پاناما فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی نظر ثانی اپیلیں خارج کر دیں۔
پاناما کیس کی نظرثانی درخواستوں کی سماعت پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کررہے ہیں جب کہ دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت شیخ سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اورجسٹس گلزاراحمد شامل ہیں۔
فیصلہ سنانے سے قبل سماعت کے دوران حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ کیس کی بیشترگراؤنڈز خواجہ حارث کے دلائل سے مطابقت رکھتے ہیں اورمیں فیلڈ پراپرٹریز کے حوالے سے کیپٹن صفدر کیخلاف ریفرنس پر دلائل دونگا، کیپٹن صفدر کا لندن فلیٹس سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن عدالت نے کیپٹن صفدرکے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق کیپٹن صفدر کا بھی کچھ تعلق بنتا ہے، کیپٹن صفدر کی اہلیہ نے پہلے جائیداد سے انکار کیا پھر ٹرسٹ ڈیڈ تسلیم کی جب کہ کیپٹن صفدرنے بھی پہلے انکار کیا پھر ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط مان لئے۔ سلمان اکرم راجا کے بقول جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی کیپٹن صفدر کے خلاف کچھ نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرلیے تھے جب کہ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ نوازشریف اور اسحاق ڈار عدلیہ مخلاف مہم کی قیادت کررہے ہیں اورجیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں