مائیں بھی کتنی معصوم ہوتی ہیں نا؟”

"ماں بنو گی تو خود ہی جان جاؤ گی محسوس کر پاؤ گی اور یقین جانو مان جاؤ گی ” یہ الفاظ اور ان کچھ جملوں كے ساتھ اک خوبصورت لڑکی سے اک جھریوں سے بھرے چہرے کی حامل عورت بننے تک ان کے چہرے پہ پھیلتی دلکش مسکراہٹ جو انہیں بے انتیہا حَسِین و جمیل بنا دیتی تھی آج بھی میرے ذہن میں روز روشن کی طرح ہر وقت عیاں رہتی ہے-
میں اپنے چھوٹے سے کمبے میں سب سے بڑی بیٹی تھی میرے سے دو سال چھوٹی اک اور بہن اور پِھر اس سے دو تِین سال چھوٹے دو بھائی اور بھی تھے . . . ہمارا گھرانا ہمارے ابّا ؤ ایجداد کی وجہ سے گوجرانولہ شہر كے بہت معزز ترین گھرانو ں میں سے اک مانا جانا تھا- پیسوں کی بہت فراوانی تو نہیں تھی پر ہاں دنیا عزت بہت دیا کرتی تھی لیکن دادا ابو کی وفات اور سب بہن بھائیوں کی شادی کرنے كے بَعْد ابّا جی كے حالات کچھ خاص بہتر نہیں رہے تھے – دن با دن کاروبار میں ماندی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ابّا جی بظاہر کرخت مگر بے حد اصول پرست انسان تھے ہمارے گھر میں زمانۓ قدیم كے تمام رواج تو نہ سہی لیکن فی الفور عورت كے کم بولنے ، اسکی رائے کم دینے كے اصول لازم و ملزوم تھے یا یوں کہیں کہ ہماری عورتوں نے اِسے اپنی پہلی ذمہ داری مان لیا تھا كہ اپنے حق کے لیے کوئی بات نہ کہیں، سَر كے سائبان نے جو سہی غلط کہا وہی سب ٹھیک ہے- بے شک کسی حد تک یہ اصول خلوص اور محبت بڑھاتے بھی تھے اور الفت اور عزت کو عروج بھی دیتے تھے –
میری امی جان پیاری امی جان آہ ! اتنی سیدھی خاتون تھیں کہ انہیں میں نے کبھی اُف کرتیے نہ دیکھا تھا- جتنا ملا کھا لیا جو دیا گیا پہن لیا ہمیں بھی ہر دن بس پڑھائی پہ توجہ دینے اور بہترین انسان بننے کی تلقین کیا کرتی تھیں- کبھی بھی میں نے انہیں اونچی آواز میں بولتے نہ دیکھا تھا وہ دن رات کام میں جتی رہتی تھیں جیسے کوئی مشین ہوں- کئی دفعہ تو میرا سَر چکرا جاتا كے آخر یہ بندی تھکتی کیوں نہیں ہیں ؟ مجھے امی نے کبھی کوئی کام نہ کرنے دیا تھا ہمیشہ پڑھائی میں مصروف رہو زندگی کی دوڑ کو بہتر بنانے کے لیے بس یہی سکھاتی رہیں كے سب جگہوں پر اپنی پوری کارکردگی دکھاؤ اور ہر طرح کا علم حاصل کرو چاھے وہ تمھاری نصاب کی کتاب ہو ، سائنس كے ترقّی شدہ اِس ڈور کی کوئی نئی تخلیق ہو یا پِھر گھر کر چھوٹے چھوٹے اموراور زندگی گزارنے کا فلسفہ-
وہ صبح سویرے اٹھ جایا کرتی تھیں- انکی فجر کی نماز اور اسکے بَعْد ڈھیروں اذکار و وضائف میں اتنا وقت لگ جاتا كے ہمارے اسکول کالج اور یہاں تک کہ ابّا کی دفتر جانے کا وقت ہو جاتا پِھر وہ سارا دن گھر كے کاموں میں جتی رہتیں اور پِھر ہمارے لیے كھانا خود اپنے ہاتھ سے تیار کرتیں- ہم سب بہن بھائیوں كے عمر اور ہنر میں فرق ہونے کی وجہ سے ہماری زندگیوں كے اوقات کار میں انتہائی فرق تھا کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی اسکول اور امی ہر بندے کے لیے ہر وقت جتن کرتی رہتیں- سب سے زیادہ فکر انہیں ہماری صحت اور کھانے پینے کی رہتی تھی وہ ہمیں اسکی وقتا فوقتاً بے حد تَعْقِید کرتی رہتی تھیں- کبھی کبھی مجھے ان پہ بڑا پیار آتا تھا اور کبھی میں شدید چڑ جاتی تھی- شاید عمر کا تقاضہ تھا، لیکن کبھی بھی انکی اِس لازوال محبت کو نظر انداز نہیں کر پاتی تھی- میں شاید ان کے بغیر رہنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی- کچھ کہہ پاؤں یا نہیں لیکن ماں شاید ایسا بہتا محبت کا ساغر ہوتی ہیں كے ان کے بن ہم پیاسے ہوتے ہیں یا یوں کہیں ایسا شجر جس کی گود میں سَر رکھے بغیر کبھی سکون کی نیند کا اندازہ نہ لگا پائیں میرا بھی کچھ ایسا ہی حساب تھا- کبھی کھل کر بیان تو نہیں کر سکی لیکن اگر امی آس پاس نہ ہو تو یقین جانیے مجھے اک پل چین نہیں آتا تھا یہاں تک كے وہ جب تک واپس نہ آجاتی میں تو ذہنی انتشار میں مبتلا رہتی تھی- کبھی سوچا ہی نہیں تھا كے میں ان سے دور بھی رہوں گی-
میڈیکل کی پڑھائی کے لیے جب میں پانچ سال گھر سے دور رہی وہ دن و رات کیسے کٹے بس میرا خدا ہی جانتا ہے- مجھے آج بھی یاد ہے وہ امی جو ابّا كے سامنے کبھی اُف نہ کرتی تھی تایا ابو كے میری پڑھائی روکنے اور اپنے بیٹے كے ساتھ میری شادی کردینے کی بات پہ اک چٹان سی بن گئی تھیں- آج بھی سوچتی ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں- گھر میں قیامت سا سامان بندھا تھا میں میڈیکل میں داخلہ لے چکی تھی اور تھڑڈ ایئر ایم بی بی ایس کی طا لبہ تھی جب یہ واقعہ وقوع پزیر ہوا- ناجانے کتنے دن رات تک ابّا امی سے ناراض رہے- ابّا بس چاھتے تھے كے ان کے بہن بھائی ان سے روٹھیں نہیں- ظاہر ہے ماں باپ كے چلے جانے كے بَعْد ابّا کو پریشانی تھی كے بڑے بھائی ناراض ہوگئے تو سر سے بڑوں کا سایہ دور ہو جائے گا- ابّا زمانے كے سختی کی لپیٹ میں آئے شاید اک بھنورمیں پھنس گئے تھے اور سوچ رہے تھے كے انکی بیٹی کا گھر بس جائے گا – یوں خاندان بھی مضبوط ہوگا اور کبھی نہیں ٹوٹے گا لیکن میں نے تب دیکھا اماں نے میری خاطر سب سے لڑائی مول لے لی تھی- وہ جانتی تھیں كے میں پڑھنا چاہتی ہوں میرے اپنی زندگی کو لے کر خواب کچھ مختلف ہیں- ایسا نہیں ہے كے مجھے شادی نہیں کرنی تھی لیکن ابّا كے گھرانے كے قدیم اصولوں میں میری شادی کر دی جاتی تو شاید میری تمام خواہشیں اور خواب بھی زندگی کی تلخیوں كے ضد میں آجاتے اور میں بھی تمام عمر شاید گھریلوکام کاج میں گزار دیتی لیکن شاید مائیں ایسا ٹھنڈا میٹھا شربت ہیں كے وہ آپکے اندر پنپتے ہر زہر کو نچوڑ دیتی ہیں- وہ جانتی ہیں كے آپکے لیے کب کیسے آسانیاں پیدا کرنی ہیں- میں اکثر ہنسا کرتی تھی كے امی آپ ہمارے لیے یہ سب کرتی تھکتی نہیں؟ آپکی وہی صبح فجر سے لے کر رات 12 تک کی روٹین جو کبھی نہیں بدلتی ، آپکی ہربات ہمارے کھانے پینے کی فکر، ہم کہاں جا رہے کیا کر رہے ہیں ، کب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے، آپ بن مانگے پوری کر دیتی ہیں- آپ میں اتنی ہمت کہاں سے آجاتی ہے؟ تب وہ زور سے ہنستی تھی اور ہمیشہ کہا کرتی تھی ماں بنو گی تو پتہ چل جائے گا؟ اولاد میرے سونے رب کی سب سے بہترین نعمت ہے یہ جب آپکی گود میں آتی ہے نا تو زندگی گلزار ہو جاتی ہے- آپکا اپنا سارا وقت ، خواب ، تجربہ سب پیچھے کہیں چھوٹ جاتا ہے اور اگر کچھ رہتا ہے تو بس اک دلکش احساس آپکا اپنی اولاد سے محبت کا ! پتہ ہے اولاد اک ایسی طاقت ہوتی ہے جس میں تھکن کا احساس آپکو چھو بھی نہیں سکتا اور جو خوشی ان کے لیے کچھ کرکے ہَم ماؤں کو ملتی ہے نہ اس خوشی کا اندازہ صرف اک ماں ہی لگا سکتی ہے-
” مائیں بھی کتنی معصوم ہوتی ہیں نا؟” آج مجھے بہت شدت سے احساس ہو رہا تھا وہ کتنی آسانی سے زندگی کا اتنا بڑا فلسفہ چلتے پھرتے سمجحا دیتی تھیں- میری اور عظیم کی شادی کو ڈھیر سال سے زیادہ کا عرصہ ھو گیا ہے – ہم دونوں ڈاکٹرز ہونےکی بدولت اپنی زندگیوں میں انتہائی مصروف اور شاید ہمارے کام کرنے كے اوقات گزار اتنے تھکا دینے والے ہوتے ہیں كے ہم آپس میں اتنے کم عرصے میں بھی بہت تلخ ہونے لگے تھے- میں بات بات پہ چڑ جاتی تھی اپنی روزانہ کی روٹین سے تنگ آجاتی تھی اور یہی باتیں ہمارے آپسی اختلافات بڑھا رہیں تھیں- اوپر سے زچگی میں مجھے پیر ی پارٹم ڈپریشن
( Peri-Partum Depression ) کا سامنا بھی رہا – یہی وجوہات تھیں كے میں تو زندگی سے انتہائی اکتائی ہوئی تھی كہ جب اک دن اچانک میرے اللہ نے وہ آزمائش کی گھڑی ختم کردی تھی- اک سرخ و سفید نازک سی پری میری گود میں آگئی تھی- اُف، وہ قدرت کا عجب کرشمہ سا تھی یقین سے بلکل بالاتر جب وہ پہلی بار میری گود میں آئی تھی تو اک الگ ہی احساس تھا – جو شاید اک لمحے میں ہی میرے دِل کو ترو تازہ کر گیا تھا- ایسا لگ رہا تھا كے اِس جہاں اور اُس جہاں کی کوئی نعمت ، رحمت اِیسی بڑی نہ ہوگی- میرے اندر جیسے اک نئی روح پھونک دی گئی ہو، میں نے اس پیاری سی زندگی کا نام اسی لیے ” روحا ” رکھا تھا-
روحا اک عربی کا لفظ ہے جسکے معنی ” روح اور زندگی ” ہیں- ہاں وہ میرےاور عظیم کے لیے اور ہم دونوں کے رشتے کے لیے بھی اک نئی دنیا کی نوید تھی- وہ پرستان سے آیا ایسا ہردل عزیز پیغام تھی كہ سب بَدَل رہا تھا – دن و رات بس مسکراہٹوں میں اور خوش گپیوں میں گزر جاتے – مجھے اب نہ ڈپریشن ہوتا تھا نہ تلخی آتی تھی- اب جتنا بھی کام کر لوں میں ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی – اگر جو کسی ڈیوٹی كے بَعْد ہسپتال سے واپسی پہ یا سارا دن گھر کام کرنے كے بَعْد کسی لمحے شدید تھکاوٹ کا احساس اُجاگَر بھی ہوتا تو اسکی اک مسکراہٹ سے سب مٹ جاتا تھا- لگتا ہی نہیں تھا كے میں نے کچھ بھی کیا ہو، روحا بلکل ” روح افزا ” کی چاشنی جیسے تھی- میرا اور عظیم کا رشہ بھی اِس نے گڑ شکر جیسا میٹھا کردیا تھا- اس نے میرے سارے ڈر خوف جیسے مٹا دیئے ہوں- زندگی كے نقشے میں یہ حَسِین ترین دن ہیں شاید جو ہم بے حد خوشی سے گزار رہے ہیں اور ہاں مجھے اب سمجھ آگئی ہے كے امی کیا کہتی تھیں شاید اولاد کبھی اپنے ماں باپ کا تھوڑا سا بھی قرض نہیں اُتار سکتی- اگر ماں باپ لازوال محبت کا پیکر ہوتے ہیں تو شاید اولاد کا ھونا ہی ان کے لیے ہمت کا پیکر بن جاتا ہے اب زندگی میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوتی، سوائے اس کے كہ مجھے امی ابّا بے حد یاد آتے ہیں اور آج میرا یقین اِس بات پہ بے حد پختہ ھو گیا ہے كے اولاد ماں باپ کی ہمت بن کر آتی ہے- یہ اللہ کی وہ نعمت ہے جو قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے-
آئیں، میں اور آپ ، اپنے اپنے ماں باپ کی طرح اپنی ہمت اور استطاعت كے مطابق اپنی اولاد کو بھی بہترین تربیت دینے اور انہیں اِس قوم کا ذمہ دار حصہ بنانے کا عہد کرتے ہیں- اللہ تعا لی ہم سب کے حامی و ناصر ہوں – آمین ثم آمین !
"ڈاکٹر انعم پری

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے