بد عنوان افسران کیخلاف موثر کارروائی نہیں ہوئی، چیئرمین نیب

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے اندرونی احتساب کا عمل تو شروع کیا مگر نااہل اور بدعنوان افسران و اہلکاروں کیخلاف موثر انداز سے کارروائی نہیں ہوئی۔ چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد چیئرمین سیکریٹریٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے موقع پرکہا ہے کہ نیب نے اندرونی احتساب کا عمل تو شروع کیا مگر نااہل اور بدعنوان افسران و اہلکاروں کیخلاف موثر انداز سے کارروائی نہیں ہوئی جس کی بدولت نیب کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا نیب کے وقار اور ساکھ میں اضافے کیلیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

چیئرمین نے نیب میں گزشتہ 17 سال سے مختلف شکایات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تحقیقات پر اب تک قانون کے مطابق کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ افسران واہلکاروں کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بدعنوان افسروں اور اہلکاروں کی نیب میں کوئی جگہ نہیں، بدعنوانی ایک ناسور ہے، اس ناسورکے خاتمے کیلیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مجھ سمیت کوئی افسریا اہلکار قانون سے بالاتر نہیں، جہاں قانون ہمیں اختیار دیتا ہے وہاں قانون ہمیں اختیارات کے غلط استعمال سے روکتا اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔کسی بھی افسر/اہلکارکی نیب میں عزت اس کی کارکردگی، ایمانداری، دیانتداری، محنت، لگن اور قانون کے مطابق کام کرنے سے ہوگی۔ نااہل، بدعنوان اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسروں اور اہلکاروں کی نیب میںکوئی جگہ نہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نااہل، بدعنوان اور قانون کے برخلاف کام کرنے والے افسروں واہلکاروں کو آخری موقع دیتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور خامیوں پر قابو پائیں۔ میں کسی سفارش اور دباؤکو برداشت نہیںکروںگا، نیب میں محنت، دیانتداری، ایمانداری، میرٹ، شفافیت اور قانون پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ریاست کے مفادکیلیے کام کرنا ہے، بدعنوانی ایک لعنت ہے جس کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، کسی صورت میں بھی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں