کوئی آئین کیخلاف کام کرے تو عدلیہ کو ریویو کا اختیار ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: نئے عدالتی سال کے شروع ہونے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا فل کورٹ ریفرنس چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی صدارت میں ہوا۔ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ آئین اورقانون کےمطابق انصاف فراہم کرتی ہے۔ تمام اداروں کواپنی ذمےداریاں آئین کےمطابق ادا کرنی چاہییں۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ انسانی حقوق سیل کے ذریعے 29 ہزار 657 شکایات کو نمٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق سیل میں نمٹائی گئی شکایات کےذریعے متاثرہ افراد کو ریلیف ملا۔ اس کے علاوہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آئین و قانون کےمطابق بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی اتھارٹی یا ریاستی ادارہ آئین کیخلاف کام کرے تو عدلیہ کوریویو کا اختیار ہے۔ ناانصافی سے شہریوں کےحقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ناانصافی افراتفری اور انارکی کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انصاف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کا تحفظ اور بچاؤکیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں