لوگ فیصلہ کریں وہ عدلیہ کے ساتھ ہیں یا ڈاکو کے، عمران خان

خوشاب: تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 120 میں لاہور کے لوگ اپنے ضمیر کےمطابق فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان کی عدلیہ کے ساتھ ہیں یا ملک کے سب سے بڑے ڈاکو کے ساتھ۔
خوشاب میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 21 سال پہلے یہاں آکر سیاسی تقریر کی کہا، جب کہا کہ کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے تو لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آئی لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ قوم کو سمجھ آگئی ہے میں اکیس سال سے کیا کہہ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن دیمک کی طرح ملک کو کھاتی ہے، امیر ترین ملک جو کرپٹ ہوتا ہے وہاں خوشحالی نہیں آتی غربت ہوتی ہے، جب تک کرپشن کی کینسر ختم نہ کی تو نوجوان بے روزگار پھرے گا، غریب غریب تر ہوجائیگا، پینے کا پانی تک نہیں ملے گا۔
عمران خان نے کہا کہ خوشحال ملکوں میں حکومتیں کسان کی مدد کرتے ہیں، جب ایک حکومت کرپشن سے کنگال ہوجائے تو وہی ہوتا ہے جو آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے، آج ہم بھارت، بنگلا دیش اور سری لنکا سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں، جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو وہ غریب تھے لیکن اب وہ ہم سے آگے نکل گئے اس کی وجہ ’’کیوں نکالا مجھے‘‘ ہے۔
چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جب ملک میں اوپر ڈاکو بیٹھ جائیں اور پیسہ چوری کرکے لے جائیں، جو پیسہ عوام پر خرچ ہونا ہے اس کے محلات لے لیں، بچوں کو ارب پتی بنادیں، عوام کا پیسہ جب ان کی بڑی بڑی فیکٹریوں میں لگے اور یہ باہر بادشاہوں کی طرح رہیں تو وہ قوم غربت اور قرضوں میں ڈوب جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند سال پہلے جب مریم نواز سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں، لیکن انہیں پتا نہیں تھا کہ اللہ کی پکڑ بھی ہوتی ہے اور پاناما میں انکشاف ہوجائے گا، مریم نواز سے پوچھتا ہوں کہ جب آپ کا پیسہ حلال تھا تو آپ کو جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پڑی، یہ غریب قوم کا پیسہ تھا اس لیے جھوٹ بولا گیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ این اے 120 میں ایک زبردست میچ ہونے والا ہے، ایک طرف وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، ان کے سارے وسائل وزیر اور ایم این ایز ہیں، دوسری طرف تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد ہیں، لاہوریوں کو جانتا ہوں، لاہور کے لوگ فیصلہ کریں گے وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ عدلیہ جس نے پہلی مرتبہ طاقتور کا احتساب کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کو سلام کرتا ہوں کہ آپ نے ہمیں امید دی ہے، آج تک پاکستان میں جیلوں میں صرف غریب آدمی جاتا ہے اور کمزور جاتا تھا، پاکستان کی تاریخ میں جب بھی طاقتور کا کمزور سے ٹکراؤ ہوا طاقتور ہمیشہ جیتتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ نواز شریف یہ نہ پوچھیں کیوں نکالا، یہ پوچھیں کہ جو لوگ جیلوں میں ہیں ان کا کیا قصور ہے کیونکہ سارے پاکستان کے چوروں کی چوری ملاؤ تو ان کے ایک بیٹے کی چوری سے کم ہے۔
چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ لاہور والوں کو پیغام دیتا ہوں قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، کیا آپ ملک میں عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں یا ملک کے سب سے بڑے ڈاکو کے ساتھ کھڑے ہیں، مجھے پتا ہے یہ پیسہ چلائیں گے کیونکہ انہوں نے ساری زندگی رشوتیں دے کر لوگوں کے ضمیر خریدے لیکن لاہور کے لوگ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں، اگر یہ پیسہ دیں تو پکڑ لیں لیکن ووٹ بلے کو دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز ماں کی بیماری پر مظلوم بن ووت نہ مانگیں، یہ لوگ 30 سال سے اقتدار میں ہیں اور 6 مرتبہ باری لی لیکن ایک اسپتال نہیں بناسکے جہاں کلثوم نواز علاج کراسکیں۔
عمران خان نے کہا کہ انصاف جیتے گا، مجھے نیا پاکستان اوراچھا وقت نظر آرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں