ہم کب سلجھیں گے؟

(تحریر: محمد اعجاز)

کسی کو کوئی شعور نہیں کہ ہم آہستہ آہستہ کس منجھدار میں پھنستے چلے جارہے ہیں؟یہ کیسا گھن چکر ہے جو ہمیں اندر ہی اندر دیمک کی مانند چاٹتا چلا جارہا ہے ؟ یہ کیساناسور ہے جو ہمیں بے موت مارے چلا جارہا ہے؟ یہ اپنی اپنی خواہشات کی سیاہ پٹیاںآنکھوں پر باندھے ہم کن تاریک راستوں کے مسافر بنے ہوئے ہیں، جس کی دور دور تک کوئی منزل دکھائی نہیں دیتی ؟

اپنی اپنی ضد پر ڈٹے رہنے کا یہ کیسازہر ہے جو ہماری رگ و پے میں اترتا چلا جارہا ہے اور ہمیں کانوں کان اس کی خبرنہیں ہوئی؟ یہ کیسی آپا دھاپی ہے جس میں کھوکر ہم تریسٹھ برس پہلے متعین کئے جانے والے راستے سے مکمل طور پر بھٹک کر رھ گئے ہیں؟ یہ ہر جانب نفسا نفسی کا عالم کیوںاپنے پر پھیلائے ہوئے ہے، جس نے ہمیں کسی پڑاو¿ پر پہنچنے سے پہلے ہی پھانس لیا ہے ؟ یہ بے بسی بھی کیا بے بسی ہے کہ صاحب اقتدار کچھ کر نہیں سکتا، صاحب علم کچھ سوچ نہیںسکتا اور صاحب طلب کچھ مانگ نہیں سکتا؟ ہر طرف پھندے لگے ہیں،،، ہر ایک کی گردن پر پورے اترنے والے پھندے!!! نہ ”بے بی اور سمال “کی تفریق اور نہ ”لارج اور ایکسٹرالارج “کا جھنجھٹ، فری سائز کے پھندے، جو گردن قابومیں آجائے اسی میںپورے پورے فِٹ پھندے!! ہر جانب الجھاو¿ کاجالا تنا ہے، جس میں الجھ کر ہو کوئی اپنی منزل کھوٹی کررہا ہے۔پرویز مشرف کے اقتدار کے آخری مہنیوں میں جب عوام کے اندر اس استحصالی نظام اور استحصالی طبقے کیخلاف نفرت اور حقارت کا لاوا ابل رہا تھا ،تب لوگوں کو امید تھی کہ جمہوریت آئے گی تو ان کے سارے مسائل، ساری پریشانیاں اور سارے دکھ دور ہوجائیں گے۔ لوگ جس استبدادی معاشرے کے ہاتھوں خوار ہورہے تھے، وہ اس معاشرے کی جڑیں کاٹ کر ایک نئی معاشرت تعمیر کرنے کیلئے پر امید تھے۔، ایک ایسی معاشرت جس میں سب کو آگے بڑھنے کے مساوی مو اقع دستیاب ہوں۔ایک ایسا سماج پرعزم عوام کی آنکھوں میں سورج کی طرح روشن تھا جس میں کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے، لیکن اٹھارہ فروری 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں نمودار ہونے والاجمہوریت کا یہ چاندابھی تک الجھاو¿ کے بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے۔

سیاستدان گزشتہ اکیس ماہ سے الجھے ہوئے ہیں کہ اس ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو ملکی مفاد کے قالب میںکیونکر ڈھالاجائے؟ اٹھارہویں ترمیم میں صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختیارات کا توازن کس طور قائم کیا جائے؟ ناراض سیاستدانوں، محرومیت کے مارے صوبوں اور روٹھی ہوئی سیاسی جماعتوں کو مناکر ”مین سٹریم “میں کیسے شامل کیا جائے اور مشرف کے آٹھ سالہ دوربربادی میں تباہ کاریوں کی راکھ سمیٹ کر تعمیر نو کا آغاز کیسے کیا جائے؟ملکی سرحدوں کی محافظ پاک فوج کو مشرف نے جس الجھاو¿ میںپھنسایا اس الجھاو¿ سے نجانے ہمارے شیر جوان کب نکل سکیں گے؟ نجانے کتنا خون بہا ادا کرنے کے بعد ہمیں دہشت گردی کے اس عفریت سے نجات ملے گی جس نے ہمارے گھروں کے گھر اجاڑ دیے ہیں؟ اب تک کتنے سہاگ اجڑے، کتنے بچے یتیم ہوئے اور کتنے بوڑھے والدین بے سہارہ ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بستر سے جالگے۔ کبھی سکون ہوا تو سود و زیاں کا پورا پورا حساب بھی ضرور ہوگا!! خودکش دھماکوں میںاس وقت پاکستان سر فہرست ہے، جگہ جگہ ناکے لگے ہیں، پولیس چوکیاں خود محفوظ نہیں، سیکیورٹی اہلکار وردی پہن کر سڑک پر آنے کا رسک نہیں لے سکتے، مسجد سے لے کر مدرسے تک، سکول سے لے کر یونیورسٹی تک اور بیرونی سرحدوں سے لے کر عساکر پاکستان کے صدر مرکز تک سیکیورٹی ادارے ملک کے چپے چپے کی حفاظت میں الجھے ہیں اور ہر محاذ پر کمال شجاعت سے ڈٹے اور قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

پرویز مشرف کے دور میں ہی پسے ہوئے عوام کو ایک امید عدلیہ سے ہوچلی تھی۔ سٹیل ملز کیس ، لاپتہ افراد کا مقدمہ اور پرویز مشرف کی اہلیت کیس سمیت درجنوں مقدمات کی سماعت کے تناظر میںبے چارے عوام نے پلکوں پر آس کے دیے روشن کرلئے تھے کہ اب ہر طرف انصاف کا دور دورہ ہوگا، مقدمات بروقت سنے جائیں گے اور عوام کو سستا اور فوری انصاف ان کی دہلیز پر میسر ہوگا اور کسی کو عدلیہ کے فیصلوں کیخلاف چوں چرا کرنے کی جرات نہ ہوگی، کسی کو آئین اور قانون کیخلاف ورزی کرنے کی جسارت نہ ہوگی اور مجرم جرم کرنے سے پہلے کم ازکم ایک لاکھ مرتبہ تو ضرور سوچے گا، لیکن دوبارہ بحالی کے بعد سے اب تک عوام کی سب سے بڑی امید عدلیہ کو بھی بے کار کے مقدمات میں الجھا کراس کے حقیقی مقاصد سے دور کیا جارہا ہے۔ کبھی چیف جسٹس کی اہلیت کا کیس، اور کبھی اس کیخلاف نظر ثانی کی اپیلیں، کبھی عدلیہ کی بحالی کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواستیں اور کبھی اکتیس جولائی کے فیصلے کیخلاف اپیلیں!! کبھی آٹے، چینی، تیل اور گیس کے نرخوں میں اضافے کا مقدمہ اور کبھی اس پر ریویو پیٹیشنز کی بھر مار!کبھی آرڈیننسز کے معاملے پر عدلیہ کو الجھانے کی تیاریاں اور کبھی عدلیہ کے ©”پر“ کاٹنے کی افواہیں اور کبھی چھوٹے چھوٹے اور ذاتی اور غیر عوامی معاملات پر ازخود نوٹس لینے کی درخواستیں!!

آخرعدلیہ کو اس الجھاو¿میں پھنسانے کی بجائے اس کا حقیقی کام کیوں نہیں کرنے دیا جارہا؟ وہ کام جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہو۔ وہ کام جس سے ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی یقینی بنتی ہو۔ آخر بے کار درخواستوں سے ہاتھ کیوں نہیں کھینچاجاتا تاکہ عدلیہ وہ ماحول قائم کرسکے جس میںمحمود اور ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں ؟پرویز مشرف کے دورمیں یقینا سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوا اور مشرف کی رخصتی کے بعد نئی معاشرت کی بنیادیں استوار کرنے کے معاملے میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر بھی عوام ہیں۔ وہ عوام جو کسی بھی معاشرے، کسی بھی قوم اور کسی بھی ملک کی اساس ہوا کرتے ہیں۔ وہ عوام جن کا عزم دریاو¿ں کا رخ موڑنے اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹانے پر بھی قادر ہوا کرتا ہے، انہیں آٹے کی قطاروں میں الجھا دیا گیا ہے، وہ عوام جن کا جذبہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے سے بھی آگے کا ہوتا ہے، آج انہیں چینی کی تلاش کے گنجلک سفر پر روانہ کردیا گیا ہے۔وہ عوام جوتپتے صحراو¿ں اوربے آب و گیا ویرانوں کو امریکہ اور کینیڈا میں بدل دیتے ہیں، انہیں بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔

وہ عوام جن کی کوکھ میں فرانس اور ایران جیسے انقلاب پلتے ہیں، انہیں خالی خولی نعروں سے نمٹادیا جاتا ہے، ان عوام کو اپنی جو بھی جدوجہد انقلاب بنتی نظر آتی ہے، اسے چند نادیدہ قوتیںسراب اور الجھاو¿ میں بدل دیتی ہیں اور عوام اسی سراب اور الجھاو¿ کو انقلاب سمجھتے رہتے ہیں۔اب کی بار بھی ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے، نادیدہ قوتیں متحرک ہیں۔ عوامی نمائندوں کو بدنام کرنے میں اور اصل عوامی مسائل سے دور رکھنے کی کوششوں میں مصروف قوتوں کو شکست دینے کیلئے اس الجھاو¿کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں سلجھاو¿ اتنا مشکل بھی نہیں، بس آنکھیں اور دماغ کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔ جن قوتوں نے سیاستدانوں، عدلیہ، فوج اور عوام کو بے کار کاموں میں الجھا رکھا ہے، باہمی اتحاد، یگانگت، ہم آہنگی اور ایک دوسرے کیلئے برداشت کا جذبہ پیدا کرکے، ان قوتوںکو شکست دی جاسکتی ہے۔

آج کے سپر پاور امریکہ کے ماضی کے ایک مدبر حکمرا ن ابراہم لنکن نے کہا کہ تھا ”اگر میرے پاس درخت کاٹنے کیلئے آٹھ گھنٹے ہوں تو میں چھ گھنٹے کلہاڑا تیز کرنے پر صرف کروں گا“۔ اور ایک ہم ہیں کہ طرح طرح کے الجھاو¿ میں الجھ کر گزشتہ باسٹھ برسوں سے ایک ک±ندکلہاڑا چلائے جارہے ہیں لیکن اسے تیز کرنے کیلئے چند لمحے بھی نہیں نکال سکے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے الجھی گتھیوں کا سلجھایا نہیں جاسکا اور نہ ہی معاشرے میں جڑیں مضبوط کرتے منافرت کے درخت کواکھاڑا جاسکاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں