ضلع راجن پور ۔ کرونا وائرس کی صورتحال

۔تحریر کائنات ملک
پاکستان میں کرونا وائرس کے حوالے سے ایک بھوچھال ایا ہوا ہےملک بھرمیں ہلتھ ایمرجنسی نافذ ہے کروانا وائرس جیسی آفت سے متاثر ہونے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے دائرہ حدود میں ضلعی انتظامیہ اور محکموں کو الرٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ان کو ضروری سامان والات کی فراہمی ممکن بنارہی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو آگاہی اور جسمانی فاصلہ رکھنے کی طرف مائل کیا جارہاہے ۔اس تمام حالات میں ضلع راجن پور بھی حکومتی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے حفاظتی اقدامات اور سہولیات میں اضافے کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمے کے میڈیکل ۔اور پیرا میڈیکل سٹاف کو اس وبا کے خلاف بچانے کے لیے حفاظتی کٹس فراہم کی جارہی ہیں ضلعی انتظامیہ کیطرف سے لوگوں کو جسمانی فاصلہ رکھنے کےلیے لاک ڈاون کے ساتھ اکھٹے ہو والی جگہوں کو سیل کرنے والے اقدامات کیے جارہے ہیں اس حوالے سے ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے مارکیٹس۔شادی ہال۔ بازاروں اور میلے ٹھیلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔اس طرح ثقافتی اور مذہبی ایام کی تمام تقریبات کو جس میں شادی کی تقریبات بھی شامل ہیں ختم کردیں گیئں اگر ہم ضلع راجن پور میں صحت کی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ضلع میں1ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال DHQایک سو تیس بیڈ کی گنجائش کے ساتھ موجود ہے ۔اس طرح 2۔ THQہسپتال 7 ۔ HRCاور 33۔BHUموجود ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے ان تمام اداروں میں صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے ان میں تمام بیماریوں کے علاج کی سہولیات محدود اور ناکافی ہیں اب ان سب میں کرونا وائرس جیسی آفت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہے ہم سمجھ سکتے ہیں موجودہ صورتحال کس طرف اشارہ کررہی ہیں ۔ملکی صورتحال کو دیکھتے ہوے ضلع راجن پور کی 22لاکھ آبادی کےستر فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔لوگوں کی معاشی ۔سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے اس صورتحال میں انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہےہیں کروانا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کی وجہ سے ان پر زندگی کے دروازے جیسے بند ہوگے ہوں صوبائی حکومت کی طرف سے احساس پروگرام کے تحت 12 ہزارروپے کی امداد کے علاوہ کسی کو بھی راشن یا کسی اور امداد کی صورت کوئی ریلیف نہیں دیا گیا حلانکہ کہ 20 فیصد آبادی غربت کی انتاہی نچلی سطح پر زندگی بسر کررہی ہے ۔ضلعی انتظامیہ صرف اخباری بیان بازی اور کاغذی کاروائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کررہی ۔زمینی حقائق اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ضلع راجن پور میں خصوصی ریلیف مہیا کی جاے۔گزشتہ ہفتے عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب ضلع راجن پور کے دورے پر اے ان سے راجن پور کی عوام امید رکھے ہوئے تھی کہ وہ غریب عوام کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کریں گے لیکن بدقسمتی سےانہوں نے نہ کوئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور نہ ہی کرونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے کسی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ۔اس تحریر کے ذریعے لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کی اواز بنتے ہوے ہمارا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ ضلع راجن پور جو ایک طرف ایران سے اے ہوے زائرین تو دوسری طرف دبئی سعودی عرب میں مزدوری پر جانے والے لوگوں کی گزرگاہ ہے ایک طرف صوبہ بلوچستان دوسری طرف صوبہ سندھ کا باڈر ہے کروانا وائرس کی وبا سے شدید خطرات لاحق ہیں غربت لوگ مزدوری کی غرض سے کراچی جاتے ہیں وہ لوگ بھی واپس اپنے گھروں میں اچکے ہیں لاک ڈاون سے غریب لوگوں کے گھر میں بھوک افلاس نے ڈیرے جما لیے ہیں حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ایسے غریب خاندانوں کو خصوصی سہولیات ریلیف پیکج فراہم کرے تاکہ ان کی زندگی میں اسانی پیدا ہو

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے