مسائل کا حل کیسے ممکن ہو؟

تحریر: محمد اعجاز

خوف انسان کی فطرت میں لکھا ہے اور انسان ہمیشہ سے اپنے گردوپیش سے خوفزدہ رہا ہے۔ اسی خوف پر قابو پانے کیلئے انسان نے کبھی اپنے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کیں اور کبھی خود کو دفاعی حصار میں قید کرلیا۔ شمال کے نخلستانی خانہ بدوش اور وحشی قبائل کی مہمات سے بچنے کیلئے 201 قبل مسیح میں 2400 کلومیٹر طویل ایک دیوار تعمیر کی گئی۔ یہ دیوار پچیس فٹ اونچی اور پندرہ سے تیس فٹ چوڑی ہے ۔

اسے دیوار چین کہا جاتا ہے اور چاند سے نظر آنے والی واحد انسانی تخلیق ہے۔ سولہویں صدی میں ”مالاکن“ سلطنت کی شکست کے بعد پرتگیزیوں نے وہاں ”فیموسا“ نامی دیوار تعمیر کی، جو اپنے وقت کا عظیم حفاظتی حصار تھا۔ پانچویںصدی میں استنبول کی حفاظت کیلئے جزیرہ نما”تھریشئین“ کے ساتھ ایک عظیم دیوار بنائی گئی۔ اس دیوار کا نام ”اناست ایشئین دیوار“ رکھا گیا۔ 737ءسے 968 ءکے درمیان مختلف مراحل میںڈنمارک نے جزیرہ نما شمالی جرمنی میں شیلز وِگ میںایک حفاظتی دیوار تعمیر کی ۔ یہ دیواربالٹک کے ساحلوں کے ساتھ تیس کلومیٹرطویل، پیندے سے چھ میٹر اور چوٹی سے چار میٹر چوڑی دیوار تھی۔ یہ دیوار 1864 ءمیں آخری مرتبہ فوجی مقاصد کیلئے استعمال کی گئی۔ اس عظیم الجثہ دیوار کو ”تخلیق ڈینش“ بھی کہا جاتا تھا۔ 1513 ءمیں سکاٹ لینڈ کابادشاہ جیمز چہارم ”فلڈن“ کی تباہ کن جنگ میں مارا گیا، جس کے بعد برطانیہ کی جارحیت سے بچنے کیلئے سکاٹش باشندوں نے”دیوار فلڈن“ تعمیر کی ۔ 1930 ءمیں سوویت یونین کی مغربی سرحد پر دیوار سٹالن بنائی گئی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1942ئ میں جرمنی نے برطانیہ کے حملوں سے بچاو¿ کیلئے ڈنمارک، بیلجئیم اور فرانس کے ساحلی علاقوںمیںاٹلانٹک وال قائم کی۔یہ دیوار اپنے وقت کی سب سے مضبوط اور ناقابل عبور دیوار سمجھی جاتی تھی۔ اس دیوار کی تعمیر میںہزاروں مزدوروں سے جبری مشقت لی گئی۔ اس دیوار کی مضبوطی کا یہ عالم یہ تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ 60 لاکھ بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ یہ دیوار بھاری آرٹیلری، ہیوی مشین گنز اور دیگر خوفناک اسلحہ سے لیس تھی۔

جرمنی کے ہزاروں فوجی اس دیوار پر متعین تھے، جنہیں کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی اجازت تھی۔ شمالی آئرلینڈ میں بیلفاسٹ میں اکیس کلومیٹر تک پھیلا دفاعی ڈھانچہ 1970 اور 1990 میں دو مراحل میں تعمیر کیا گیا۔ یہ دیوار بیلفاسٹ میں پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک کے درمیان پرتشدد ہنگاموں کے بعد تعمیر کی گئی، جس کا مقصدمسیحی مذہب کے دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کے غیظ و غضب اور خوں آشام ارادوں سے بچانا تھا۔اس دیوار کی تعمیر میں لاکھوں ٹن لوہا، سٹیل اور اینٹیں استعمال کی گئیں۔ انیس سو نوے میں برلن میں مشرقی اور مغربی جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی اس دیوار کو گرادیا گیا ،جسے خونی دیوار بھی کہا جاتا ہے۔اس دیوار برلن کو عبور کرنے کی کوشش میں ہزاروں جرمن باشندے موت کے گھاٹ اتاردیے گئے۔

مراکش کو” پولی سیریوفرنٹ “کے علیحدگی پسند گوریلا فائٹرز سے بچانے کیلئے 1981میں دوہزار سات سو کلومیٹرطویل دفاعی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا، اسے” دیوار حیا “بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دیوار تین میٹر تک بلندہے اور اسے چھ مراحل میں تعمیر کیا گیا۔ اس دیوار کا بڑا حصہ ریت کے ٹیلوں پر مشتمل ہے۔ ۔ اپریل 2006 ءمیں اسرائیل نے مغربی کنارے پر 703 کلومیٹرطویل دیوار قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس دیوار کا ساٹھ فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ اسرائیل یہ دیوار فلسطینیوں کے دوسرے انتفادہ کے بعد خودکش حملوں سے بچاو¿ کے نام پر تعمیرکررہا ہے۔ یہ دیوارچالیس فٹ تک بلندہے۔ عالمی عدالت کی جانب سے غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود اسرائیل نے پوری ہٹ دھرمی سے اس کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے۔ امریکہ میں کیلی فورنیا اور پیسیفک اوشن کے ساتھ سین ڈیگو میں بائیس کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کی گئی جسے ”دی ٹورٹیلا“ یا ”سین ڈیگووال“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دیوار میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کوروکنے کیلئے تعمیر کی گئی۔ 2006 ءمیں امریکی کانگریس نے ” سیکیور فینس ایکٹ“ کے تحت میکسیکو کی سرحد کے ساتھ سات سو کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کرنے کی منظور ی دی۔ اس دیوار پر ایک ارب بیس کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔ انسانی سمگلروں نے اس دیوار کے نیچے نقب لگا کر میلوں لمبی سرنگیں بنا رکھی ہیں، جہاں سے ہر روز مختلف طریقوں سے غیرملکی امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان سرنگوں کو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کا مدفن بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ جب یہ سرنگ پکڑی جاتی ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ اس کے اندر کتنے لوگ ہیں، یہ سرنگ زمین بوس کردی جاتی ہے۔

ان دیواروں کے علاوہ اہل رومہ نے شمالی برطانیہ کی حفاظت کیلئے”انتونی وال“ تعمیر کی۔ بیجنگ شہر کی حفاظت کیلئے کئی عظیم الجثہ دفاعی حصار تعمیر کئے گئے۔ مالٹا میں کوٹنیئر، چیکوسلواکیا کی حفاظت کیلئے دفاعی باڑ اور ایمسٹرڈم کی دفاعی لائن کابھی مشہور دفاعی دیواروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاک افغان سرحد اور پاک بھارت سرحد پر بھی دفاعی باڑ لگانے کی باتیںہوتی رہتی ہیں۔ انسان نے اب تک اپنی حفاظت کیلئے جتنی بھی دیواریں بنائی ہیں،تاریخ شاہد ہے کہ یہ دیواریں انسان کی حفاظت نہیں کرسکیں۔ آخر انسان نے خود ہی ان دیواروں کو گرادیا، یا پھر حوادث زمانہ کے ہاتھوں ان کا نام و نشان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مِٹ گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ آپ کتنی ہی مضبوط دیواربنالیں، آپ خود کو کتنے ہی مضبوط حصار میں قید کرلیں، لیکن جب نا انصافی حد سے بڑھ جاتی ہے، جب زیادتی کے پیمانے چھلکنے لگتے ہیں اور جب جوروستم رسے تڑواکو اپنی شدت کا مظاہر ہ کرتے ہیں تو اس وقت عوام کے غیظ و غضب کو دنیا کی کوئی دیوار نہیں روک سکتی، اس وقت بپھرے ہوئے لوگوں کا سیلاب بلا خیز ہر چیز کو بہا کر لے جاتا ہے۔ یہ دیواریں، یہ رکاوٹیں، یہ فصیلیں اور یہ باڑیں، ناانصافی اور ظلم کا شکار ہونے والے لوگوں کے غصے کو نہیں روک سکتیں۔ ایسے حالات میں صرف خودکشیاں ہوتی ہیں یا پھر خودکش دھماکے ہوتے ہیں۔سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل، معاشرتی ناانصافیاں، اور ظلم پر مبنی سماج بھی لوگوں کو خودکش حملہ آور بننے پرآمادہ کرلیتا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے معاشروں میں کوئی خودکش حملہ آور کیوں نہیں بنتا جہاں لوگوں کو قدرے انصاف دستیاب ہے؟

ریاستی دہشت گردی ہو یا گروہی اور انفرادی دہشتگری ہو، ایک بات طے ہے کہ دہشت گردی سے بڑی شاید ہی کوئی لعنت اس وقت دنیا میں موجود ہو۔لیکن دہشت گردی کی وجوہات کا تدارک کرنے کی کوشش نہ کرنا بھی تو دہشت گردی کے فروغ کے باعث بن رہا ہے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی ایک وجہ معاشرتی ناہموری اور معاشی ناانصافی بھی ہے، اور انصاف ہے کہ الہٰ دین کا چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ غریب مہنگائی کا ایک دریا پار کرتا ہے تو اس کو آٹے، چینی اور روزگار کی عدم دستیابی جیسے ایک اور دریا کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔بیچارہ بھوکا دوسرے وقت دو نوالے ملنے کی آس میں ایک وقت خوشی سے فاقہ کرتا تو دوسرے وقت بھی خالی ہنڈیا اس کا منہ چڑھا رہی ہوتی ہے۔جناب عالی! یقین کریں یا نہ کریں ،دہشت گردی کی کسی بھی دوسری وجہ سے بڑی وجہ دراصل یہ غریب کی فاقہ مستیاں ہیں جو خون رنگ لارہی ہیں۔اس خون رنگ اورمنہ زور دریا کے سامنے بند باندھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان میں ہر ناانصافی، ہر ظلم، ہرزیادتی اور ہر جبر کے سامنے انصاف کی دیوار کھڑی کردی جائے۔ میرٹ کی خلاف ورزی کے راستے میں میرٹ کی پاسداری کا بند باندھ دیا جائے۔ معاشی ناہمواری کے سامنے مساوات کی باڑ لگادی جائے۔ امیر اور غریب کے بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرکے دہشت گردی کے جِن کو بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں