پاکستان کا فرسودہ انداز سیاست

(تحریر: محمد اعجاز)

وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے، لیکن پاکستان میں اگر کچھ نہیں بدلتا تو وہ ہمارا انداز سیاست ہے۔جو نہ کل بدلا تھا اور نہ ہی آج بدلا ہے۔دنیا میں سیاست کوعوام کے مسائل حل کرنے کیلئے ایک مناسب، متناسب اور موزوں راستہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن ہمارے ہاں وہی سیاست عوام کے مسائل کے حل کے راستے میں بذات خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

دنیا سیاست کو دکھی لوگوں کے راستے میں پھول بچھانے کا نام کہتی ہے لیکن وطن عزیز میں وہی سیاست لوگوں کے راستے میں کانٹے بونے کا سبب بن رہی ہے۔ دنیا میںسیاست لوگوں کی خدمت کا ذریعہ ہے، لیکن ہمارے ہاں سیاست اپنے دن” پھیرنے“ کا ایک بدنامِ زمانہ طریقہ قرار پاچکی ہے۔اب سیاست لوگوںکے دِلوں کی بجائے جسموں پر حکمرانی کرنے کا ایک راستہ اور لوگوں کے مقدر میں سیاہی بھرنے کا ایک وسیلہ سمجھی جاتی ہے۔ماضی میں بہت زیادہ پیچھے جھانکنے کی ضرورت نہیں، ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے۔ جب اہل پاکستان نے تیسرے آمرکے چنگل سے تازہ تازہ آزادی حاصل کی تھی۔تین آمریتوں کا مزا چکھنے کے بعد امید کی جارہی تھی کہ ملک میں اہل سیاست اب سمجھدار ہوچکے ہوں گے، اور آئندہ کیلئے آمریت کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روکا جاچکاہوگا۔ صرف پاکستانیوں پر ہی کیا موقوف، ساری دنیا یہی سمجھ رہی تھی کہ اب پاکستان جمہوریت کی ایسی پٹری پر چڑھ چکا ہے، جس پر سے اسے آسانی سے نہیں اتارا جاسکے گا۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے نو سال بعد حاصل ہونے والی جمہوریت سے ملک میںقومی اداروں کے مضبوط ہونے اور پھلنے پھولنے کی امید تھی۔ انیس سو اٹھاسی میں جمہوریت کی بحالی کے بعدامید کی جارہی تھی کہ عوام کو ان کا حق ملے گا اور ان کی برسوں پرانی محرومیاں ختم ہوجائیں گی۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا اور انیس سو اٹھاسی میں جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی عوام کو جمہوریت کے اصل ثمرات سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملا۔آمریت کے دور کی طرح تب بھی ادارے کمزور اور فرد مضبوط رہے۔

بلکہ مناسب کہنا تو یہ ہوگا کہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں جس طرح ادارے تباہ ہوئے، اس کے بعد ان اداروں کو استحکام نصیب نہ ہوسکا۔اسٹیبلشمنٹ اور افسر شاہی نے پرانے اور جید سیاستدانوںکو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ یہ بزرگ اور جید سیاستدان وہ تھے، جو سیاست کی اونچ نیچ ، باریکیوں اور حالات کی نزاکت کے حساب سے معاملات کو حل کرنے کا سلیقہ جانتے تھے۔ ان سیاستدانوں کی جگہ جو نو جوان قیادت سامنے آئی تھی، وہ ابھی پختہ کار نہ تھی۔ یہ قیادت اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے بِچھے جال کو دیکھ نہ پائی۔”لڑاو¿ اور حکومت کرو“ کا وہی صدیوں پرانا فارمولہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں تھا، جسے ”نقرئی“ ورق لگاکرذرا تازہ کردیا گیا تھا۔حد تو یہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کی مقبول قیادت دو دو مرتبہ اس جال میں پھنسی۔ اسٹیبلشمنٹ نے دونوں جماعتوں کو دو، دو مرتبہ استعمال کرکے مخالف کی حکومتیں ختم کرائیں۔ایک دوسرے کے خلاف ایسے مقدمات قائم کرائے گئے، جنہیں نہ کبھی عوام نے قبول کیا اور نہ ہی یہ مقدمات کبھی کسی عدالت میں ثابت کیے جاسکے۔ لیکن ”مقدمہ بازی“ کے اس چکر میں دونوں جماعتوں کے درمیان نفرت کی خلیج اتنی وسیع ہوگئی تھی، جسے پاٹنا کِسی کے بس میں نہ رہا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام سے دوچار رہا۔ادارے کمزور ہوتے چلے گئے۔قانون اور آئین کی حکمرانی قائم رکھنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ جیسے گیہوںکے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے،

اسی طرح انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے کے دوران سیاستدانوں کے ہاتھوں سے بہت سے ایسے کام ہوئے، جس نے نہ صرف سیاستدانوں کو بدنام کیا بلکہ مجموعی طور پر سیاست کو بھی گالی بنا کر رکھ دیا ۔سیاست اب خدمت خلق کا شعبہ نہ رہا تھا بلکہ ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور ٹانگیں کھینچنے کا فن رھ گیا تھا۔ جواس ”فن“ میں جتنا تاک تھا وہ اتنا ہی بڑا سیاستدان کہلایا۔اور حقیقت یہ ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کی نہیں، بلکہ ملک کی ٹانگیںکھینچ رہے تھے، ایک دوسرے کی آڑ میں بدنام بھی ملک کو ہی کیا جارہا تھا۔سیاسی مقدمات بھی دراصل ایک دوسرے کیخلاف نہیں بلکہ اس ملک کی اساس کیخلاف درج کرائے جارہے تھے۔آخر اس سارے سلسلے کا نتیجہ وہی نکلا جو انجام ایسے معاملات کا ہوا کرتا ہے۔ آمریت کے تین مسلسل ادوار کے بعد آنے والی جمہوریت بمشکل گیارہ برس پورے کرسکی تھی کہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو ایک مرتبہ پھر ملک پر آمریت کی طویل رات نے ڈیرے ڈال دیے۔ انسانی حقوق غصب کرلیے گئے، مقبول قیادت پر ملک واپسی کے دروازے بند کردیے گئے اور ملک کو لاقانونیت، اقربا پروری، مہنگائی، رشوت ستانی، بیروزگاری اور دہشت گردی جیسی لعنتوںکے حوالے کردیا گیا۔ گھروں سے لوگوں کو اٹھاکر ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچاجانے لگے۔

ملک میں ترقیاتی باب تقریبا بند کیا جاچکا تھا، یہی وجہ ہے کہ مشرف دور میں کوئی میگا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کیا جاسکا۔ باقی ماندہ قومی اداروں کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا گیا۔ عدلیہ کو پابند سلاسل کرکے عوام کی آنکھوں میں ٹمٹماتے امید کے آخری دیے بجھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن جب ہر جانب حبس کا موسم چھاگیا توٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھی انہی لوگوں کی جانب سے آئے جنہیں ہمیشہ دبا کر رکھا گیا تھا۔ ملک کی سول سوسائٹی بیدار ہوئی، عدلیہ کے اندر آزادی اور غیر جانبداری کے بے مثال جذبے نے جنم لیا،وکلاءنے قانون کی بالادستی کی خاطر قربانیوں کی نئی داستان رقم کرنے کا ارادہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان میں آزاد میڈیا نے ایک نئے اور روشن مستقبل کے حامل ملک کی بنیادیں استوار کرنے کیلئے آمریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا ۔ اب پاکستان کی مقبول قیادت بھی جلاوطنی میں بہت کچھ سیکھ چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین نے پاکستان کو حقیقی جمہوری معاشرے میں تبدیل کرنے کیلئے لندن میں بیٹھ کرجمہوریت کے اس میثاق پر دستخط کیے، جسے آج 1973ءکے آئین کے بعد سب سے مقدس دستاویز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ اسی دستاویز کا دباو¿ تھا کہ مقبول قیادت کو پاکستان واپس آنے کا موقع ملا، ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جمہوریت بحال ہوئی اور آمر کو ملک سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔یہ سب ہمارا کل تھا، لیکن آج کیا ہورہا ہے؟ کیا ہم نے اپنے تلخ کل سے کچھ سبق سیکھا؟

کیا ہم اب سدھر چکے ہیں ؟ کیا ہم نے آنے والے کل کیلئے بہتری کا کوئی سامان کیا ہے ؟ کیا ہم نے اپنے انداز و اطوار تبدیل کرلیے ہیں؟ کیا آج ہم ”مقدمہ بازی “ کی سیاست سے تائب ہوچکے ہیں؟ کیاہم نے اپنے مشترکہ دشمن سے مقابلے کیلئے باہم دست و گریباں ہونے سے گریز کرنے کا کوئی ارادہ کیا ہے؟ کیا ہم نے طے کرلیا ہے کہ آئندہ سیاست کو ملک کے کروڑوں غریب عوام کی خدمت کا ذریعہ بنانا ہے اورسیاست کے دامن پر لگے بدنامی کے داغوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دھو ڈالنا ہے؟یقینا ایسا نہیں ہے،،، یقینا سب اچھا نہیں ہے۔ بلکہ ایکشن ری پلے میں ماضی خود کو دہرا رہا ہے۔مقدمہ بازی کی سیاست آج بھی ختم نہیں ہوئی۔پنجاب سے سندھ تک اور سرحد سے بلوچستان تک سیاسی مخالفین کے ساتھ آج بھی وہی ہورہا ہے، جو کل ہورہا تھا۔ہمارے کل اور آج میں کچھ زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا!!اگر ایسا کسی ”بڑے“ کے ایما پر نہیں ہورہا تو ہمارے ان ”بڑوں“ کو دیکھنا ہوگا کہ کہیں اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں کا ناکام بنانے کیلئے ان کے نام پر پرانا کھیل دوبارہ تو نہیں کھیل رہی ؟ وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاںپانچ ہزار سال میں بھی کچھ نہیں بدلا! ہمارے ہاں پانچ ہزار سال قدیم موہنجو دڑو اور ہڑپہ تو نکل آئے لیکن ہم موہنجو دڑو اور ہڑپہ سے باہر نہیں نکل سکے! ہم آج بھی موہنجو دڑو کی گلیوں کی سیاست کررہے ہیں، ہم آج بھی ہڑپہ کی غلام گردشوں میں دشمن کا سر کاٹنے کیلئے مرے جارہے ہیں۔

آخر ہم اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھ پائے کہ اس طرح کی سیاست سے پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر یا دنیا کا ترقی یافتہ ملک نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان میںاختیار کردہ منہاجِ سیاست سیدھا موہنجودڑو اور ہڑپہ کو جاتا ہے، جس کا مصرف محض یہ ہے کہ ہزاروں سال بعد محکمہ آثار قدیمہ اس پر اپنی تحقیق کرسکے۔ہم اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پائے کہ پانچ ہزار سال پہلے کی سیاست کرکے ہم وطن عزیزکو ان ممالک کے برابر نہیں لاسکتے جو ہماری اپنی ہی خامیوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے آج ہم سے پانچ سو سال آگے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں