کورونا وائرس سے جڑے پانچ الفاظ جن پر عوام کنفیوزڈ ہیں

ترجمہ: مجتبی بیگ

پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیلتا جارہا ہے اور اس کے لرزہ خیز اعداد و شمار نے ویسے ہی لوگوں کو شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کردیا ہے ایسے میں بہت سارے لوگ جو خالص اردو یا خالص انگریزی بولنے اور لکھنے سے قاصر ہیں وہ اس سے جڑی بہت سی اصطلاحوں کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو مزید الجھن کا شکار کررہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کا درست مطلب پتہ کیا جائے جو میں نے جان ہوپکن کی ویب سائٹ سے لیا ہے اور ان اصطلاحوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے، جس کا انگریزی متن آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
https://hub.jhu.edu/health/

1 سماجی دوری اختیار کرنا

سماجی دوری یعنی سوشل ڈسٹنسنگ کا مطلب ہے لوگوں سے رابطے صرف اس حد تک کردینا جس کے بغیر آپ کا گزارا نہیں ہے، جو کچھ یوں ہیں:

ذاتی سماجی رابطے: ہاتھ ملانا، بغلگیر ہونا، محبت کا جسمانی اظہار کرنا، ساتھ کھانا، کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھنا، اپنوں کی خیریت یا عیادت کے لیے جانا وغیرہ

اجتماعی سماجی رابطے: خوشی کی تقریبات میں شرکت، غم کی تقریبات میں شرکت

ناگزیر رابطے: دفتری تقریبات میں شرکت, خریداری کے لیے پر ہجوم جگہوں پر جانا وغیرہ

شوقیہ رابطے:کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا یا انہیں دیکھنے جانا،فنون لطیفہ کی سرگرمیاں براہ راست دیکھنے جانا وغیرہ

ان میں سے کوئی بھی رابطہ ایسا نہیں جو آپ کے لیے ناگزیر ہو اس لیے بہ آسانی انہیں ترک کیا جاسکتا ہے

سوائے پیشہ ورانہ یا تعلیمی سرگرمیوں کے جن میں دوری کا اختیاردینے کا دارومدار انتظامیہ پر ہے تاہم آن لائن طریقوں کے ذریعے ان کو بھی کافی حد تک گھر بیٹھے جاری رکھا جاسکتا ہے۔

2 تالہ بندی (لاک ڈاون)

تالہ بندی یعنی لاک ڈاؤن کا مطلب ہوتا ہے ہر وہ دکان، دفتر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، سینما، کارخانہ یا ایسی کوئی اور جگہ جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں انہیں حکومت اور عوام باہمی اتفاق سے عارضی طور پر بند کردیں تاکہ لوگوں کے ایسے میل جول کو روکا جاسکے جسے ہنگامی صورتحال میں روکنے سے درپیش خطرے سے بچا جاسکتا ہو۔

تاہم انتہائی ضروری کام جن میں کریانہ، ادویات کی دکانیں، ہسپتال اور کھانوں کی ہوم ڈلیوری کی دکانیں ہیں انہیں کھولنے کی اجازت ہو،تاہم ہر فرد کو دن میں صرف ایک باراپنے گھر کی قریب ترین ایسی دکانوں پر جانے کی اجازت ہو۔

3 کرفیو (خانہ بندی)

سخت اور مکمل تالہ بندی کو کرفیو کہتے ہیں جس میں کسی بھی فرد کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، سوائے اس کے کہ کسی کی جان پر بن آئے اور اس کے لیے بھی کرفیو نافذکرنے والے اہلکاروں سے اجازت کے بعد باہر آسکتا ہے۔ کرفیو میں انتظامی کنٹرول سخت ہوتا ہے تاہم کرفیو نافذ کرنے والے پابند ہوتے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر کا وقفہ دیں جس میں لوگ اشیاء ضروریات خرید سکیں البتہ کسی متعدی وباء کی صورت میں اشیاء ضروریہ کی گھروں تک فراہمی بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں وہ رفاعی اداروں کی مدد لیتے ہیں۔

4 قرنطینہ (طبی نگرانی)

کسی متعدی مرض کے شبہ میں افراد کو قرنطینہ(رضاکارانہ قید تنہائی) میں رکھا جاتا ہے جس کا عرصہ مرض کی علامات ظاہر ہونے تک کا ہوتا ہے اور اس دوران افراد کا طبی ٹیسٹ بھی لے کر تصدیق کی جاتی ہے، قرنطینہ میں افراد کو الگ الگ رکھنا لازمی ہوتا ہے تاکہ وہ افراد جن میں مرض نہ ہو وہ اس سے محفوظ رہیں، اگر کوئی فرد باشعور ہو تو اسے اپنے گھر میں بھی متعدی بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک رہنے کی اجازت ہوتی ہے

قرنطینہ کے دوران بھی افراد کو مرض سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوتی ہیں اور اپنی تمام استعمال کی چیزیں الگ رکھنی ہوتی ہیں تاکہ کوئی اور انہیں استعمال نہ کرے

5 الگ تھلگ ہوجانا

آئی سو لیشن یعنی الگ تھلگ اس وقت ہونا ہوتا ہے جب کسی میں متعدی مرض کی تصدیق ہوجاتی ہے جس کے بعد اسے حکومتی احکامات کے مطابق اپنے مرض کی متعلقہ حکومتی ادارے کو اطلاع دینی لازمی ہوتی ہے تاکہ حکومتی ادارہ اسے قریبی آئی سو لیشن سینٹر میں بھیج سکے اگر مریض صاحب استطاعت ہوتو وہ نجی طور پر بھی اپنا علاج حکومتی ہدایات کے مطابق کراسکتا ہے۔

آئی سو لیشن سینٹر میں اسے مرض سے علاج کے دوران کی تمام ہدایات بتا دی جاتی ہیں، اپنے گھر میں آئی سو لیشن میں جانا خطرے سے خالی نہیں جبکہ اس دوران آپ کو بار بار طبی معائنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاہم حکومتی ادارے کے مشورے اور اجازت سے آپ گھر میں بھی الگ تھلگ ہوسکتے ہیں اگر آپ صاحب استطاعت ہوں تو۔

گھر میں آپ کے تیمارداروں کو انتہائی احتیاط کرنی ہوتی ہے جو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا ہوتی ہے جس میں سرجیکل ماسک لگانا، دستانے پہننا سب سے ضروری ہے۔جبکہ مریض کے استعمال کی ہر چیز الگ تھلگ رکھنا لازمی ہوتا ہے اور ان کی انتہائی احتیاط سے صفائی اور دھلائی کرنی ہوتی ہے۔ تاکہ تیماردار میں مرض منتقل نہ ہوسکے۔

About ویب ڈیسک

Check Also

اب کشمیر مکمل پاکستان کاحصہ ھے

. بھارت پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔اور اس سلسلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے