بینکوں کو اپریل تا جون 150 ارب روپے کا منافع

کراچی: نجی شعبے کے خام قرضوں (ملکی) میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں 4فیصد نمو ہوئی تھی۔
اسٹیٹ بینک نے 30 جون 2017 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے بینکاری شعبے کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ جاری کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق (اپریل تا جون2017) سہ ماہی کی اہم پیش رفت نجی شعبے کے قرضوں میں ہونے والی وسیع البنیاد اور بلند نمو ہے جو اس کے اثاثوں کی اساس میں 8.3 فیصد اضافے کا اہم سبب ہے۔
نجی شعبے کے خام قرضوں (ملکی) میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں 4فیصد نمو ہوئی تھی، اجناس کی خریداری کے لیے قرضوں کی موسمی ضروریات کے علاوہ مختلف شعبوں نے اپنی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کیا جس میں کیمیکل/دواسازی، توانائی کی پیداوار و ترسیل، زرعی کاروبار، غذا اور غذائی مصنوعات، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کاری وغیرہ شامل ہیں جب کہ کاروں کی فنانسنگ میں مسلسل اضافہ صارف قرضوں کو بڑھانے کا سبب بنا۔ قرضوں میں اضافے کو قرضوں کی لاگت میں کمی کا سبب بننے والی زری نرمی اور حقیقی معیشت کا فیڈ بیک خصوصاً بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں سرگرمیوں کے تسلسل جیسے سازگار میکرواکنامک حالات سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔
بینکاری شعبے کے اثاثہ جاتی معیار میں مزید بہتری آئی ہے کیونکہ خام غیر فعال قرضوں (این پی ایلز) کا تناسب جون 2017 تک کم ہو کر 9.3 فیصد پر آ گیا جو مارچ 2017 میں 9.9 فیصد تھا اور جون 2016 میں 11.1 فیصد تھا، سرمایہ کاریوں میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا ہے اورسب سے زیادہ پر کشش حکومتی تمسکات رہے، سرمایہ کاری کے رجحان میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ بینکوں نے زیادہ تر قلیل مدتی ایم ٹی بیز میں سرمایہ کاری کی ہے۔
حکومتی سیکوریٹیز کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافے سے بینکاری نظام کی پہلے سے اطمینان بخش سیالیت کی صورت حال کو مزید تقویت ملی ہے، شعبہ بینکاری کی امانتوں (ڈپازٹس) کی بنیاد میں6.5 فیصد اضافہ ہوا جو 2016 کی دوسری سہ ماہی کے 6.8 فیصد اضافے سے تھوڑا سا کم ہے۔ امانتوں کی نمو میں کمی کی بنیادی وجہ مالی اداروں کی امانتوں میں ہونے والی کمی ہے جس کی نوعیت عارضی ہے، دوسری جانب صارفین کی امانتوں جو فنڈنگ کا قدرے مستحکم ذریعہ ہوتی ہیں اور مجموعی امانتی بنیاد میں ان کا حصہ 96.5 فیصد ہے میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کی 6 فیصد گروتھ سے زیادہ ہے۔
شعبہ بینکاری نے اثاثوں پر منافع کی 1.8 فیصد اور ایکویٹی پر منافع کی21.9 فیصد کی مستحکم شرح سے 150.4 ارب روپے کا (قبل از ٹیکس) منافع کمایا، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ 2017 کی دوسری سہ ماہی میں قرضوں پر آمدنی کی مد میں سودی آمدنی میں 1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 8.6 فیصد کمی ہوئی تھی، شعبہ بینکاری کی شرح کفایت سرمایہ 15.6 فیصد ہے جو 10.65 فیصد کی کم از کم درکار سطح سے خاصی زیادہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کی اضافی مالکاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بینکوں کے پاس خاطر خواہ رقم موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں