حکمرانوں کی بد اعمالیوں کی سزا

سچ تو یہ ہے۔

بشیر سدوزئی

رب عالم نے جراثیمہ کے ذریعے دنیا کے ان حکمرانوں کے گھمنڈ کو خاک میں ملایا دیا جو متکبرانہ انداز میں خود کو سپر پاور اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مائر، چاند و زمین کو مسخر کرنے کے دعوے کرتے نہ شرماتے تھے۔ یہ سطور لکھے جانے تک پونے دو ارب افراد از خود یا سرکاری حکم پر قید تنہائی میں ہیں ۔ چار لاکھ موت کے قریب اور 17 ہزار سے زائد کو رب عالم نے اپنی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا سے کھینچ لیا۔ پونے 7 ارب کی آبادی میں یہ تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن جو اس عمل میں داخل نہیں ہوئے وہ بھی خوف زدہ ہیں گویا آج زمین پر کوئی زی شعور ایسا نہیں جو لا علاج وبا سے خوفزدہ نہ ہو اور اس پر طرہ یہ کہ بہتر علاج معالجہ اور عوامی ہیلتھ انشورنس کے ڈوگھرے بجانے والے مغربی حکمران بھی اپنے کسی ایک شہری کو یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ اس معمولی چراثیمہ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں جو ہیلتھ انشورنس کے نام پر اپنے شہری کی کل آمدنی کا 35 فی صد سے زیادہ وصول کرتے ہیں ۔ آج دنیا میں ترقی اور طاقت کے سارے پول کھل گئے۔ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا دنیا میں کوئی بڑے چھوٹے کا کھیل نہیں خالق و مخلوق کا معاملہ ہے ۔ جن کو خالق نے اختیار دیا اور اپنا نائب بنایا انہوں نے اس کی مخلوق کو انصاف نہیں دیا۔ آج عالمی سپر طاقت کا دعوی کرنے والے حکمرانوں نے ناانصافیوں اور مسلم حکمرانوں نے بدعمالیوں کی حد کر دی تھی یہ سب انہی کے عمالوں کی سزا سارے انسانوں کو مل رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہم عوام بھی صحیح نہیں رہے لیکن عوام کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے حکمرانوں سے یہ سوال نہیں کیا کہ دنیا میں محکوموں کے ساتھ ناانصافی کیوں ہو رہی ہے ۔ افغانستان، عراق، شام ، برما، مصر، فلسطین اور بھارت و کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بیان و کہانی کا محتاج نہیں ۔ وہاں انسانیت کے الم بردار حکم ران خاموش رہتے ہیں ۔لیکن دوسری جگہوں پر مغرب کے بنائے ہوئے اصولوں پر مبنی انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی حکمران حرکت میں آ جاتے ہیں۔ اس ناانصافی پر مسلم حکمران بھی مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں خصوصا عرب کے بادشاہ تو لاتعلق ہو جاتے ہیں جیسے انہیں کچھ معلوم ہی نہیں۔ یہ کب تک چلے گا۔ کشمیر میں 1998 سے جاری بنیادی حقوق کی بحالی اور آزادی کی تحریک میں ایک لاکھ افراد مارے گئے ۔5 اگست 2019ء کے بعد آج تک جبری لاک ڈاون ہے۔ جس قدر وہاں مظالم ہو رہے ہیں اس طرح دنیا کی توجہ وہاں نہیں رہی اس عرصے میں 13ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں 9 سال سے کم عمر 145 بچے بھی شامل ہیں بلا وہ کیا دہشت گردی کر سکتے ہوں گے لیکن پتھر مارنے کے شبہ میں ان بچوں کو پکڑ لیا گیا ۔ 10ہزار افراد لاپتہ پتہ ہوئے۔ جن کے گھر والوں کو معلوم ہی نہیں کہ زندہ ہیں یا مار دئے گئے ۔گھر گھر تلاشی کے دوران 83 افراد کو شہید کیا گیا۔ 4 معصوم بچے۔ 3خواتین بھی شہید ہوئیں ۔ اسی دوران شمالی کشمیر میں 6228 گم نام قبریں دریافت ہوئی 1988سے اب تک تقریبا 18ہزار خواتین بیوہ ہوئیں۔ 25 ہزار بچے یتیم ہوئے 18ہزار گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا 9 ہزار مسلم خواتین کی عصمت دری کی گئی ۔ 780 کلو میٹر سیزفائر لائن پر جنگی صورت حال ہے۔ بھارتی گولہ باری سے آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں 19 لاکھ افراد مقبوضہ کشمیر جیسی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس کے باوجود دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں ناکامی کسی سطح پر ہماری سفارتی ناکامی اور سیاسی نالائقی تو ہو سکتی ہے مگر عالمی سپر طاقتوں کی جانب سے جانبداری کا مظاہرہ کھل کر سامنے آیا ۔صاف نظر آیا کہ کشمیریوں اوراس نوعیت کی دیگر مظلوم اقوام کے ساتھ کھلی بے انصافی ہو رہی ہے۔ تو سب سے زیادہ انصاف کرنے والی قدرت حرکت میں آ گئی ۔ آج دنیا میں ہزاروں افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے، لاکھوں بیماری اور کروڑوں بلکہ اربوں خوف میں مبتلا ہیں، سپر پاور کے گھمنڈ میں مبتلا مغرب کے متکبر حکمرانوں کو روتے دیکھ کر سری نگر کے ان بچوں اور خواتین کے آنسوؤں یاد آتے ہیں جن کے پیاروں کو بھارتی فوجی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ان کے بس میں سواء رونے کے کوئی چارہ نہیں ۔ آج یہ عالمی سپر طاقتیں قدرت کے سامنے بے بس ہیں جو کل تک دنیا بھر کی قسمت کے سیاح و سفید کے مالک بنے بیٹھے تھے ۔ مسلمانوں کو تو وہ سزا ملی کے تاریخ یاد رکھے گی۔ رب نے اپنے گھر اور اپنے نبی کے روزے کا دیدار ہی بند کر دیا وہ جگہ جہاں مسلمان اپنے رب سے ملاقات اور معافی مانگنے کی غرض سے حاضر ہوتا تھا وہ دروازے ہی بند ہو گئے ۔ گویا فی الحال رب نے آج کے مسلمانوں کو اپنے سے دور کر دیا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے یہ فکر اور عبرت کا زمانہ ہے کہ ان کے لئے تینوں مقدس مقامات، بیت اللہ، بیت المقدس، اور مسجد نبوی کے دروازے بند کر دئے گئے ۔ ہندو کی معشیت اور بڑی تجارتی منڈی سے متاثر عرب بادشاہوں کے پاس کوئی جواب ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو پہلے کیا کم دولت دی ہوئی تھی کہ تجارت اور معیشت کی بڑھوتری کی خاطر مسلمانوں کے قتل عام پر بھارت کے خلاف ایک مذمتی بیان تک دینے سے ڈرتے ہو کہ ہماری تجارتی منڈی نہ خراب ہو جائے۔۔ عرب کے شیخو تمیں یاد نہیں کہ تمارے جد امجد حضرت خلیل اللہ نے آگ میں جانا تو پسند کیا مگر بت پرستوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا اپنے ہی باپ کے گھڑے ہوئے بتوں اور بت خانے کو توڑا مگر تم ہو کہ اس پاک سر زمین پر بت خانے کا افتتاح کرتے ہو ۔ اے عرب کے بادشاہوں تمیں معلوم نہیں کہ ہمارے نبی نے عرب کی سرزمین کو بتوں اور بت پرستوں سے خالی کرانے میں کیا کیا صوبتیں برداشت کی اور تم ہو کہ دنیا کے سب سے بڑے بت پرست اور اس نبی کی امت کے سب سے بڑے دشمن مودی کو اسی سرزمین پر سب سے بڑا ایوارڈز دیتے ہو اس نے ایسا کیا کارنامہ انجام دیا ۔ کیا گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام پر یہ انعام ہے یا کشمیر کی 9 ہزار مسلم خواتین کی عصمت دری پر یہ نشان سپاس ہیش کیا گیا ۔امام کعبہ رو رو کر سورت رحمان کی تلاوت تو کر رہے ہیں، مگر عرب کے بادشاہوں پر اس کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے کہ پہلے رب نے نعمتوں میں کیا کمی چھوڑ رکھی ہے کہ مذید کی کوشش میں اس رب کا نام لینے والوں کو ہی بھول گئے اور اس کے دشمنوں کے ساتھ تعلق چھوڑتے ہو تیرے اباو تو اوٹنی کے دودھ اور کجھور پر گزارا کرنے میں شکر بجا لاتے مگر تمیں ان محلات، سونے اور تیل کی نہروں سے بھی اطمینان نہیں ۔میں کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تکلیف کو محسوس کرتا ہوں جو اس میں مبتلا ہیں یا جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ کشمیری ہونے کے ناطے میں نے ایک ندی کی طرح بہتے ہوئے کشمیریوں کے خون کو دیکھا اور اس دکھ کو محسوس کیا ہے۔ مگر ترقی یافتہ اقوام کہلانے والے لوگوں آپ نے بھی اپنے حکمرانوں کو انصاف پر مبنی فیصلے کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ آپ نے دنیا میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف کوئی مظاہرہ، کوئی احتجاج نہیں کیا تو گناہ میں حکمرانوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔۔ آپ تو زندگی کی تمام سہولتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے اور ظالم کو مظلوم پر مظالم سے نہیں روکا جو آپ کے اختیار میں تھا ۔ دنیا میں کسی بھی جگہ یہ خوف نہیں تھا جو مقبوضہ کشمیر ، فلسطین اور اس نوعیت کی محکوم اقوام میں تھا ۔ آپ نے اس کو محسوس ہی نہیں کیا۔آج کوویڈ ۔19(Covid-19) سپر طاقت اور وہاں کے عوام کے گھمنڈ کو گھٹنوں تک لے آیا۔میں اپنی سوچ کو دنیا بھر میں بانٹنا چاہتا ہوں جو کبھی ہمارے درد کو نہیں سمجھتے تھے۔ دنیا کی نظر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے ہم کشمیری ہمیشہ دہشت گرد رہے۔ جب دنیا سے انسانیت کی بنیادوں پر اس مسئلے کو انصاف کے مطابق حل کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ آنکھیں موند گئیں۔تو اے پیاری دنیا کے حکمرانوں اور عرب بادشاہوں آپ کے لئے کچھ عبرت کی نشانیاں ہیں ۔وہ جوان جو سری نگر کی کلیوں میں تھے آپ نے انہیں چلنے نہیں دیا اور ان سے زندگی چھین لی۔وہ بھارتی فورسز کی بندوقوں کی گولیوں سے پتوں کی طرح گرتے رہے اور آپ تجارتی نفع حاصل کرنے کی غرض سے خاموش رہے۔وہ بے قصور مارے جاتے رہے آپ نے کہا تھا کہ وہ تو پتھراؤ کررہے ہیں اس لئے دہشت گرد ہیں ۔کیا آپ کو لگتا تھا کہ واقعی وہ دہشت گرد اور آپ کی خونی کرسی کے لئے خطرہ تھے۔کچھ بچے تو اپنی بہن کے لئے کھلونا خریدنے نکلے تھے ان کے معصوم ہاتھوں میں تو پتھر بھی نہیں تھا پھر ان کی آنکھیں کیوں نکالی گئی کبھی بھارت سے کسی مغربی حکمران نے پوچھا جو دنیا کی حکمرانی کے دعوے دار ہیں ۔ کبھی کسی عرب حکمران نے بت پرستوں سے پوچھا اللہ نے جن کو اپنے گھر کی قربت دی۔ آپ سارے حکمران مجرم ہیں انسانیت کے اور مظلوم کشمیریوں کے ۔آپ نے ان لوگوں کو دنیا سے نکالا جو جوانی میں نہیں پہنچے تھے۔آپ کو روتی ہوئی کسی ماں کا درد محسوس نہیں ہوا ، آپ کا بچہ محفوظ تھا۔آپ سری نگر سمیت محکوم قوموں میں موت کا ناچ آرام سے دیکھتے رہےجو آپ سب مل کر روک سکتے تھے۔ لیکن اب وہی کچھ اپنے اندر دیکھ کر بلبلا رہے ہو، آنسو بہا رہے ہو۔ آپ نے باپ دادا کو ان کے بچوں کی لعشیں بھی نہیں دی، اب اہنی لعشوں کو چھپا چھپا کر ٹھکانے لگاو۔آپ نے بہادروں کو بندوق کے ذریعے خاموش کرکے خوف کے سفاکانہ امن کا نفاذ کیا۔آپ نے تازہ کھودی ہوئی قبروں پر کھڑے فتح کا دعوی کیا۔ اب اس لڑائی سے کیسے فتح حاصل کرو گے ۔ اس میں تو آواز نہیں آتی یہ اللہ لی لاٹھی ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی سخت سزا ہے ، کشمیر کے بچوں نے شہید ہو کر حیثیت حاصل کرلی ، جو سب سے اونچی ہے۔ اے مغرب و عرب کے حکمرانوں تم جرم کا اعتراف کرو گے لیکن اس سے انسانیت کے درد میں آرام نہیں ہوگا جس میں وہ مبتلا ہو چکی۔ توبہ کے بغیر اعتراف جرم ایک مشق بیکار ہے خصوصا مسلمان حکمرانوں کے لئے توبہ واجب ہو چکی ورنہ نہ معلوم اللہ اپنے سے کتنا عرصہ اور دور رکھے گا؟ آئیں سب مل کرعہد کرتے ہیں کہ وہ کسی کے بیٹے کو پھر سے مارنے کے لئے گھسیٹیں گے نہیں۔ اگر ایسا کریں گے تو سب مل کر روکیں گے ۔ ورنہ عذاب خدا نہ معلوم کتنا لمبا چلے ۔ کیا اے کرونا وائرس تو کیا کشمیر و فلسطین کے مظلوموں کا حساب لے رہا تو اب کو بتا تاکہ یہ توبہ کے ساتھ عبرت حاصل کریں ۔

About ویب ڈیسک

Check Also

بیورو کریسی نے وفاقی حکومت کو مفلوج کردیا۔

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی بیوروکریسی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے