پاکستان میں‌کہاں کہاں پینے کا پانی زہریلا ہے؟ نئی رپورٹ آگئی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کااجلاس سینیٹر عثمان سیف اللہ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حکام نے کمیٹی کو بریفننگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال میں 200 سے زائد غیرمحفوظ پانی کےیونٹس بند کیے گئے۔ پنجاب ، بلوچستان اور کے پی نے پینے کے پانی کی پالیسی منظور کرلی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہمارے خطے میں ارسنیک موجود ہوتا ہے۔ زیارت کا پانی سو فیصد غیر محفوظ ہے۔ بلوچستان میں پانی میں آرسینک موجود نہیں۔اس لیے اپنے خطے کے مطابق یہ معیار مقرر کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئٹہ میں پانی کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے۔ اس موقع پر فتح محمد حسنی نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں لوگ زہریلا پانی پی رہے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پولٹری فارمز میں مرغیوں کو اسٹیرائیڈز دی جاتی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان میں 5 کروڑ افراد پانی میں موجود آرسنیک سے متاثر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی وائٹنرسے متعلق ایس آر او وزارت قانون کو بھجوا دیے ہیں۔ ڈبے کے دودھ کے21کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے ہیں جبکہ دو کمپنیوں کو لائسنس نہیں دیےجنہوں نےعدالت سے رجوع کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں