آبزرویشنز فیصلہ نہیں،ایشو کو سمجھنے کے لیے ہو تی ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وکیل جہانگیر ترین کی جانب سے سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی شقوں کو چیلنج کرنے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ میسج کرتے ہیں موجودہ حالات پر ایکشن لیں، ملکی مفاد اور ادارے کی ساکھ کو بھی دیکھنا ہے، جذباتی نہیں، پارلیمنٹرین کی تذلیل نہیں کرنی، تنقید کرنے والے دیکھیں عدلیہ ان کا بھی ادارہ ہے۔ معاشرے میں بہت سے معاملات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، لوگ میسج کرتے ہیں کہ موجود ہ حالات پر ایکشن لیں.

چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز میں کہا گزشتہ روز ایسی آبزرویشنز نہیں دی جو میڈیا پر ہائی لائیٹ ہوئی، آبزرویشنز فیصلہ نہیں،ایشو کو سمجھنے کے لیے ہو تی ہے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین ایس ای سی پی تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے ازالہ کی رقم ادا کی، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے سیکشن 15 اے اور بی آٹین سے متصادم ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا قانون کے سیکشن چیلنج کرنے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کریں گے، الزام ہیں جہانگیر ترین نے ملازمین کے ذریعے حصص خریدے، ملازمین جہانگیر ترین کے بے نامی دار تھے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ایمانداری کی نوعیت کا جائزہ لینا ہے۔ فریقین کے وکلاء معاونت کریں۔

وکیل سکندر بشیر نے کہا آرٹیکل 62 کا اطلاق صرف کرپشن پر نہیں ہوتا، جعلی سناد پر بھی اراکین آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل ہوئے۔ چیف جٹس نے کہا آرٹیکل 62 کے معیار اور سکوپ کو سمجھنا چاہتے ہیں، اس لیے اس مقدمہ پر اتنا وقت صرف کیا ہے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا عدالت کے آرٹیکل 62 کے تحت ایمانداری سے متعلق فیصلے پڑھے ہیں، کسی مقدمہ میں ڈکشنری معنی کو بھی دیکھا گیا، کسی مقدمہ میں عدالت نے اتنی باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا جتنی گہرائی کے ساتھ اس مقدمہ کا جائزہ لے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت میں بیٹھے کچھ دوست واٹس اپ پر چیزیں بھیج دیتے ہیں، جو ان کے موقف کو سپورٹ کرتی ہیں، جج اور وکیل کی دلیل کو جس انداز سے دیکھتے ہیں تیسرا فرد ویسے نہیں سمجھ سکتا۔ عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت آئندہ ہفتے پیر تک کے لئے ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں