کائنات ملک صاحبہ پرعزم صحافی اور شاعرہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادباء اور شعراء کا تعارفی سلسلہ

تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وطن عزیز میں کسی بھی شعبے سے کسی بھی خاتون کا وابستہ ہونا خواتین کے لئے کتنے مسائل اور مشکلات کا باعث بنتا ہے یہ صرف ان خواتین کو ہی معلوم ہے کہ جو اعلی اور ارفع عزم لے کر خارزار اور پرخطر راستوں پر چل پڑتی ہیں اور ہر طرح کی مشکلات کا ہمت، صبر اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں ۔ م لک کی نامور صحافی اور شاعرہ محترمہ کائنات ملک صاحبہ کا شمار بھی ایسی ہی باہمت اور بہادر خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف سفر کو جاری رکھا ہوا ہے ۔
کائنات ملک صاحبہ 7 جولائی 1978 کو جام پور ضلع راجن پور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ملک اللہ بچایا ہے ۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ 2 بچوں، لاریب کائنات اور ارج خان کی ” جنت اور کل کائنات ” ہیں ۔ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے تاہم اردو اور پنجابی زبان روانی کے ساتھ بولتی ہیں۔ شاعری کا شوق انہیں چوتھی جماعت میں رسالے پڑھتے ہوئے پیدا ہوا جبکہ 1990 سے انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا ۔وہ اردو اور سرائیکی زبانوں میں شاعری کرتی ہیں ۔ ان کی پسندیدہ صنف نظم ہے اس لیے زیادہ تر اسی صنف میں مشق سخن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے خیالات میں پختگی اور معاشرتی مسائل خاص طور پر پر خواتین اور بے بس اور مجبور عوام کی حالت زار ان کے سامنے ہے ۔ انہوں نے خواتین اور بے بس اور مجبور عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام میں شعور و آگہی کی غرض سے صحافت اور شاعری کو اپنا موثر ہتھیار بنا لیا ہے ۔
کائنات ملک صاحبہ نے اپنی صحافت کا آغاز روزنامہ سنگ میل ملتان کی کرائم رپورٹر سے کیا جس کے بعد انہوں نے روزنامہ نیا دور ملتان کی لیڈی رپورٹر قومی سوچ ڈیرہ غازی خان کی سب ایڈیٹر کام کیا اور اس وقت وہ جمال جہاں راجن پور کی چیف ایڈیٹر روزنامہ مرکز ہارٹ لائن اسلام آباد کی بیورو چیف پی ٹی وی نیوز راجن پور کی لیڈی رپورٹر، وسیب ٹی وی کی سی ای او اور سرائیکستان ٹی وی کی اینکر اور چیف میڈیا کو آرڈینیٹر فورتھ پیلر میڈیا واچ ڈاگ یو ایس اے کی حیثیت سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ایسے ایسے مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہیں جن کی طرف عام طور پر کوئی ادیب، صحافی، شاعر یا ادارہ توجہ نہیں دیتا یا ان کو اہمیت ہی نہیں دیتے ۔ مثال کے طور پر پاکستان میں خواجہ سرا ایک فطری خوشیوں و خواہشات اور انسان کے ناطے اپنے جائز اور بنیادی حقوق سے محروم اور مظلوم طبقہ ہے ۔ پاکستان کے 2 سابق چیف جسٹس صاحبان جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ثاقب نثار صاحب نے خواجہ سراؤں کے مسائل پر خصوصی توجہ دی اور افتخار محمد چوہدری صاحب نے ان کے لیے قانون سازی بھی کروائی مگر ان پر عمل درآمد کی توفیق شاید ہی کسی کو ہو رہی ہو ۔ کائنات صاحبہ نے اسی مظلوم اور محروم طبقے اور تیسری جنس خواجہ سراؤں کے مسائل پر تحقیق کی اور ان کے مسائل اور مشکلات کو حل کرانے کے لئے بھرپور کوششیں کیں اور اسی طرح وہ دیگر عوامی مسائل پر بھی لکھتی رہتی ہیں اور شاعری میں بھی ان کو اپنا موضوع بناتی ہیں ۔ الیکشن کے دوران ہمارے اکثر سیاستدان جس طرح عوام کو ووٹ پر آمادہ کرنے کے لئے سبز باغ دکھا کر بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بھی انہوں نے اپنی ایک نظم کا موضوع بنایا ہے ۔ 2002 میں ” رنگ کائنات ” کے نام سے ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ شایع ہوا ہے ۔ یہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ ملک کے ممتاز ادیب و شاعر، صحافی، کالم نگار اور دانشور منو بھائی نے ان کی کتاب پر خصوصی طور پر تبصرہ کیا ہے ۔ اپنے تبصرے میں منو بھائی لکھتے ہیں کہ ” اس شاعری میں کائنات ملک ابھی اپنے وجود کی تلاش میں ہے مگر اس کی سمت بہت واضح ہے کہ وہ پہلے اپنے وجود کو منوانے کا فرض ادا کر رہی ہے جو کہ مردوں کی محتاجی کے اس نظام میں بہت ضروری ہے ۔ اپنے وجود کو منوانے کے فرائض سے سبکدوش ہونے کے بعد کائنات کے کچے رنگوں کے پختہ ہونے کی امید ان کی شاعری میں یقین کی منزل کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے ۔”
بحیثیت عورت صحافی اور شاعرہ کے سماجی رویوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہر قدم پر میری حوصلہ شکنی کی گئی بہت مشکلات پیدا کی گئیں اور کئی طرح کی باتیں سننا پڑیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود میں اپنی صحافتی کیریئر سے سو فیصد مطمئن ہوں لیکن شاعری میں خود کو ایک طالب علم سمجھتی ہوں ۔کائنات کی شاعری ملک کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ مشاعروں کے بارے میں میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی روایت ہے مشاعروں کے انعقاد سے ادب کو فروغ دینے اور نئے شعراء کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور اپنی فنی کمزوریوں کو دور کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ موجودہ ادبی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آجکل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے ماضی کا ادب زوال پذیر ہو رہا ہے لوگوں کی مطالعے اور کتب بینی کے بجائے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے زیادہ دلچسپی ہے ۔ پسندیدہ شعراء کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہیں ۔

کائنات ملک صاحبہ کی شاعری سے کچھ انتخاب قارئین کی نذر

۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سے پیار مت کرنا کہا تھا
کبھی ان کا انتظار مت کرنا

دل کی بستی اجڑ جائے گی ناں
زندگی سولہ سنگار مت کرنا

ازل سے زمانہ دشمن محبت کا
کہا تھا کہ اس پر اعتبار مت کرنا

سنگ دل محبوب کے سامنے کہا تھا
نادان دل محبت کا اظہار مت کرنا

بات چھپی تھی لاکھوں کی تھی
کہا تھا لوگوں کے سامنے اقرار مت کرنا

اب اس کھیل میں کود پڑے ہو تو
” کائنات ” کو کائنات میں شرمسار مت کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باتوں سے مہکتے گلاب سارے
دیکھتے ہیں کھلتے شباب سارے

باتیں کریں تو زندگی بدل دیں
سوالوں کے ہیں جواب سارے

دکھا کر سبز باغ لوگوں کو یہ
ہیں سیاستدان سراب سارے

بڑی شوخی بکھیریں الیکشن میں
کمپین میں بولیں بے حساب سارے

جھوٹ، کرپشن، رشوت، منشور ان کا
یہ ہیں بس خانہ خراب سارے

تن دن کے اجلے من کے کالے
خود کو سمجھنے ہیں نواب سارے

بتاوں کس نے کتنی کرپشن کی ہے
اب ” کائنات ” کو دیں حساب سارے

کائنات ملک

About ویب ڈیسک

Check Also

تباہی پھیلانے والا پانی اب خوشحالی لائے گا ۔۔

راجن پورپنجاب کا آخری ضلع ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے