این اے 120 کا انتخابی میدان سج گیا، پی پی نے دھاندلی کا الزام لگا دیا

لاہور: سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نااہلی سے خالی ہونیوالی نشست این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں پولنگ شروع ہوگئی ہے۔ پولنگ کے آغاز پر ہی پیپلزپارٹی کے امیدوار فیصل میر نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگا دیا ہے. فیصل میر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نواز شریف کے زیر اثر ہے اس لیے وہ ن لیگ کے امیدوار کو جتوانے کیلئے دھاندلی کر رہا ہے. دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما بلال یاسین نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ یک طرفہ مقابلہ ہے اس میں‌ شیر ہی جیتے گا.
اس سے پہلے صبح جب این اے 120 کا تاریخی ضمنی انتخابی معرکہ شروع ہوا اور ووٹرز کی بڑی تعداد حق رائے استعمال کرنے پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی، جب کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ووٹرز کو جامع تلاشی کے بعد پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے دیا جارہا ہے اور شناختی کارڈ کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور فوج کا مشترکہ گشت بھی جاری ہے۔
حلقے کے 3 لاکھ 21 ہزار 786 ووٹروں کیلئے 220 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 79 ہزار 642 اور خواتین ووٹرزکی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار 144 ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہے گی، جس کیلیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج و رینجرز تعینات ہے جب کہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کردیئے گئے ہیں ۔ فوجی جوان آج رات بھر پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہیں گے۔
لیگ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد امیدوار ہیں، پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے امیدوار ضیا الدین انصاری سمیت 44 امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ کی توقع ہے۔
الیکشن کمیشن نے پریذائیڈنگ افسران کو پولنگ کے بعد نتائج فوری جمع کرانے کا حکم دیا ہے، 39 پولنگ اسٹیشنوں پر آزمائشی بنیادوں پر بائیومیٹرک مشینوں کا استعمال کیا جائیگا۔ حلقے میں 70 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیدیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں