ہونٹوں سے گرتی دعا افسانہ نگار: صائمہ نفیس

درزی اپنی دکان کھول سکتے ہیں۔ لاک ڈاون میں یہ اعلان سن کر ریاض درزی خوش ہو گیا۔ دوسرے دن وہ تیار ہوا اور اپنی دکان پر چلا گیا۔ پچھلے ایک ماہ سے بند دکان کی پہلے تو صفائی کی، مشینوں کو صاف کیا اور تیل ڈال کر رواں کیا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے پورا شہر بندتھا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور تمام دفاترسب بند تھےصرف اجناس کی خرید و فروخت ہو رہی تھی۔ کورونا کی وبا پھیلی ہوئی تھی چاروں طرف میڈیا کی ہبت ناک آوازیں گونج رہی تھیں۔ ہر شخص اپنے طور پر فکرمند تھا جن لوگوں نے ماضی میں پھیلنے والی وباؤں کےبارےمیں پڑھ رکھا تھا یا جانتے تھے وہ زیادہ فکر مند اور پریشان تھے۔ ایسے میں مفروضات اور افوائیں بھی خوب پھیل رہیں تھیں کوئی اسےانسانی حاکمیت کی سازش گردان رہا تھا تو کوئی اس کے در پردہ ملنے والے فوائد کی باتیں کر رہا تھا۔ حکومتی سطح پر قرنطین سینٹر قائم کیے جا چکے تھے اس وبا کے شکنجے میں جکڑے جانے والے وہاں علاج کے لیے قرنطین کر دیے جاتے۔ عالمی سطح پربھی خبریں اور افوائیں ساتھ ساتھ سفر کر رہیں تھیں۔ ماحول میں آ نے والے موت کے طوفان کی بو تھی جس کے پیشِ نظر حکومتی سطح پر لاک ڈاون کروا کر سب کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے پر پابند کر دیا گیا تھا۔ 1920 میں ہندوستان میں جب طاعون پھیلا تھا اس وقت اور اب کے وقت میں زمین آسمان کا فرق آچکا تھا۔ اُس وقت تو لوگ جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی سے بھی نا آشنا تھے مگر انہوں نے بھی اپنے اپنے گھروں خود ساختہ قید اپنا کر ہی اس مرض سے مقابلہ کیا تھا اور چھٹکارا حاصل کیا تھا چنانچہ آج بھی اس سے پہلا بچاو ہر شخص کا اپنا گھر ہی بتایا جا رہا تھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور رہتے رہتے اکتاہٹ کا شکار ہو گیے تھے کہ سب کام جہاں تھے وہاں ہی رک گیے تھے اب تو یہ عالم تھا کہ جب نیند آتی سو جاتے جب آنکھ کھول جاتی جاگ جاتے جب بھوک لگتی کھا لیتے سارا دن ٹی وی، انٹرنیٹ موبائل یا جو مطالعے کے شوقین ہیں وہ کتابوں کے ساتھ گزار دیت۔ نہ کسی کو کہیں جانے کی جلدی نہ کسی کے آنے کا انتظار زندگی کوما کے مریض کے طرح کی ہو کر رہ گی تھی۔ تنخواہ داروں کو تو تنخواہ مل رہی تھی۔ انہیں بس اجناس اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی فراہمی کی فکر تھی مگردھاڑی دار یا اپنا چھوٹا موٹا کام کرنے والوں کی فکر جدا تھی۔ انہی لوگوں میں ریاض درزی اور اس کا خاندان تھا چار بچوں، بوڑھے والدین اور خود دو میاں بیوی آٹھ لوگوں پر مشتمل ان سب کا کھانا پینا اور بوڑھے والدین کی دوا داروالگ۔ کھلا خرچ تو وہ پہلے بھی نہ کر سکتے تھے۔ مگر اب تو حالات اور بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔ جمع پونجی بھی خرچ ہونے لگی اور اچھا برا وقت گزرنے لگا۔ وبا بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی رفاہی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روزانہ تیس سے چالیس اموات ہورہیں تھیں۔ گویا موت آہستہ آہستہ اپنا دائرہ وسیع کر رہی تھی۔ صرف ابا جی کی پینشن تھی جو ان حالات میں بھی ملنے کی امید تھی مگر وہ تھی کتنی پھر امی ابا دونوں کی اپنی ضروریات اور ادویات بھی تھیں۔ ریاض کا کام کرنا بہت ضروری تھا پھر اُس کی دوکان میں دو ملازم لڑکے بھی تھے۔ جو مشکل کی اس گھڑی میں ریاض کی طرف دیکھ رہے تھے ریاض جیسے تیسے ان کی مدد بھی کر رہا تھا مگر آخر کب تک بے کار بیٹھ کر کھانے سے تو قارون کا خزانہ بھی ساتھ نہیں دیتا یہ تو پھر ریاض درزی کی دکان کا غلہ تھا۔ حکومت کی طرف سے درزیوں کی دکان کھولنے کا اعلان کیا ہوا گویا ریاض درزی کو چلتی مشین کی موسیقی سنائی دینے لگی جو اس کی روح کو زندگی بخشنے لگی۔ ریاض نے دوکان کھولی اور اس کی صفائی میں جت گیا دوکان کے سامنے سے گزرنے والے ایکا دوکا لوگ ریاض کو دوکان میں اتنا منہمک دیکھ کر حیران ہو رہے تھے مگر وہ چپ چاپ اپنا کام کر رہا تھا۔ دوچار گھنٹے لگا کر اس نے نہ صرف دوکان کو سمیٹ سماٹ کر صاف کر دیا بلکہ اپنے ملازمین لڑکوں کو بھی موبائل کر کے بلا بھیجا۔ اب وہ اپنی دوکان میں بیٹھا اپنے اس کپڑا فروش کاروبار ی دوست اجمل کا انتظار کر رہا تھا جس کی دوکان سے وہ اکثر عید تہوار کے دنوں میں اپنے مستقل گاہکوں کے لیے کپڑا خریدا کرتا تھا۔ کچھ دیر بعد اجمل آ گیا ریاض درزی نےاُس سے کورے سفید لٹھے کا سودا کیا۔ اجمل کپڑے والا بھی ریاض درزی کو ادھار کپڑا دینے پر راضی ہو گیا کہ نجانے کب مارکیٹیں کھولیں اور کب خرید و فروخت شروع ہو گی حالات تو اس سمت جاتے نظر نہیں آتے گودام میں پڑے رہنے سے بہتر ہے رہاض درزی کو ادھار پر ہی فروخت کر دیا جائے ترسیل کا ذمہ بھی خود لے کر اجمل کپڑے والے نے ریاض درزی کی مشکل بھی حل کر دی۔ دوسرے دن سے ریاض درزی دکان پر بیٹھ کر سلائی کرنے لگااور اس کے دونوں ملازم لڑکے بھی باری باری اس کی دکان سے کٹا ہوا مال لے جاتے اور دوسرے دن سلائی کر کے لے آتے۔ یہ تمام سلا ہوا مال ریاض درزی ہفتے میں ایک بار جاکر فلاہی ادارے کو دے آتا اور اپنی قمیت لے آتا۔ اس طرح نہ صرف اس کے گھر کی بلکہ اجمل کپڑے والے اور اس کے دونوں ملازم لڑکوں کے گھروں کی گاڑی بھی چلنے لگی۔ اُس دن بھی وہ ناشتا کر رہا تھا اسے دوکان جانا تھا اس کی بیوی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اس کی دونوں بیٹیاں قریب ہی فررش پر بیٹھی کھیل رہیں تھیں کہ آپس میں جھگڑ پڑیں بڑی بیٹی چھوٹی بہن سے کہہ رہی تھی کہ تم نے بے ایمانی کی ہے میں تمہارے ساتھ اب نہیں کھیلوں گی جبکہ چھوٹی بیٹی بولی نہیں میں نے بے ایمانی نہیں کی مجھے معلوم ہے بےایمانی کرنے سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں ریاض اور اس کی بیوی اُٹھ کر بچیوں کے پاس بیٹھ گئے ریاض نے اپنی چھوٹی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے شاباش دی اور کہا اچھا تو میری بیٹی کی دعائیں قبول ہوتیں ہیں۔ چھوٹی مسکراتے ہوئے بولی ہاں بابا میں روز آپ کے لیے دعا مانگتی ہوں میری دعا قبو ل ہوئی جبھی تو آپ کو کام ملا سب کے ابو آج کل گھر پر ہیں مگر آپ دوکان جاتے ہیں اور سلائی کرتے ہیں اللہ میاں آپ کے کام میں بہت بہت برکت دے چھوٹی نے اپنی دونوں بانہیں پھیلا کر دعا مانگنی چاہی مگر ریاض نے اچانک اپنی بیٹی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی دعا ادھوری کر دی

About ویب ڈیسک

Check Also

تباہی پھیلانے والا پانی اب خوشحالی لائے گا ۔۔

راجن پورپنجاب کا آخری ضلع ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے