے ایک پنجاب کا چیف سیکرٹری بنا دیا گیا ہے اور باقی افسران بھی اعلی عہدوں پر برقرار ہیں ۔عمران خان اور طاہر القادری کیا اس سانحہ کو سیاست کیلئے استمال کر رہے تھے ؟ کیا فائرنگ کا واقعہ نواز شریف حکومت کے خلاف سازش تھا ۔11 ستمبر2012 اورسانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کراچی میں اگ لگنےسے 259 افراد زندہ ہلاک ہوگئے تھے۔ شہیدوں کو اج تک انصاف نہیں ملا۔۔19 جنوری 2019سانحہ ساہیوال ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نےگاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 2افراد ہلاک ہوگے۔اس طرح۔
31اکتوبر2019میں ضلع رحیم یار خان میں ایک مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئےاور اس حادثے کو سیکورٹی کی کوتاہی کرار دے دیا گیا ۔
اس طرح سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس 18 فروری 2007کو بھی 13سال بیت گئے مگرمتاثر ین کو انصاف نہیں ملا۔اور 24 اپریل کو ہم ان تمام حادثوں کی یاد میں ان لوگوں کے انصاف کے حصول کے لیے پاکستان کے سماجی ورکر ان مظلوم لوگوں کی اواز بنتے ہیں اور متحد ہونے کا عہد کرتے ہیں تاکہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی یاد میں انسانی زندگیوں کا استحصال اور برباد کرنے والی بین الاقوامی کارپوریشنوں کے منفی اثرات کی مذمت کرتے ہیں۔اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ان حادثات سانحات سے بے فکراپنی بنائی ہوئی بالیسوں کی بدولت مستثنیٰ سے حاصل شدہ مزے سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

سوشل میڈیا اور ہم

تصویر کونسی تصویر معافی چاہتی ہوں میں تو کہانی بولنا چاھتی تھی کہانی ! کہانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے