عوام کب تک چپ رہیے

کامران رضوی
۔

عوام کی سازشی تھیوریوں نے کورونا واٸرس کو وبا سے سیاسی کر دیا ورنہ ہمارے وفاقی و صوباٸ حکمراں کورونا واٸرس سے بااسانی نمٹ لیتے ہیٹ ویو اور ڈینگی سے اسی وقت سمیٹ کر ڈسٹ بن کی نظر کردیا تھا اب نہ تو ہیٹ ویو ہے نہ ڈینگی ہاں اب یہ یہ الگ بات ہے کے وفاق سے عمران خان نیازی لاک ڈاون کے حق میں ابتدا سے نہ تھے جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ پہلے دن سے لاک ڈاون کے حق میں ہیں خیر اصل حقیقت اتنی ھے کہ سندھ میں پڑنے والی مارچ کے مہینے سے گرمی میں کورونا واٸرس تو کیا اس کے ابا بھی نہیں ٹھیرتے انتہا دیکھیں کے مارچ کے اخری دس دنوں میں یہاں ہیٹ ویو آ پہنچا لیکن کورونا اپنی جگہ پہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ پھلا پھولا بھی اور اج بھی بھرپور انگڑاٸیاں لیتا نظر آ رہا ہے
مولویوں سے بھرپور اختلاف کے باوجود کورونا کے معاملے میں میں کسی حد تک مولویوں کے ساتھ رہا کیونکہ کورونا سرد ملکوں کا مسلہ تھا اسکا عرب کی گرمی میں کیا کام لیکن سعودیا کورونا کے سہارے اپنے داخلی معاملات کو درست کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اب کورونا کو آپ A,B,C کا نام دو یا اسے Z تک لے جاو کورونا ہمارا معاملا تھا نہیں لیکن ڈالر بہت اچھی چیز ہوتی ہے ایمان بدلوا دے تو ایک وبا کیا تو عوام کی سازشی تھیوری کو تو فیل ھونا ہی تھا حالانکہ عوام اپنی جگہ درست ہے کہ یہ کورونا غریب عوام کے لیے ھے اسکا امیروں میں کیا کام 400 گز کا سب سے چھوٹا گھر اور بڑے تک جاو تو ہزاروں گز کا محل بھی انکا اور غریب بیچارہ 40 گز سے گھر شروع ھوتا ھے اور 120 گز تک اسکی اوقات ھوتی ھے پھر مجمع بھی گھر کے افراد کہلاتے ہیں بات ہو رہی تھی عوام کی سازشی تھیوری کی تو عوام کو جب اپ جگہ دینگے تب عوام بولے گی لیکن یہاں عوام کی سنتا کون ھے سوشل میڈیا نے ملک کے شہریوں کو اور بلخصوص کراچی اور لاہور کے شہریوں کو بہت فاسٹ کر دیا ھے پاکستان اور سندھ میں ھونیوالا لاک ڈاون شہریوں کے لیے ایک تماشہ سے کم نہیں ہے لاک ڈاون میں سبزی گوشت پھل پرچون شاپس میڈیکل اسٹور پہ پانچ یا تین بجے سپہر تک ازادی سے جانا کیا کورونا کی دعوت عام تھی سندھ حکومت اور وفاق کی لڑاٸ بھی عوام سے ڈھکی چھپی تو نہیں تھی ستم پہ ستم تاجروں کے دباو پر سندھ حکومت اور وفاق نے بےحسی کا مظاہرہ کیا اور بازار کھولنے پڑے اور کورونا جو سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق کا بھی لاڈلا ھے اسے بھرپور موقع فراہم کیا تو عوام تو بولیگی سپریم کورٹ بھی حکومتوں سے نالاں ہے ہم شہری لاک ڈاون کو امریکی طرز کا سمجھتے ہیں جبکہ ہم ایک غریب ملک ہیں بھکاری ملک ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ ہم گھر سے فون کرینگے اور چیزیں گھر پر ظاہر ہے یہاں ایسا کچھ نہیں یہ پورا ملک ھے کراچی اور لاہور ملک نہیں یہاں لاڑکانہ بھی ہے جہاں گٹر کا پانی گلی گلی ھے یہاں جھنگ بھی ہے جو لاہور نہیں یہاں پنجگور بھی ہے جہاں لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کرسکتیں یہاں ٹیری بھی ہے جہاں اج بھی شام چھے بجے کے بعد تالاب پر نہیں جا سکتے اغوا ھونے کا ڈر رہتا ھے وہاں لاک ڈاون کے نام پہ حکومتی تماشہ ہی ھوسکتا ھے لاک ڈاون نہیں اب اصل تماشہ عید بعد ھوگا جب کورونا اور عوام امنے سامنے ھونگے ویسے اس سڑی گرمی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کورونا

اسلام اباد والے سندھ سے کسی قبر کی تلاش میں ہیں اوہ معاف کیجیے گا قبر نہیں خبر کی تلاش میں ہیں اور موجودہ سندھ حکومت کی روانگی کی خبر بہت تیزی سے گردش کر رہی ہے گھبراہٹ و پریشانی سندھ حکومت کی اپنی جگہ ہے لیکن اس سے زیادہ اہم بات کورونا واٸرس جو پوری دنیا کو لپیٹے ھوے ہے وہ ھے ہمیں ملکی معیشت پہ زور دینا ھوگا انیوالا وقت کورونا کے بعد کسی بھی ملک کے لیے کہ وہ کس قدر مضبوط معیشت پہ کھڑا ہے اس پر ہے اب یہ اپ پر ھے کہ اپ کس قدر مضبوط ہیں اور ہماری مضبوطی ایران افغانستان بھارت بنگلہ دیش سری لنکا جیسے ملکوں سے دوستی پر منحصر ھے کاروبار کے لیے راستہ کھولیں اور کھل واٸیں بھی جنگ تو اپ جب چاہیں تب شروع لیکن یہ وقت جنگ کا نہیں دوستی کاھے چین سعودیہ یا روس ہم سے فاصلہ رکھینگے خارجہ پالیسی کو دوستی کی بنیاد پر اگے بڑھانے کہ لیے ہمیں تیزی سے سفرطے کرنا ہوگاکو اور یہ دوست فارمولا صرف پاکستان کی نہیں ہمارے پڑوسیوں کے لیے بھی بہت ضروری ھے عمران نیازی یا سندھ حکومت ملک کے لیے لازمی نہیں جو ملک چلا سکے عوام کو قوم بنا سکے اسوقت اسکی ضرورت ھے

لیڈر شپ یا سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہر انیوالے دن کے لیے ہمیں مجبور اور بے بس کیے ھوے ہے اسی حال سے پڑوسی ملک بھارت بھی گزر رہا ھے نریندر مودی کے سامنے راہول گاندھی اج بھی صفر پہ ہی کھڑے نظر آ رہۓ ہیں جبکہ ہم اسوقت بغیر کسی لیڈر کے، ایسے میں ہمارے پاس فوج کے سربراہ کا نام ہر وقت گونجتا ھے مریم نواز اور بلاول بھٹو کسی بھی صوبے کے عام سے وزیر کی حثیت میں نظر ارہۓ ہیں اور وہ جو بنانے والے لوگ ہیں اب یونس خان اور محمد انور جیسے لوگوں کو اب بنانا بھول جاٸیں عمران نیازی کے بعد یہ اپشن بھی ہم گنوا چکے ہیں بات ملک کی اور ایک مضبوط ملک کی ھے اب قوم 500 ارب روپے کا حساب مانگ رہی ھے جو کورونا کی آڑ میں سونف خوشبو کا پان سمجھ کر کھالیے گۓ 90 کروڑ خانم میموریل ہسپتال لاہور کے سامنے ایک قرنطینہ ھاوس کے نام پہ چیونگم سمجھ کر چبا لیے گۓ عاصم باجواہ عمران نیازی کے ساتھ وزارت کو سنبھالنے کو قوم نے نظرانداز کردیا لیکن عالمی سطح پہ جو تبدیلیاں نظر آنی شروع ھوگٸ ہیں اسمیں ہمارا ملک اور پڑوسی ملکوں کو ڈھونڈنا پڑ رہا ھے اس پر بھی یہ ملک نظر نہیں آ رہۓ بہتر ھوگا کہ ہم اور پڑوسی ممالک اپنے وجود کو سامنے لاٸیں ورنہ کرنل کی بیوی نے قانون کسی کتے کے بچے کے سامنے ڈال کر ہمیں ہماری اوقات بتادی ھے اب گھر گھر میں کرنل کی بیوی نہیں تو نہ سہی باسمتی کنکی اور ٹوٹا کی بیویاں کراچی لاہور میں نہیں پورے ملک میں پھیلی نظر آٸنگی کورونا کو اب ختم کریں اور اور ایک بات پورے پاکستانیوں کے ذہنوں میں نچوڑ دیں کے ماسک اور ایک ھاتھ کا فاصلہ ملک بچانے کے لیے بہت ضروری ھے

کامران رضوی
21 مٸ 2020

About ویب ڈیسک

Check Also

تباہی پھیلانے والا پانی اب خوشحالی لائے گا ۔۔

راجن پورپنجاب کا آخری ضلع ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے