نیوز الرٹ

جنگ جیو نمائندگان کی مجبوریاں۔ ۔تحریر کائنات ملک

آج صبح مجھے ایک صحافی بھائی امین انجم کی کال ائی اور انھوں نے مجھ سے پوچھا میڈم اپ کہاں ہیں میں نے جواب بھائی میں
جام پور اپنے گھر پر ہوں۔تو امین انجم نے دوسری بات کی ملک صاحبہ اپ تھوڑی دیر کے لیے پریس کلب اسکتی ہیں میں نے جواب دیا کیوں نہیں مگر مجھے یہ بتائیں پریس کلب میں کیا کوئی میٹنگ وغیرہ ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر احتجاج کررہے ہم چاہتے ہیں اپ اس میں ضرور شامل ہوں میں نے کہا اپ کیوں احتجاج کرنا چاہیتے ہیں اپ تو ایک باشعور صحافی ہیں تو امین انجم نے کہا ملک صاحبہ اصل میں میں جیو کا نمائندہ ہوں ہم پر پریشر ہے ادارے کی طرف سے ہم ناچاہتے ہوے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں میں نے کہا چھوڑ دو پھر ایسے ادارے کو یہ اپ کو تنخواہ تو نہیں دے رہے امین انجم نے کہا ملک صاحبہ بس مجبوری ہے علاقے میں کام کرنا ہے ۔اس کی اس بات پر میرے سامنے سینکڑوں صحافیوں کے مایوس چہرےبے بسی کی تصاویر لیے ہوے تھے ان کے اندر کا کرب ان کے چہروں پر صاف عیاں تھا پریشانی اور دکھ کے جزبات سے بات کرتے ہوے زبان لڑکھرا رہی تھی کہ اب ہم کیا کریں گے کیسے گھروں کے کرایہ ادا کریں گے کیسے بچوں کی سکول کی فیس ادا کریں گے کیسے بیماری میں دوا لیئں گے ہم تو زندگی کے کئی کئی سال دن رات ایک کرکے ان اداروں کی خدمت کی اور ان میڈیا مالکان نے ہمارے بارے میں زرا سا بھی نہیں سوچا ہیمارے کئی سالوں کی بقایاجات بھی ادا نہیں کیے اور ہمیں نکال باہر کردیا ہماری گزر اوقات صرف ان اداروں سے تھی حکومتوں سے ہمارے نام پر لئے گئے پلاٹس۔ اربوں روپے کے فنڈ خود ہڑپ کرگئے اب ہمارا کیا ہوگا اور جب اج اللہ کی طرف سے ان کی کرپشن پر پکڑ ہوئی تو اب ان لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں جب یہ سب منظر کسی فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا تو میں نے۔فورا امین بھائی کو جواب دیا بھائی اگر اپ مجھے کسی میڈیا مالکان کی بجاے کسی صحافی کےساتھ ہونے والی معاشی زیادتی ناانصافی اور ان کےحق کی خاطر اواز بلند کرنے کے لیے بلاتے تو کائنات ملک سب سے پہلے سب سے اگے اگے کھڑی ہوتی اپنے صحافیوں کےحقوق کی اواز بلند کرنے کے لیے جان بھی حاضر مگر کسی میڈیا مالکان کی کرپشن کے تحفظ کے لیے کائنات ملک کا احتجاج کرنا اس کے ضمیر کی موت اس کی شخصیت کی توہین ہے

About ویب ڈیسک

Check Also

تنظیم سازی

لفظ ” تنظیم سازی“ تمام سیاسی پارٹیز کیلئے ایک ”گالی“ بن کر رہ گیا ہے،امید …

One comment

  1. ڈاکٹر صفی اللہ ارشد انصاری

    مس کائینات صاحب۔۔اپنے بلکل درست عکاسی کی۔ہم نے ان اداروں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان اداروں کی بنیادوں میں ہمارا خون شامل ہے۔۔لیکن مالکان ایک منٹ سے بھی پہلے نمائندہ کو نکال باہر کرنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے