روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزی … تحریر مقصود انجم کمبوہ

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ میانما ر میں فوج اور حکومتی جتھوں کی جانب سے 5روز میں 2100دیہات ، مسلمانوں سمیت جلا دئیے گئے ہیں 10ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئے ہیں1500سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے زندہ انسانوں کے اعضاء کاٹ کاٹ کر چیلوں اور کوئوں کو کھلائے گئے ہیںایک لاکھ 30ہزار افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن کو علاج کے بغیر رکھا گیا ہے ایک لاکھ سے زائد جنگلوں میں محصور ہیں بنگلہ دیشی حکومت کی سنگدلی کے باعث کشتیوں میں سوار 20ہزار سے زائد افراد سمندر میں بھٹکنے پر مجبور ہیں 200معصوم بچوں کے سر تن سے جدا کردئیے گئے ہیں 87ہزار افراد بنگلہ دیش میں بے سرو سامان پڑے ہیں ان کو خوراک تک نہیں دی جارہی لوگ گھاس پوس اور درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں لگتا ہے دنیا میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہی آئیندہ 100دنوں میں کسی ملک نے مداخلت نہیں کی جس سے اموات میں اضافہ ہوا تنظیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گھمبیر حالات میں فوری طور پر امن فوج بھیجی جائے کئی دنوں کی قیامت خیز صورتحال کے بعد برما میں ہونے والی خون کی ہولی اور تاریخ کے شرمناک مظالم اور بربر یت کے بعد ترکی کے صدر بول پڑے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ فوری نوٹس لے ورنہ سرحدیں پائوںمیں روند کر برما کے مسلمانوں کی مدد کو پہنچیں گے بعد ازاں ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی مسلمانوں کے قتل عام کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ترکی کے سربراہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہاہے کہ اگر یونائیٹڈ نیشن خاموش رہی تو ہم تمام سرحدی بندش توڑ کر برما کے مسلمانوں کے تحفظ کے لئے فوجی دستے روانہ کردیں گے اس سلسلے میں ہماری افواج بالکل تیار کھڑی ہیں اب صرف اقوام متحدہ کی طرف سے کسی نوٹس کا انتظار ہے اگر اس نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو پھر ہم مزید انتظار کئے بغیر اپنا فیصلہ سنادیں گے افسوس صد افسوس برما میں ایک عرصہ سے جاری مسلمانوں کی قتل و غارت گری پر تمام مسلمان ممالک کی حکومتیں خاموش بیٹھی رہی ہیں حالا نکہ ان میں سے ایسے ممالک ہیں جو برمی مسلمانوں کو اپنے ہاں بسا سکتے ہیں یا پھر ان کے لئے متبادل انتظامات کر سکتے ہیں مگر افسوس ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی غیرت مر چکی ہے بو سینا کے بعد یہ دوسرا ملک ہے جہاں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے اور اربوں مسلمان ممالک کے سربراہ ستو پی کر سوئے ہوئے ہیں مزید یہ کہ جہادی تنظیموں نے بھی اس امر کا آج تک نوٹس نہیں لیا سویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی کے وقت پوری دنیا سے مجاہدین امڈتے چلے آئے اور روسیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی مگر افسوس فلسطین ، کشمیر اور روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور قتل و غارت گری پر مجاہدین ، طالبان اور جہادیوں کی غیرت کہاں چلی گئی ہے اب تو ایسے حالات دیکھ کر جی کرتا ہے کہ میں برما جاکر حکمرانوں کے اجلاس میں خود کش دھماکہ کرکے اپنا اسلامی فرض نبھادوں دنیا اس تماشے کو کب سے دیکھ رہی ہے برما میں ہونے والے مظالم پر مسلمان ممالک کو چاہئیے تھا کہ اب تک نہ صرف تجارت بند کر دی جاتی بلکہ سفارتی تعلقات بھی منقطع کر لئے جاتے میں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ترکی کے سربراہ طیب اردگان اور ایرانی صدر حسن روحانی کو جنہوں نے اتنے سخت الفاظ میں دنیا کو بتایا ہے کہ وہ اس معاملہ میں خاموشی برداشت نہیں کریں گے ۔ گذشتہ روز ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی غیرت جاگ اٹھی ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے پر اپنا رد ِ عمل ظاہر کیاہے ورنہ ان کی اپنی لڑائیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں