ہاکس بے میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد ڈوب گئے

کراچی کے ساحل ہاکس بے میں پکنک کے لیے آئے ہوئے ایک ہی خاندان کے دو بچوں اور ایک خاتون سمیت 12 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔
ڈی آئی جی کراچی جنوبی آزاد خان کا کہنا تھا کہ ہاکس بے کے سینڈسپٹ میں نہاتے ہوئے ایک بچہ ‘بھنور’ میں پھنس گیا جس کو بچانے کی کوشش کررہے تھے کہ سمندر کی تیز لہروں نے خاندان کے تمام 12 افراد کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاندان کو سمندر کے قریب جانے سے ‘کئی مرتبہ’ روکا گیا اور ایک موقع پر وہ گھر واپسی کے لیے اپنی گاڑی میں سوار ہوگئے تھے تاہم ایک بچہ بھنور میں پھنس گیا تھا جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔ ڈی آئی جی کراچی جنوبی نے کہا کہ سمندر میں نہانے پرعائد پابندی پرعمل درآمد میں ناکامی کے بعد ساحل سمندر میں تعینات پولیس کے انچارج سب انسپکٹر اسماعیل کومعطل کردیا گیا ہے۔ ماڑی پور پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان سےتعلق رکھنے 12 افراد پکنک کی غرض سے ناظم آباد سے آئے تھے تاہم سمندر کی تیز لہروں نے انھیں گھیر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہیں جنھیں سول ہستپال کراچی منتقل کردیا گیا۔
بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان سعد ایدھی کا کہنا تھا کہ ڈوبنے والے تمام 12 افراد کی لاشوں کو نکال لیا گیا اور قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکام سے استفسار کیا کہ کیا ساحل سمندر میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ تھی؟ مراد علی شاہ نے ہاکس بے پر ڈوبنے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کی اور کہا کہ اس واقعے سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انھوں نے انتظامیہ سے رپورٹ میں وضاحت طلب کی کہ سمندر پر نہانے والوں کی رہنمائی کے لیے سائن بورڈز یا انتظامیہ ہوتی ہے یا نہیں۔ میئرکراچی وسیم اختر نے ساحل سمندر پر نہانے پر پابندی کے باوجود قانون میں عمل درآمد میں ناکامی پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
خیال رہے کہ ہاکس بے میں پکنک کے لیے آئے افراد کے ڈوبنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور گزشتہ ماہ 14 اگست کو نہانے پر پابندی کے باوجود ایک ہی خاندان کے 5 افراد ڈوب گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں