بیرون ملک سے مجرموں‌ کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کی منظوری

کراچی: تحقیقاتی اداروں نے بیرون ممالک سے پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے کالعدم اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کی قیادت کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کے حوالے سے ٹھوس شواہد جمع کرنا شروع کردیے ہیں جبکہ ان شواہد کی روشنی میں جلد وفاقی حکومت انٹرپول سے رابطہ کرے گی۔ قانون نافذ کرنے والے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اہم انکشافات کے بعد ملکی سلامتی کے اداروں کی جانب سے علیحدگی پسند تنظیموں ، را ، موساد و دیگر ملک دشمن نیٹ ورک سے جڑے افراد ، ان کے رابطوں اور کاروباری مراسم جبکہ بیرون ملک نیٹ ورک سے تعلق کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کچھ روز قبل ملکی سلامتی کے اداروں کے اعلی سطح کے اجلاس میں کیاگیا تھا، اجلاس میں ایسے تمام ملک دشمنوں کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کی منظوری دی گئی اور بااختیار سلامتی ادارے کی جانب سے ہدایت کی گئی تھی کہ انٹرپول کے ذریعے بیرون ملک مقیم کالعدم اور عسکری تنظیموں کے رہنماؤں کو گرفتارکرنے کے لیے ٹھوس شواہد پر مبنی کیس تیار کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق کلبھوشن کے انکشافات کی روشنی میں نہ صرف ایران، افغانستان، خفیہ ایجنسیز اور بھارتی ایجنسی را سے جڑے نیٹ ورک کی چھان بین کی جارہی ہیں، کلبھوشن کے اعترافی بیانات اور انٹیروگیشن رپورٹ کو بھی انٹرپول کے لیے تیارہونے والے کیسز میں شامل کیا جائے گا۔

کلبھوشن نے نہ صرف بلوچستان علیحدگی پسند تنظیموں،طالبان گروپ کے ذریعے را کی منشا کے تحت تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے بلکہ ایم کیوایم کراچی کے ذریعے بھی دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے انکشافات کیے تھے تاہم اب یہ کسی حد تک واضح ہوگیا ہے کہ کلبھوشن سے جڑے ایم کیو ایم نیٹ ورک کو اب لندن میں بیٹھے قائد چلارہے ہیں اور اسی طرح سندھ میں علیحدگی پسند جیے سندھ تحریک کے ایک دھڑے کا لیڈر بھی بیرونی ملکمقیم ہے وہ بھی ’را‘ نیٹ ورک کے ذریعے سندھ میں ریلوے لائن ، الیکٹرک لائن، گیس لائن اور چینی باشندوں پر حملوں میں ملوث ہے ، ان لوگوں کو غیر ملکی فنڈنگ ہورہی ہے اور ان کے رہنما سیاسی پناہ یا جلاوطنی کی آڑ میں ان ممالک سے اپنے نیٹ ورک کو فعال رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران بارڈر سے ملحقہ بلوچستان کے علاقے شرپسندوں کی رسد اور آمد و رفت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ چمن ، وڈ، تربت و دیگر علاقے ان شرپسندوں کے عارضی طورپر رہائش اور ملاقاتوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ کے ساحل سمندر پر واقع علاقے شاہ بندر،کیٹی بندر اور جاتی سے محلقہ بھارتی بارڈر ایریا ان شرپسندوں کی رسد اور آمدو رفت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور یہاں سے لانچ کے ذریعے آمدو رفت اور رسد کی جاتی رہی ہیں۔ واضح رہےکہ کلبھوشن سے جڑے نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے اور وہ تتر بتر ہوکر رہ گیا ہے جس کے باقی ماندہ مقامی سہولت کار بھی واچ لسٹ پر ہیں جبکہ ایم کیو ایم لندن نیٹ ورک کے خلاف کاررروائیاں جاری ہے اور تنظیمی سرگرمیوں اور میڈیا کوریج پربھی پابندی عائدکی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں