سوشل میڈیا سماجی ابلاغ عامہ

تحریر: سید کمال

سوشل میڈیا سماجی ابلاغِ عامہ اس کی پیدائش سے پہلے والدین کا خیال تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نام کمائے گا اور سچ بھی یہی ہے کہ آج پوری دنیا میں اس بچے یعنی سوشل میڈیا کا راج ہے لیکن اس کی پیدائش کے وقت عام خواہش اور خیال یہ رکھا گیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امن و سکون اور عوام کی بھلائی کے لئے یہ اچھا کام کرے گا۔
خیال تھا کہ یہ راما بنےگا۔۔۔ راون نہیں۔۔۔۔ موسیٰ ثابت ہوگا۔۔۔ فرعون نہیں۔۔۔ لیکن اپنی نوجوانی کی عمر سے ہی اس بچے نے ہاتھ پیر پھیلانا شروع کر دیے تھے۔۔۔ یہ بچہ جوں جوں بڑا ہو رہا ہے ۔۔۔اس نے اب پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔۔۔صاف محسوس ہو رہا ہے بات ہاتھ سے نکل گئی ہے۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ پوری دنیا میں امن کے لیے کام کرے گا پوری دنیا میں علاقائی تعصب کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کرے گا اس زمین پر مذہبی فسادات کے خلاف جہاد کرے گا لسانیات اور طبقوں میں بٹے ہوئے دکھی دلوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا اور اس یقین کے پیچھے اس کے خالقوں کی پوری محنت اور ایمانداری موجود تھی۔
لیکن نائن الیون کے بعد دہشتگردی نے پوری دنیا کو جس طرح اپنی لپیٹ لیا ، جس طرح مذہبی نفرت اپنے عروج پر پہنچی، جس طرح اللہ کا نام پر انسانیت کا قتل کیا جارہا ہے۔ معصو م اور بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے یہاں تک کے اب تو پوری دنیا میں مذہبی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں۔
گذشتہ سال جس طرح سری لنکا ، نیوزی لینڈ اور یورپ کچھ ملکوں میں مذہبی شدت پسندی دیکھنے میں آئی اور جس طرح ان واقعات میں سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار اور ان واقعات میں شدت لانے کے لیے استعمال کیا گیا ۔۔۔۔ کہ اس کے موجد اس کے خالق اس کے بنانے والے بھی دانتوں میں انگلیاں دبائے سر پکڑے بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس دیوہیکل بلا کو کیسے قابو کیا جائے۔۔۔۔ مختلف ممالک نے اپنے تئیں اس کو قابو کرنے کے سب جتن کر ڈالے کسی نے فیس بک۔۔۔ کسی نے یوٹیوب ۔۔۔اورکسی نے تو انٹرنیٹ پربھی پابندی لگاد کر دیکھ لیا ۔۔۔۔ لیکن کیا اس سے مسائل ختم ہو ے ۔۔۔۔ گذشتہ سال نیوزی لینڈ جیسے امن پسند ملک میں جس طرح مسجد میں دھشت گردی ہوئی اور یو ٹیوب کے ذریعے اس کو پوری دنیا میں لائیو دکھا یا گیا۔ ۔۔۔ اس بر بریت کی مثال تو کہیں نہیں ملتی۔۔۔
پاکستان میں حکومت، عدلیہ اور ادارے اس کے آگے بے بس نظر آتے ہیں کونسا راکٹ، کونسا میزائل اور کونسا ایٹم بم اسے ختم کر سکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس کے خاتمے سے اچھے جرثومے بھی ختم ہوجائیں گے علم کے بے شمار راستے بھی مسدود ہوجائیں گے کاروبار اور تعلیم دونوں اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

یعنی یہ وہ درد ہے نہ نگلیں بنتا نہ اگلے

امریکی اخبار کے مشہور کالمسٹ کارہ سوشیر نے اپنے کالم میں ۔۔۔سوشل میڈیا کو ۔۔۔ ڈیجیٹل آرمز ڈیلر آف دا ماڈرن ایج کہا ہے۔
اس نے پورے معاشرے بلکہ پوری دنیا کے ہر فرد کے ہاتھ میں اسلحہ دے دیا ہے مارو اور مرجاؤ۔
اس نے سیاستدانوں کو جرنیلوں کو عدالت کو علماء اکرام کو اورعام فرد کو بے قابو کردیا ہے آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ تباہی کے اس دہانے پر جہاں سے قیامت کے بغیر واپسی ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ آپ اسے بند کر دیں تو دوسرے ذرائع سے غلط خبریں اور آگ لگادیتی ہیں۔
خبر پھیلانے کے لیے واٹس اپ ، وائیرسے ہوتے ہوئے فیس بک ، ٹیوٹر اور یوٹیوب جیسے اتنے ذرائع ہیں کہ آپ اس کو جس زاویے سے پکڑیں یہ آپکے قابو نہیں آئے گا۔
یہ ہزاروں ہاتھ پیر والی وہ بلا ہے جس کو پرانی فلموں میں جنگلوں میں دکھایا جاتا تھا کہ آپ نے اس کا سر کاٹ دیا تو ایک ہاتھ سے دوسرا سر نکل آتا تھا اس کا اس کے لاکھوں کروڑوں ہاتھ پیر اور سر موجود ہیں۔
فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کو اپنی محبت کا پیغام پہنچا سکیں لیکن ہم ہی انسانوں میں موجود بدی کے دیوتاؤں نے اس پلیٹ فارم کو جس طرح نفرت اور ہولناک مناظر کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ یہ واقعی خطرناک بات ہے۔ جس کا اثر ہماری آنے والی نسلوں تک پہنچے گا۔
سوشل میڈیا جس نے جمہوریت اورعوام میں ذہنی روشنی کے مقاصد کو اپنانے کی کوشش کی تھی لیکن اب یہ مذہبی نفرت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اب چھوٹی اقوام کے ساتھ بڑی طاقتیں بھی پریشان ہیں۔۔۔
جو کام ایٹم بم نہیں کرپائے اس سے چند سکوں میں ہو جاتا ہے۔۔۔۔
یہ بات طے ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو نہیں روک سکتے۔۔۔
تو پھر اس کا جواب یہ ہے کہ علم میں اضافہ کریں طاقت میں نہیں۔۔۔

نفرت سے بچنے کے لیے ہتھیاروں سے دور رہیں کتابوں کو قریب لائیں مذہبی، علاقائی یا لسانی تحریکوں کو سیاست سے دور کرنے کی پوری کوشش کریں ۔
ورنہ تیار رہیں کہ آسمانی قیامت سے پہلے ہم خود اپنے ہاتھوں قیامت کا شکار ہوجائیں گے۔

About ویب ڈیسک

Check Also

کراچی کے شہریوں کیلئے خوشخبری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے