خارجہ پالیسی میں بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟

(تحریر: محمد اعجاز)

دنیا میں دو سو سے زائد چھوٹے بڑے، آزاد، نیم خودمختار، اور کالونی نما ممالک میں دیہات کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ دس ہزار سے کم آبادی والے قصبات کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ جبکہ ساڑھے تین ہزار شہر ایسے ہیں جن کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کرجاتی ہے۔ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی خواہش ہمیشہ انسان کی سرشت میں شامل رہی ہے۔

انسان ترقی کرتا ہے تو اس کا ماحول بھی ترقی کرتا ہے،اور یہ ترقی اس کے ماحول، گھر بار ، گلی محلے ، شہر اور ملک سے بھی جھلکتی ہے۔ انسان جاگتا ہے تو اس کا شہر اور ملک بھی روشن ہوجاتا ہے۔آج امریکہ اور یورپ کے روشن ہونے کی وجہ وہاں کے بیدار لوگ ہیں۔ان لوگوں نے اپنے شہروں کو کس روشن اور ترقی یافتہ بنایا، اس کااندازہ ترکی کے شہر عکسرے کی مستقبل کی پیش بندی سے لگایا جاسکتا ہے۔عکسرے ترکی کے وسط میں واقع ہے اور اِکیاسی صوبوں میں سے ایک ہے۔1470 ءمیں اسحاق پاشا کے دور میں عکسرے کو باقائدہ ترک سلطنت میں شامل کیا گیا۔اس سے قبل یہ محض تارسس، انقرہ اور ”کونیا“ کے درمیان ایک گزرگاہ کے طور پر کام دیتا تھا۔ اس کے سات اضلاع میں ایگاکورین، عکسرے، عسکیل، گلاغیک، گلیزرٹ،آرتے کائے اور سریاہسی شامل ہیں۔ ان شہروں میں فطرت نے جابجااپنی صناعی کے کرشمے بکھیر رکھے ہیں۔ عکسرے شہر ترکی کا سینتالیسواں بڑا شہر اور چوتھابڑاسیاحتی مرکز ہے۔ دو ہزارسات کی مردم شماری کے مطابق عکسرے شہر کی آبادی ایک لاکھ انہتر ہزار چھہتر ریکارڈ کی گئی۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ چودہویں صدی میں عکسرے سے گزرا تووہ یہاں کے تاجروں کے اعلیٰ کردار، بصیرت، ایمانداری، اور محنت سے بہت متاثر ہوا۔ان تاجروں نے نہ صرف سارے علاقے میںاپنی محنت اور ایماندارانہ تجارت کی دھاک بٹھارکھی تھی بلکہ عکسرے کو اہم تجارتی مرکز بنا دیا تھا۔ عسکرے کے تاجر اپنی کمائی ہوئی دولت کا بڑا حصہ معاشرے کی فلاح وبہبود کیلئے بھی استعمال کرتے تھے۔ چودہویں صد ی میںعکسرے ”شہر سبز“ کہلاتا تھا۔شہر میں سینکڑوں باغات تھے۔، جن کی آبیاری کیلئے عکسرے میںایک ہزار سے زائد مصنوعی ندیاں بنائی گئیں تھیں۔نہ صرف شہریوں کے استعمال بلکہ ان ندیوں میں بہنے والا پانی بھی شہر سے میلوں باہر سے لایا جاتا تھا اور اس مقصد کیلئے آج سے چھ سو سال پہلے اس وقت کے جدید ذرائع استعمال کیے گئے تھے۔

آج کا عکسرے اگرچہ صنعتی شہر نہیں ہے لیکن اس کی مستقبل کی پیش بندی سے ترکی کے منصوبہ سازوں کے ذہین دماغوں کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ عکسرے کو دنیا کے مختلف ترقی یافہ ممالک کے درجنوں شہروں کے ساتھ جڑواں، دوست، ”ہمشیر“ اور بزنس پارٹنر شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ گزشتہ صدی میںعکسرے سے ہزاروں لوگ روزگار کی تلاش میںبرطانیہ جرمنی اور یورپ کے دوسرے ممالک میں گئے۔ ان عکسریوں نے نہ صرف زرمبادلہ کما کر اپنے ملک کو بھجوایا بلکہ اپنے شہر کو یورپ اور امریکہ میں متعارف کرانے اور اپنے شہر کیلئے سہولیات اور رعایتیں حاصل کرنے کیلئے بھی بڑی محنت کی۔ انہی عکسریوںکی محنت کے نتیجے میں آج عکسرے کو اپنے جڑواں شہروں کے ہم قدم ہوکر ترقی کرنے کے مواقع،خصوصی سہولیات اور رعایتیں میسر ہیں۔عسکرے اٹلی کے شہر وینس، آسٹریا کے گراز اور سنک پولٹن، فرانس کے پریڈز ، لونس لی سانیئر اور اجاشیکو، ہنگری کے ہوڈ میزوواسا رہیلی، جاپان کے اوساکا،سلوویکیا کے کوسائیس، سلوینیا کے شہر سلوینسکا بسٹریکا، بلگاریہ کے شہر برگاس اور رشین فیڈریشن کے شہر پیٹروپالووسک کامچٹسکی کا جڑواں شہرہے۔ عسکرے کے مجوزہ جڑواں شہروں میںروانڈا کاکیگالی اور آیئرلینڈ کا کارک بھی شامل ہیں۔

آپ عکسرے کے ایک جڑواں جاپانی شہر”اوساکا“کا مطالعہ کریں، تو آپ اس شہر کی ترقی سے دنگ رھ جائیں گے۔اوساکا کی آبادی عکسرے سے دس گنا زیادہ ہے، اس کے باوجود دونوں کو جڑواں شہر قرار دیا گیا ۔ اوساکا جاپان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور دو کروڑ کی آبادی والے میٹروپولیٹن علاقے کے قلب، کنسائی کے خطے (بے اوساکا) اور دریائے ”یودو “کے دھانے پر واقع ہے۔ اسے مقامی خودمختاری حاصل ہے۔اوساکا کو جاپان کا اقتصادی دارالحکومت اور معاشی کنٹرول سنٹر بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اوساکا کی رات کی آبادی چھبیس لاکھ ہے لیکن دن کے وقت اوساکا کی آبادی 141 فیصد اضافے کے ساتھ سینتیس لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔روزانہ گیارہ لاکھ غیرمقامی افراد تجارت اور کاروبار کیلئے اوساکا کا رخ کرتے ہیں۔ اوساکا کی تجارت سے نوے فیصد جاپانیوں کا کچن چلتا ہے۔ اوساکا ٹوکیو، نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، پیرس اور لندن کے بعد دنیا کی ساتویں بڑی میٹروپولیٹن معیشت ہے۔ اوساکا کی معیشت کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2004 ءمیں اوساکا کی گراس سٹی پراڈکٹ (جی ڈی پی) اکیس عشاریہ تین کھرب جاپانی ین تھی، جس میں اضافے کی شرح ایک عشاریہ دو فیصد سالانہ ہے۔

گریٹر اوساکا کی جی ڈی پی تین سو اکتالیس ارب ڈالر سالانہ ہے۔ صرف اوساکا شہر کی جی ڈی پی دنیا کے ایک سو ممالک سے زیادہ ہے۔ اوساکا کی فی کس آمدن تینتیس لاکھ جاپانی ین ہے۔ دوسرے ممالک کے مقابلے میں اوساکا کی معیشت گزشتہ پندرہ برسوں سے انتہائی مستحکم ہے۔ عالمی معیشت میں اوساکا کا کرداراس لئے بھی نہایت اہم ہے کیونکہ پینا سونک، شارپ اور سانیو سمیت سینکڑوںبڑی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہیڈکواٹرز اوساکا میں ہی واقع ہیں۔اوساکا کی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات دو سو سے زیادہ ممالک کو برامد کی جاتی ہیں۔ ماسٹر کارڈز کے مطابق دنیا کا ساتواں مہنگا ترین شہر ہونے کے باوجوداوساکا عظیم شہروں میں انیس ویں نمبر پر آتا ہے۔اوساکا کی ایک کنسائی الیکٹرک پاور کمپنی ”کیپکو“ کہلاتی ہے۔ جاپانی زبان میںاسے ”کن ڈین“ یعنی کنسائی، ڈینریکیو کابوشیکی گائشا کہتے ہیں۔ یہ کمپنی” کوبے اوساکا کیوٹو “سمیت سارے کنسائی کو بجلی فراہم کرتی ہے۔کیپکو جاپانی پاور انڈسٹری کی لیڈنگ اور اوساکا کی بڑی کمپنیوںمیںسے ایک ہے۔ صرف یہ ایک کمپنی پاکستانی ضرورت سے دگنی یعنی پینتیس ہزار سات سو ساٹھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کمپنی نو ہزار سات سو اڑسٹھ میگاواٹ جوہری، سترہ ہزار سات سو سڑسٹھ میگا واٹ تھرمل، تین سو پینتیس میگاواٹ ہائیڈرل جبکہ آٹھ سو اٹھارہ میگاواٹ بجلی دیگر ایک سو سینتالیس پاور پلانٹس کے ذریعے پیدا کرتی ہے۔

اوساکا کو تین بندگاہیں لگتی ہیں ان میں اوساکا کوبے، ساکائی اور حی میجی کی بندرگاہیں شامل ہیں۔کوبے کی بندرگاہ 1970 ءمیں دنیا کی مصروف ترین بندرگاہ تھی۔ دنیا کی سات بڑی بندرگاہیں اسکی سسٹر پورٹس ہیں۔اوساکا کے آٹھ سسٹر، تین دوست اور معاون جبکہ تیرہ کاروباری شراکت دار شہرہیں۔ چونکہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے، لہٰذا اوساکا کے تمام جڑواں دوست اور کاروباری شراکت دار شہر بلواسطہ طور پر عکسرے کے بھی دوست ہیں ۔ عکسرے کواوساکا کے تمام جڑواں شہروں کی ترقی سے بھی فیض یاب ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔عکسرے کوکسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے دوست شہر اسے فوری وہ چیز بھجوادیتے ہیں۔ عکسرے کو بجلی کی ضرورت پڑتی ہے، تو اوساکا فوراً © اسے پاور پلانٹ فراہم کردیتا ہے،عسکرے میں خوراک کی کمی ہو تو اس کے سسٹر شہر اسے خوراک کے کنٹینر ارسال کردیتے ہی۔ عکسرے کے دوست اسے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے، یہی وجہ ہے کہ غیر صنعتی اور غیر پیداواری شہر ہونے کے باوجود عکسرے میں کبھی کسی قسم کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ عکسرے میں کبھی لوڈشیڈنگ اور قحط سالی نہیں ہوئی۔صرف یہی نہیں بلکہ عکسرے کا شمارریونیو جنریٹ کرنے والے ترکی کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔

آیئے اب ایک نظر پاکستان کے شہروں پر ڈالتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے نو مختلف چھوٹے بڑے شہر دوسرے ممالک کے شہروں کے ساتھ جڑواں اور ”ہمشیر“ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، لیکن یہ جڑواں پن اور ہمشیر ہونا بھی لایعنی ہے۔ لاہور اور کراچی سولہ سولہ شہروں کے ساتھ، اسلام آباد، پانچ شہروں کے ساتھ، رحیم یار خان، فیصل آباد، پشاور اور ملتان دو دو شہروں کے ساتھ، جبکہ سیالکوٹ اور گوجر خان ایک ایک شہر کے ساتھ جڑواں ہیںلیکن کسی پاکستانی شہر کو ترقی یافتہ ملک کے شہر کے ساتھ کاروباری یا معاون شہر ہونے کا اعزاز حاصل نہیں۔
فیصل آباد انگلینڈ کے مانچسٹر اور جاپان کے شہر ”کوبے“ کے ساتھ جڑواں ہے۔ اگرچہ مانچسٹر اور ”کوبے“بھی صنعتی اور محنت کشوں کے شہر ہیں لیکن دونوں شہروں کا فیصل آباد کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یورپ میں آباد پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دست ِراست چوہدری رشید اور تین مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے والے چوہدری محمد سرور بھی فیصل آبادکے رہنے والے ہیں۔ ایک چوتھائی گلاسکو فیصل آباد سے نقل مکانی کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ ہالینڈ، جرمنی، فرانس، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، کوریا، ملیشیا اور دیگرترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑی تعداد میں فیصل آبادی مقیم ہیں، لیکن ہمارا دھیان کبھی فیصل آباد کے سسٹر شہروں کی تعداد بڑھانے اور ان سے حقیقی طور پر فیض یاب ہونے کی جانب نہیں گیا۔غالبا پاکستان میں جڑواں اور سسٹر شہروں کے فلسفے اور سائنس کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ بھائی تو پیدا ہوتے ہی شریک بن جاتے ہیں لیکن بہنیں صرف قربان ہونے کیلئے جنم لیتی ہیں۔ دنیا کے سو بڑے شہروں میں شمار ہونے کے باوجود دس ہزار شہروںمیں سے صرف دو فیصل آباد کے سسٹر شہر ہیں۔ اور ان دو شہروں کے ساتھ تعلق بھی کچھ زیادہ مربوط نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج نوے فیصد فیصل آباد کو بجلی دستیاب نہیں تو کوئی بہن اس کی مدد کیلئے نہیں آئی۔ بیس بیس گھنٹے بجلی اور گیس بند رہنے کی وجہ سے مقامی صنعت بری طرح مجروح اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں پاور لومز، سائزنگ، ویونگ، پرنٹنگ اور دیگر یونٹ دھڑا دھڑ بند ہورہے ہیں تو کوئی بہن فیصل آباد پر قربان جانے کیلئے موجود نہیں۔ اگر فیصل آباد کے زیادہ سسٹر شہر ہوتے اور ان کے ساتھ تعلق مربوط اور متوازن ہوتا تو کیا پھر بھی فیصل آباد کا یہ حال ہوتا؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہے! اگر پاکستان میں ماضی میں شہروں کے درمیان تعلقات استوار کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہوتی تو آج ہمیںیہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ آج ہم خوراک کے دانے دانے، توانائی کے کے ایک ایک یونٹ اورپانی کے قطرے قطرے کیلئے سِسک نہ رہے ہوتے۔ ہم سے تو عکسرے کے دور اندیش لوگ زیادہ سمجھدار ہیں۔ عکسرے نے آئندہ دس برسوں میں مزید دو درجن شہر وں کا جڑواں اور سسٹر شہر بننے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے ، جس کے بعد وہ ترکی کا ریونیو جنریٹ کرنے والاپانچواں بڑا شہر بن جائے گا، اورایک ہم ہیں کہ پہلے سے موجود دو جڑواںاور سسٹر شہروں سے بھی اکتساب فیض نہیں کرپائے!! کہاں ہیں ہمارے پالیسی ساز اور منصوبہ ساز؟ کہاں ہیں ہمارے ذہین دماغ؟ کہاں ہیںاڑتی چڑیا کے پر گننے والے ہمارے اہل دانش، جو آج تک یہ بھی نہیں سمجھ پائے کہ بہنوں والے بھائی مرا نہیںکرتے ہیںا ور سسٹر سٹیز والے شہر وںمیںمعیشت دم نہیں توڑتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں