انٹر نیشنل سٹے بازوں‌ کا پاکستانی ٹیم پر پھر وار

دبئی : انٹر نیشنل سٹے بازوں نے ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ورغلانے کی کوشش کی ہے. اس بار کھلاڑی کی حاضر دماغی نے یہ کوشش ناکام بنا دی ہے. نجی ٹی وی چینل کے سینئر سپورٹس تجزیہ کار اور سپورٹس رپورٹر نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جاری سیریز کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اہم ترین کھلاڑی سے ایک سٹے باز نے رابطہ کیا اور اسے اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اینٹی کرپشن یونٹ کے ایک سرکردہ افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر جنگ کو بتایا کہ کرکٹرز نے فوری طور پر اس کی اطلاع ٹیم انتظامیہ اور اینٹی کرپشن یونٹ کو دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی کے ہوٹل میں ہونے والی پیشکش کے بعد کھلاڑی رات بھر سو نہیں سکا لیکن صبح اس نے پیشکش کو رپورٹ کرکے ذمے داری کا ثبوت دیا۔

اس نئی پیشکش کے بعدپاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے پاس آئی سی سی اور برطانوی کرائم ایجنسی کے توسط سے مصدقہ اطلاعات تھیں کہ سٹے بازوں کا نیٹ ورک اب بھی پاکستانی کرکٹرز کے پیچھے ہے اور انہیں دولت کی چمک دکھا کر ان کی آنکھیں خیرہ کرنا چاہتے ہیں۔ان اطلاعات کے بعد جب پاکستانی ٹیم لاہور سے دبئی پہنچی تو اینٹی کرپشن یونٹ نے ٹیم انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ کھلاڑیوں پر کر فیو ٹائمنگ دوبارہ لاگو کردیا جائے۔ مکی آرتھر کے کوچ بننے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے کر فیو ٹائمنگ ختم کردیا گیا تھا۔

دبئی میں پاکستانی ٹیم ایک ہفتے کے لیے ابوظبی گئی تاہم اس کے بعد ٹیم ایک ہی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہے۔ نئے کر فیو ٹائمنگ کے مطابق میچ سے قبل کھلاڑیوں کو رات ساڑھے گیارہ بجے اپنے کمروں میں واپس آنا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی تاخیر سے آتا ہے تو اس کی اطلاع پیشگی ٹیم انتظامیہ کو دے گا۔ دبئی ہوٹل سے متصل شاپنگ مال اور سینیما بھی ہیں۔ کھلاڑی اکثر اپنے اہل خانہ کے ساتھ شاپنگ مال میں دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹر کو نئی پیشکش کے بعد پاکستانی ٹیم انتظامیہ الرٹ ہوگئی ہے اور کھلاڑیوں کو خبردار کردیا گیا ہے جب کہ کھلاڑی بھی کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کوشش کی ناکامی کے بعد پاکستان کرکٹ‌بورڈ نے کھلاڑیوں کی نگرانی مزید سخت کردی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں