کچھ ان دیکھا انجاناسا

انسانی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اس شے کی طرف لپکتا ہے جس کی اس کی زندگی میں بہت کمی ہوتی ہے۔زر، زمین، عزت، دولت شہرت ہر وہ چیز جس کی انسان کی زندگی میں قلت ہوتی ہے ہمیشہ اس کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔اور جہاں اسے تھوڑی بہت بھی امید کی کرن نظر آتی ہے وہ اس کے حصول کیلئے حتی الامکان کوشش کرتا ہے۔انسانی جلد ہی ان چیزوں سے بیزار بھی ہوجاتا ہے اور نئی سے نئی کی جستجو میں رہتا ہے۔میں نا چاہتے ہوئے بھی لکھنے پر مجبور ہوگئی ہوں کہ ہم آگے سے آگے کی جستجو میں اپنا ماضی دھندلا چکے ہیں۔ ماضی وہ نہیں ہوتا جسے ہم پیر کی دھول سمجھ کر پیچھے جھاڑ کر آگے چل پڑتے ہیں ماضی تو وہ ہوتا ہے جو ہمارے سائے کے ساتھ چپک جاتا ہے۔اس سے نجات جان نکلنے کے ساتھ ہی ملتی ہے۔کسی بھی قوم کا زوال تب آتا ہے جب وہ اپنے ماضی کو حقیر سمجھنا شروع ہو جاتی ہے۔ فطری تبدیلیوں سے کوئی جنگ نہیں مگر انسان اپنے ہاتھوں سے جب اپنی جڑیں کاٹنا شروع کرتا ہے تو جانے انجانے میں وہ اپنے آپ کو ختم کر رہا ہوتا ہے۔شجرے،حسب نسب اور نسلوں سے پہچانے جانے والی قوم جب اپنی جڑیں کاٹ کر انہیں لاوارث کردے تو مغربی ثقافت ڈگڈگی بجا کر لاوارث قوم کو نچاتی ہے۔نچانے سے بڑھ کر ایک فتنہ جو ایک بیمار معاشرے میں پیدا کر دیتی ہے وہ سب سے اذیتناک بیماری ہے، اسٹیٹس کازعم جو ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح اندرہی اندرسے کھا رہاہے۔تعلیم’عبادت’خوراک ‘بیماری رسم ورواج ،جینامرنا سب ہماری ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے ہیں۔میں نے اکثر ان لوگوں کو اس چیز پر زیادہ دھیان دیتے ہوئے دیکھا ہے جن کے خود کے پاس کچھ نہیں آج پوری دنیا کا سب سے بڑا المیہ کرونا وائرس ہے بلکہ میری نظر میں تو کرونا وائرس نے بہت سے لوگوں کے دماغوں کی بیماریوں کو باہر نکال کے مارا کرونا وا ئرس کے اس ماحول میں اگر زیادہ لوگوں کا اجتماع نہیں کیا تو کیا نکاح نہیں ہوا ؟
کیا سکولوں کے سلسلہ آدھی فیسوں کے ساتھ بھی چلتے رہے کوئی ادارہ بند تو نہیں ہوا ؟کہیں یہ نہیں سنا کہ کوئی بھوک سے مر گیا بھائی چارے کی فضا بنانے سے اور اپنے گھروں سے ایک اور گھر کا راشن نکالنے سے کیا کسی کے گھر کوئی کمی آگئی ؟کیا کاروبار کو بند کرنے اور کھولنے سے ہماری وقت کی پابندی صحیح نہیں ہوئی ؟کیا باہر کی سڑکوں کو ناپنے سے اچھا اپنے گھروں میں رہ کر گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کا وقت نہیں ملا ؟کیا باہر کی نسبت گھروں میں تازہ اور غذائیت سے بھرپور خوراک نے ہمیں پھلنے پھولنے نہیں دیا ؟ اس دوران سب کچھ ہوا زندگی چلتی رہی زندگی ایک پل کیلئے بھی نہیں رکی لوگوں کی شادیاں بھی ہوئی۔ اموات کاسلسلہ بھی جاری رہا ،بچے بھی پیدا ہوئے ،فطری سلسلے سب جاری رہے مگر صرف اور صرف انسان کے فرائض ادا ہوئے نہ کہ پورے معاشرے کے اطمینان کیلئے دکھاوا یہ اپنے آپ کو دوسروں سے بلند تر دکھانے کیلئے پیسہ اور وقت کا ضیاع کیا گیا۔
پس ہمیشہ آواز خالی برتن سے ہی آتی ہے ہم انسان ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے دوڑ میں اس قدر آگے نکل گئے تھے کہ ہم اپنا آپ اور اپنا ماضی سب بھول گئے تھے اس وائرس نے ایک بار ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی کو ہلا کر ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمیں اپنی ذہنی بیماری کو دور کرنا ہے کرونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنی بڑی بیماری ہم اپنے معاشرے میں پال رہے تھے اس بیماری کا کوئی علاج نہیں کونسا معاشرہ ہے جو راتوں کو جاگتا اور دن کو سوتا ہے11 بجے صبح بازار کھلنا شروع ہوتے تھے اور رات 1 بجے تک کاروبارزندگی چلتارہتا تھا۔اس معاشرے کو بنانے والے ہم خود ہی تھے پتہ نہیں ہمارا پروردگار ہم سے اتنا پیار کیوں کرتا ہے جبکہ ہمارے اعمال اس قابل نہیں ہم جب حد سے زیادہ بہک جاتے ہیں تو ہماری اصلاح کیلئے کوئی نہ کوئی ایسی روشن نشانی بھیج دیتا ہے کہ ہم دوبارہ راہ راست پر آجائیں۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذہنی بیماری کو جڑسے نکال کر پھینک دیتے اور اپنے بچوں میں کوئی ایسا احساس محرومی نہ پیدا ہونے دیں جس سے یہ بیماری نسل در نسل آگے پرورش پاتی جائے۔یہ بیماری نسلیں کھا جاتی ہے اور محرومی کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا یہ کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک بیماری ہے۔محنت کر کے ،مل بانٹ کر کھانا ہمارا مذہب بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے اس وائرس نے ہمیں جو کچھ بھی سکھایا اگر ہم عملی زندگی میں اسے اپنا شعار بنا لیں اور ہمیشہ مطمئن رہنا سیکھ لیں تو ہم اس بیماری سے بہت جلد نجات مل جائے گی۔ اللہ پاک ہمارے معاشرے سے اس بیماری کو ہمیشہ کے لئے دور فرمادے۔ یہ بیماری ہم جیسی مسلمان قوم میں بالکل نہیں ہونی چاہیے جس سے ہماری دنیا وآخرت بربادہو۔

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے