ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز تحریر: نادیہ حسین

وفاقی حکومت نے آخر کار فیصلہ کر ہی لیا کہ اس سال امتحانات نہیں ہوں گے۔اس فیصلے پر طلبہ اساتذہ اور والدین میں ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔نالائق طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے کہ چلو امتحان دیے بغیر ہی اگلی کلاس میں پہنچ گئے نا پڑھنے کی زحمت ہوئی نا امتحان دینے کی مشقت اٹھانی پڑی امتحان میں فیل ہونے کا جو خطرہ رہتا ہے اس سے بچ گئے ۔پڑھنے والے بچے مایوس ہوۓ کہ سارا سال محنت کی تھی کہ امتحان میں اچھی پوزیشن لے کر اگلی کلاس میں جائیں گے کہ پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی ہی اور ہوتی ہے۔ ذہین بچے اسی خوشی سے محروم ہوگئے ہیں۔اساتذہ کو سکون ملا کہ امتحان لینے اور نتیجے کی تیاری کی مشقت سے بچ گئے ۔والدین کی فکر الگ ہے کہ بچوں کی پڑھائی پر سال بھر کے دوران ان کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خرچ ہو چکا ہوتا ہے ۔بہر حال اس اقدام سے کچھ کا فائدہ ہوا ہے تو کچھ کا نقصان۔
اس فیصلے کے اثرات طلبہ اور پورے نظام تعلیم پر کس طرح اثر انداز ہوں گے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ۔وقت اور حالات کے مطابق ایسے فیصلے کرنے ہی پڑتے ہیں کہ جن کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوتا ۔لیکن بدترین حالات میں بھی کہیں نا کہیں کچھ بہترین کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔لاکھوں طلبہ کا امتحان لینا ان حالات میں اگر ناممکن ہے تو کم از کم صرف نویں جماعت کے طلبہ کا امتحان ضرور لینا چاہیے تھا۔کہ اسی جماعت کے امتحان پر طلبہ کے پورے تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریئر کی بنیاد ہوتی ہے۔نویں جماعت سے ہی جماعتی گروپ بندی کا آغار ہوتا ہے جہاں سے طلبہ اپنے مستقبل کی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔جو طلبہ نجی اسکولز میں زیر تعلیم ہوتے ہیں ان کے لیے نویں جماعت کا امتحان پہلا موقع ہوتا ہے جب وہ اپنے ادارے سے نکل کر بورڈ کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔نویں جماعت کے پہلے پرچے کے دن ہر طالب علم کی وہی کیفیت ہوتی ہے جو نئی نویلی دلہن کی شادی کے بعد پہلے دن سسرال میں ہوتی ہے۔ کہ نیا گھر ہوتا ہےنئے گھر والے اور نیا ماحول ۔دلہن گھبرائی ہوتی ہے کہ اس نئے ماحول میں خودکو کیسے ڈھالے؟یہی حال پہلے پرچے کے دن طلبہ کا بھی ہوتا ہے کہ نا اپنا اسکول ہوتا ہے نا اپنے اساتذہ ۔بچے امتحانی مرکز میں داخل ہو کر گھبرا جاتے ہیں پھر جیسے جیسے دیگر ہم جماعت آتے جاتے ہیں تو طلبہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہمت اور حوصلہ کرتے ہیں۔ پہلے پرچے کے دن کمرہ امتحان کا مجموعی ماحول طلبہ کے لیے بکل نیا ہوتا ہے جو ان کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتاہے۔ پہلے پرچے کے بعد طلبہ زیادہ بہتر طور پر اگلے پرچوں کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں۔اسی طرح جب یہ طلبہ دسویں جماعت کا امتحان دیتے ہیں تو اکثریت نویں کے مقابلے میں دسویں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے نمبرز بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔میڑک کے بہترین رزلٹ کی وجہ سے ہی طلبہ بہترین کالجز میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اب جو طلبہ نویں کا امتحان دیے بغیر دسویں کا امتحان دیں گے ان کے لیے یہ بورڈ کا پہلا امتحان ہو گا۔اور ان کے پاس اپنے نمبرز بڑھانے کی گنجائشنہیں ہو گی اور اس طرح طلبہ اچھے کالجز میں داخلے سے محروم رہیں گے۔
وہ لوگ جن کے تین چار بچے زیر تعلیم ہیں وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے یہاں والدین کی ماہانہ آمدنی کی ایک معقول رقم بچوں کے تعلیمی اخراجات پر صرف ہوتی ہےاسکول کی فیس الگ۔کوچنگ سینٹر کی الگ۔ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات الگ۔اسٹیشنری کا خرچہ الگ۔والدین سارا سال بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے کرتے ادھ موۓ ہو جاتے ہیں کہ بچے امتحان میں بہترین پوزیشن حاصل کریں۔اچھے اداروں میں تعلیم حاصل کریں اور بہتر روزگار حاصل کریں۔جن بچوں کو اب نویں جماعت کا امتحان دینا تھا ان کے تعلیمی اخراجات پر والدین اب تک ایک معقول رقم خرچ کر چکے ہیں۔ طلبہ نے بھی پورا سال اپنا وقت لگا کر محنت سے امتحان کی تیاری کی تھی۔اکثر اسکولز میں پری بورڈ امتحانات بھی ہو چکے تھے غرض والدین اور طلبہ ان امتحانات کے لیے پوری طور پر تیار تھے ۔اب امتحان نا ہونے کے حکومتی فیصلے نے طلبہ اور والدین کی تمام کوشش اور جدوجہد پر پانی پھیر دیا ہے۔یہ بچے جب دسویں کا امتحان دیں گے تو اکثریت کا نتیجہ وہ نہیں ہوگا جس کے لیے انہوں نے دو سال محنت سے پڑھا ئی کی تھی۔بہرحال یہ طلبہ کا نقصان ہو گا۔
آٹھویں تک کے طلبہ پر تو امتحان نا ہونے کا کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن نویں کے طلبہ کا امتحان نا ہونا ان کے پورے تعلیمی کیریئر پر اثر انداز ہو گا حکومت چاہے تو مرحلہ وار صرف نویں جماعت کے امتحانات منعقد کرا سکتی ہے۔سارے تعلیمی ادارے بند ہیں امتحانی مراکز کے لیے زیادہ جگہ مل سکتی ہے امتحان کا دورانیہ کم کیا جا سکتا ہے ۔دو شفٹوں میں تو امتحان ہوتے ہی ہیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ امتحانات ہو سکتےہیں یہ ناممکن نہیں۔ طلبہ اور والدین تواس حق میں ہیں ہی امتحان منعقد ہوں کہ آخر اس پے ان کی پورے سال کی محنت لگی ہوئی ہے اور حکومتی فیصلوں نے لائق اور نا لائق طلبہ کو برابر کر دیا ہے اب صورت حال یہ ہے کہ۔۔۔

ایک ہی صف میں کھڑےہوگئےمحمودوایاز
نا کوئی بچہ فیل ہوا نا کوئی پاس ۔۔۔

About ویب ڈیسک

Check Also

تباہی پھیلانے والا پانی اب خوشحالی لائے گا ۔۔

راجن پورپنجاب کا آخری ضلع ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے