ویب ڈیسک

وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے ستارے گردش میں

اسلام آباد سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان کی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ستارے بھی گردش میں بتائے جارہے ہیں ۔مصدقہ ذرائع کے مطابق اعظم سلیمان نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ اعظم خان کے ساتھ ہونے والی چپقلش کے بعد لی۔ اعظم خان اور اعظم سلیمان کے درمیان معمولی باتوں پر بھی تکرار ہونے لگی تھی حتیٰ کہ اعظم خان نے ایسی فائلوں پر بھی اعتراض …

مزید پڑھیں»

باپ اور بیٹی

میں مال روڈ لاہور کے بیچوں بیچ اپنی گاڑی کے بند ہونے پر شدید شرمندہ تھا _ میں نے ارد گرد کے لوگوں سے مدد لے کر گاڑی کوسڑک کے اک طرف لگایا اور خود مکینک کو کال کر کے اسکا انتظار کرنے لگا _ مکینک نے بلکل قریب سے ہی آنا تھا اور جناب فونپر ہی تیز رفتار ٹرین پر سوار کی مانند تھے کہنے لگے سر جی فون رکھیں میں آیا _ یہی سوچتے ہوئے خود میں مسکراتے اپنی گاڑی سے ٹیکلگائے ارد گرد کا نظارہ کرنے میں مصروف تھا کہ میں نے بہت خوبصورت سی فراک میں ملبوس اک ننھی بچی کو اپنے اک صاحبکے ساتھ کھلونوں کی دکان سے باہر آتے دیکھا _ بچی کی عمر لگ بھگ 5، 6 سال ہوگی _ دیکھا کہ بچی صاحب سے شدید ناراض ہو رہیتھی اور مسلسل کچھ مانگ رہی تھی _ گاہے بگاہے اپنے پیچھے آتی اک عورت سے بھی کچھ نہ کچھ کہہ دیتی مگر اپنی موٹر-سائیکل پربیٹھنے کو قطعاً تیار نہ تھی_ دور کھڑا میں نجانے کیوں یہ بحث بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی بہت کششمحسوس ہو رہی تھی لہٰذا میں نے سڑک پار کر کے مگر ان سے کچھ دور کھڑے ہو کر سب دیکھنے لگا اور ان پر کچھ ظاہر نہ ہونے دیا_ وہ صاحب اور انکے ساتھ عورت غالباً اس بچی کے والدین تھے اور بچی بار بار گڑیا کے کپڑے استری کرنے کے لیے دکان میںلگے استری والے کھلونے کے لیے ضد کر رہی تھی جبکہ اسکے والد اسے بار بار سمجھا رہے تھے کہ بیٹا آپکے پاس اتنے کھلونے ہیں آپکوابھی اسکی ضرورت نہیں ہے ہم پھر کبھی لے لیں گے لیکن بچی بضد تھی، اس سب میں اسکی والدہ بھی اسے سمجھاتیں لیکن میںنے اس بچی کی آنکھوں میں غصہ دیکھا جو کہ آہستہ آہستہ شدید رونے میں بدلتا جارہا تھا اور وہ بار بار پکار رہی تھی کہ آپ میرے باباہو آپ میری بات مانو گے اور وہی کرو گے جو میں کہہ رہی ہوں _ اس سب کے باوجود بھی جب وہ نہ مانے تو بچی وہیں سڑک پہبیٹھ گئ اور کہنے لگی کہ جب تک نہیں لے کر دیں گے میں گھر نہیں جاؤں گی گھر پہ سب کیا سوچیں گے کہ میرے بابا میری باتنہیں مانتے _ خیر ارد گرد ہجوم اکٹھا ہوتا دیکھ اس بچی کے ماں باپ نے ہامی بھر لی اور وہ کھلونا اسکو دلوا دیا_ میں نے دیکھا کہ جب وہ بچی دکانسے کھلونا لے کر باہر آئ تو اسکی آنکھوں میں عجیب سی جیت تھی اور وہ بے حد خوش تھی_ کہنے کو یہ عام سی بات ہے کہ بچی نےضد کی اور ماں باپ نے پوری کر دی لیکن مجھے اس بچی پہ شدید غصہ آرہا تھا _ میں دیکھ رہا تھا کہ اسکا باپ بار بار اپنے دونوںہاتھوں سے اپنا چہرہ عجیب الجھن میں مل رہا تھااس نے بیوی اور بچی کو موٹر سائیکل پر بٹھایا بچی نے باپ کا چہرہ چوما بھی اور کہاکہ آپ میرے بابا ہو اس الجھن بھرے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی اور وہ لوگ وہاں سے چلے گئے _ مکینک بھی آگیا تھا اور گاڑی ٹھیک ہوتے ہی میں بھی وہاں سے نکل پڑا لیکن میرے دماغ میں مسلسل سوچوں کے چکر چلتے رہے کہبچارے باپ نے نہ جانے کس چیز کے لیے پیسے بچا کر رکھے ہوں گے وہ اب سارا دن پریشان رہے گا اور دل میں دعا کرتا رہا کہاسکی اور کمائی ہو جائے اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو  اس سب بیچ میرا بچی پر غصہ قائم تھا کہ اتنی سی عمر میں نجانے کہاںسے سیکھ جاتے ہیں بچے یہ ضد اور باتیں، میں تو بلکل برداشت نہ کروں _ خیر کچھ دیر میں دہان بٹ گیا اور میں اپنے آفس چلا گیالیکن رات کو گھر دیر سے آیا کھانا کھایا اور جیسے ہی میں کپڑے تبدیل کر کے لیٹا مجھے پھر سے وہ بچی یاد آنے لگی لیکن اس بار میرےذہن پہ کسی اور بات کا غلبہ تھا_ میرے کانوں میں بار بار اس بچی کی آواز گونج رہی تھی آپ میرے بابا ہو آپ میری بات مانوگے، آپ میرے بابا ہو، اک دم سے میرا دل تیز رفتار سے دھڑکنے لگا تھا یا یوں کہیں کہ مجھے اسی لمحے احساس ہوا تھا کہ نجانےکون اس چھوٹی سی عمر میں اس بچی کے ذہن میں یہ احساس کمتری ڈال رہا تھا؟ کس نے سکھائ تھی اسے یہ مقابلہ بازی؟ مجھے پھرآہستہ آہستہ اسکا ہر لفظ یاد آنے لگا "بابا مجھے انہوں نے کہا تھا بابا تمہارے ہیں لیکن ہم لے لیں گے، بابا میں ایسے گھر جاؤں گی تووہ سب ہنسیں گے-" میں سب کان بند بھی کر رہا تھا تب بھی میرے ارد گرد وہی آواز بلند تھی _ اب مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی اور پس منظر ہے _ اسبچی کی آنکھوں میں جنون تھا، جب وہ اپنی بات منوا نہیں پا رہی تھی تو ہر انتہا کو چھو جانا  چاہتی تھی ایسے جیسے وہ اک بھنور میںپھنس گئی ہو اور وہاں سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہو اور اسکو صرف اسکے بابا بچا سکتے ہوں _ وہ اپنی ماں کی بھی نہیں سنرہی تھی، رو رہی تھی، لڑ رہی تھی، سڑک پر بیٹھ گئی یہاں تک کہ لیٹنے کو تھی کہ اسکے بابا مان گئے اک دم شور تھم گیا تھا اسکیآنکھوں میں اک چمک تھی، وہ اک دم سے اٹھی اور سیدھا دکان کے اندر چلی گئی یہاں تک کہ اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اسکاباپ پیچھے آ بھی رہا ہے یا نہیں _ اس نے وہ کھلونا لیا اور بالآخر اسکے باپ نے بل ادا کیا اور وہ اسی جیت کے ساتھ سر اٹھا کر باہرآئ جیسے اسنے کوئی جنگ فتح کر لی ہو _ اس نے اپنے بابا کو پیار کیا اور کہا کہ دیکھا آپ میرے بابا ہیں اور مجھ سے بہت پیار کرتےہیں اور مسکراتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئی _ اس وقت میں نے سوچا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو سارا دن محنت کرتا ہے اپنی بیوی بچوں سے پیار نہ کرتا ہو،انہیں کے لیے تو محنت کرتا ہے یہ کوئی کہنے کی بات ہے لیکن اب مجھے احساس ہو رہا ہے جنوری کی سخت سردی میں اپنے پوشعلاقے کے بڑے سے گھر میں اپنے آرام دہ پلنگ پہ لیٹے ہوئے بھی مجھے اس بچی کی تکلیف شدت سے محسوس ہو رہی ہے _ کوئیتھا اس سب کے پیچھے، باپ بھی شدت سے بچی کی خوشی چاہتا تھا اور بچی بھی صرف اپنے باپ سے اپنی بات منوانا چاہتی تھی،اسے اس کھلونے سے زیادہ ضرورت اپنے باپ کی تھی _ کیا ہم لوگ ہیں اسکی وجہ؟ 5، 6 سال کی عمر میں کس نے اسے کہا تھا کہ بابا تمہاری بات نہیں مانیں گے؟ تمہارے نہیں ہمارے زیادہ ہیں؟ کیا اس بچی کےمعصوم ذہن پر یہ باتیں اثر انداز نہیں ہوئ ہوں گی؟ میں ایسی ہی سوچوں میں گھرا ساری رات کاٹ گیا تھا، دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز آئی، میں اٹھا، وضو کے بعد نماز ادا کی اوروہیں بیٹھ گیا _ ہاتھ اٹھائے، نجانے کس الہام کے انتظار میں تھا، کچھ بھی مانگا نہیں جا رہا تھا کہ تبھی جائے نماز پر بیٹھے ہوئے مجھےاحساس ہوا کہ نہ تو باپ غلط تھا اور نہ ہی بچی کا رویہ غلط تھا، وہ معصوم تو وہی کر رہی تھی جو ارد گرد سے سن رہی تھی اور باپبھی سارا دن معاش کے لیے بھٹکتا رہتا ہوگا_ ہمارے ہاں کے خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم) میں ہم آپس کی مقابلہ بازی میں بچوں کو بھی شکار بنا جاتے ہیں اور غلط درحقیقت کوئی نہیں ہوتا بس رویے، نظریات اور حالات ایسے ہو جاتے ہیں اور تبھی مجھے احساس ہوا کہ میں بھی کل سے اک عامسے منظر میں منفی پہلو ڈھونڈنے میں کوشاں تھا، شاید کہ ہم ہمیشہ احساس، جزبات اور رشتوں کو صحیح اور غلط کے ترازو میںتولتے رہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ تو بس روز روشن کی طرح ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، نہ غلط نہ صحیح، بس ہمارےاپنے ہوتے ہیں _ اسی لمحے میرا ہاتھ آمین کے لیے اٹھا، مجھے احساس ہوا کہ میرا چہرہ بھیگا ہوا ہے اور دور کہیں افق سے سورج نے نکل کر ہر طرفاجالا پھیلا دیا ہے یہاں تک کہ میرے دل پر جمی گرد بھی ہٹا دی ہے اور مجھے اب صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ ضد بھی ضروریتھی، وہ مجبوری کے باوجود باپ کا بچی کی خواہش پوری کرنا بھی ضروری تھا _ کیونکہ اس سب میں صرف جیت چھپی تھی، ماںباپ اور اولاد کی جیت، محبت کی جیت، رشتوں کی جیت کیونکہ محبت ہی یر رشتے کی بنیاد اور زندگی کی بقا ہے_ *ڈاکٹر انعم پری*

مزید پڑھیں»

گناہ سے نفرت کیجیے گناہ گار سے نہیں

جام پور تھانہ سٹی میں ایک اور ملزم پولیس تشدد کے دوران جانبحق ایک ماہ میں دوسرا شخص پولیس حراست میں جانبحق۔ جام پورتھانے میں پولیس کے ہاتھوں دوسری ہلاکت کے واقعے نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا ۔ کہ وطن عزیز میں قانون نافد کرنے والے ادارے قانون سے بالا تر کیوں ہیں۔ اے روز پولیس گردی پولیس۔ پولیس تشدد سے حولات میں بند ملزمان کی ہلاک ہونے کے …

مزید پڑھیں»

نیلم بھٹی

آگیا راس تیرے شہر کا موسم سارا بن گیا میری تھکی آنکھ کا مرہم سارا محوِ الفت ہے کوئی خاکی سرِ دشتِ جنوں اور مبہوت ہوا جاتا ہے عالم سارا سرِ محفل نہ کیا اس نے تماشہ مجھ کو رازِ الفت یوں رہا بات میں مبہم سارا رقص پانی پہ کیا کرتا ہے عاشق کوئی کس کی چاہت میں کھنچا آتا ہے زمزم سارا سرِ افلاک صحیفہ جو ستاروں نے …

مزید پڑھیں»

معروف ادیب و شاعرہ نیلم بھٹی

‎ ‎نیلمؔ بھٹی ‎یہ تخلص اور قلمی نام ہے ‎رہائش امریکہ میں ہے ‎پاکستان میں گوجرانوالہ سے ہوں۔ تعلیم لاہور میں لی ‎فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کی۔ یہ والدہ کی خواہش تھی ‎امریکہ میں آکر شعبہ بدل لیا اور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک ہوں یہاں اور اللّہ نے بہت ترقی اور عزت دی ہے۔ ‎اردو ادب سے بہت لگاؤ تھا کسی زمانے میں۔ شاعری …

مزید پڑھیں»

جاگیردار اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاتے ہیں مگر لوگوں کو تعیلم سے محروم رکھتے ہیں

تحریر کائنات ملک ۔۔۔. ضلع راجن پور کی کل ابادی 20 لاکھ ہے ۔ضلع راجن پور پنجاب کا دور افتادہ اور پسماندہ ضلع ہے اس کے مغرب میں کوہ سلیمان کے بلند پہاڈ۔تو مشرق میں دریاے سندھ بہتہ ہے ۔یہ بہت زرخیز علاقہ ہے۔یہاں گندم۔کپاس۔گنا۔چاول۔چنا۔سرسوں ۔سورج مکھی۔ تمباکو۔سبزیاں پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔اس کی ستر فیصد ابادی دیہات میں رہتی ہے جس کا زریعہ معاش کھیتی باڑی ہے ۔یہاں غریب …

مزید پڑھیں»

سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کی آپریشن تھیٹر میں غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے والے مجرم کے خلاف کارروائی

سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے (ڈی -ای-خان سرکل) آپریشن تھیٹر میں دورانِ زچگی خواتین کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے والا ملزم گرفتار۔ ملزم انعام پراوئیٹ کلینک میں بطور ہیلپنگ سٹاف کام کرتا تھا۔ ملزم نے دوران زچگی مختلف خواتین کی ویڈیوز ریکارڈ کرکے کلینک کے مالک جو کہ ڈاکٹر تھا اسکو بلیک میل کرتا۔ متاثرہ شخص کی درخواست پہ ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر خان کی رہنمائی میں …

مزید پڑھیں»

تبدیلی کی ہوائیں۔عوام پھر امید سے

راجہ عاطف ذوالفقار اسلام آباد مقتدر قوتوں کی طرف سے مسلسل سپورٹ اور ملکی و ملکی معاملات میں بھرپور مدد کے باوجود وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی معاشی، خارجہ پالیسی ، امن وامان، گورننس، اور کرونا سمیت ہر محاذ پر مکمل ناکامی کے بعد ملک میں تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں، ملکی فضاؤں میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو آرمی چیف، ائیرچیف اور چینی سفیر …

مزید پڑھیں»

اختر مینگل کے 6 مطالبے

. . تحریر کائنات ملک میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اختر مینگل کےحکومت سے 6 مطالبے کی تائید کرتی ہوں ۔لاپتہ افراد کے مسلے کو بختہ جزبوں کے ساتھ حل کیا جاے۔اور ائندہ اسے واقعات سے گریز کیا جاے۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل کیا جاے۔تمام سیاسی جماعتیں مل کر بلوچستان کی ابادیاتی تشخص اور بلوچستان کےحقوق کا تحفظ کیا جاے۔قدرتی معدنیات کی تقسیم پر از سر نو جائزہ لیا …

مزید پڑھیں»

موجودہ بجٹ چھوٹے تاجروں کے کاروبار کو مکمل ختم کر دیگا۔زاہد حسین

موجودہ بجٹ چھوٹے تاجروں کے کاروبار کو مکمل ختم کر دیگا ۔ فرنیچر کے بنانے والے اور فروخت کرنے والے بد ترین مالی بہران کا شکار ہیں ۔ حکومت فرنیچر انڈسٹری کے لئے بلا سود قرض کا فوری اجرا کرے ۔ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان فرنیچر ایسو سی ایشن کی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس کی فراہمی کی مہم ۔ حکومتی بیانیہ کے برعکس نہ صحت ترجیح …

مزید پڑھیں»