سیاست کے تین کھلاڑیوں‌ کا مستقبل خطرے میں‌

سپریم کورٹ میں نااہلی کیس میں عدالت نے جہانگیر ترین سے اٹھارہ ہزارہ ایکٹر زمین کا خسرہ گرداوری طلب کرلیا جبکہ عمران خان کی ایک لاکھ پاوڈ کی درخواست پر حنیف عباسی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا. سپریم کورٹ میں جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ایک لاکھ پاونڈ کو ثابت کرنے کے لیے 2درخواستیں دی ہیں،عدالت پہلے کہہ چکی ہے کہ ریکارڈ ٹکڑوں میں آرہاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کئی تخواستیں آگیی ہیں اب تویاد بھی نہیں رہتی، پہلے کیس سن لیں پھردیکھیں گے کیاکرناہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہم نے ایک لاکھ پاؤنڈ سے متعلق دو درخواستیں دائر کی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے درخواستیں دیکھی ہیں،اتنے جوابات آ چکے ہیں اب تو ہمیں درخواستوں کے نمبر بھی یاد نہیں.

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ مسٹر بخاری آپ کی طبیعت ناساز نظر آرہی ہے پہلے آپ کو سن لیتے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ ایک لاکھ پاونڈ,پر پاکستان میں ٹیکس کانفاذ نہیں ہوناتھا، اب تک کے جوابات یادداشت اورکمزور دستاویز پر مبنی تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویزات سب بھی مکمل مہیانہیں کی گئی،دستاویزات کا تعلق کہیں نہ کہیں ٹوٹ جاتاہے،نعیم بخاری نے کہا کہ 26مئی 2003کوجمائما نے عمران خان 93ہزارپاونڈ بھیجے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ رقم آپ بنی گالا تعمیرات سے تعلق جوڑناچاہتے ہیں،یہ سب کچھ آپ کو ابتک بتادیناچاہیے تھا،ایساریکارڈ نہیں دیاگیاجس,سے معلوم ہو کہ این ایس ایل اکاونٹ میں رقم مقدمہ بازی کے لیے رکھی گئی تھی.

نعیم بخاری نے کہا کہ ایک لاکھ پاونڈ میں 40ہزارپاونڈ اور42ہزارعمران خان نے وصول کیے، چیف جسٹس نے کہا کہ ان دستاویزات کی کریڈیبیلٹی ہمیشہ چیلنج کی گئی ہے، جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ یہ تمام دستاویز پہلے آجانی چاہیے تھی،کچھ صفحات سامنے نہیں جس سے 27ہزارپاونڈ کامعلوم ہو،نعیم بخاری نے کہا کہ ایک پیسہ بھی ملک سے باہرجانے کاایشو نہیں، تمام رقم کی ٹرانزیکشن بینکوں کے ذریعے کی گئی،استدعاہے کہ عدالت اس درخواست پر نوٹس جاری کرے ،عدالت نے عمران خان کی نئی دستاویزات پر جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان دستاویزات کی کریڈیبیلٹی ہمیشہ چیلنج کی گئی ہے.

سپریم کورٹ نے عمران خان کی ایک لاکھ پاونڈ کی منی ٹریل درخواست پر حنیف عباسی سے جواب طلب کرلیا۔جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے کہا کہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے عدالت میں دستاویزات جمع کروائی ہیں، اصل لیز دستاویز، جمع بندی،اورکراس چیک سے متعلق جمع کروائے ہیں، وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم نے ٹھیکے پر لی گئی زمین کے دستاویزات جمع بندی اور چیکس کے زرئعے ادائیگی کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں،اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین ایک سو پچاس کلو میٹر علاقے پر مشتمل رحیم یار خان اور راجن پور میں ہیں، وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ جہانگیر ترن نے زمین ٹھیکے پر خاندان کے سربراہ سے حاصل کی،چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے خسرہ گرداروی جمع نہیں کرائی،ہم ایسی آبزرویشن نہیں دینا چاہتے جس سے جہانگیر ترین کا مقدمہ متاثر ہو،وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ عدالت کو18566ایکڑاراضی کی دستاویزات دی ہیں،رحیم یارخان اورراجن پورکے علاقے سے متعلق یہ دستاویزات ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دستاویز میں خسرہ گرداوری شامل نہیں،صرف لیز معاہدے سے حقائق واضع نہیں ہوئے،کسی دستاویز سے ثابت کریں کہ آپ ان زمینوں پر کاشتکاری کررہے ہیں،کیاآپ چاہتے ہیں کہ ہم اس علاقے کے ریونیوافسران کوطلب کریں.

چیف جسٹس نے کہا کہ یاعلاقے میں لیز پریکٹس کاجائزہ لینے کے لیے کمیشن تشکیل دیں،یہ غیرمعمولی ہے کہ ادائیگی کراس چیک کے ذریعے ہورہی ہے عام طورپرایسانہیں ہوتا، سکندر بشیر نے کہا کہ عدالت اپنی تسلی کے لیے حکم دے سکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پہلے دن سے جانتے تھے تھے کہ ایسی کوئی دستاویز نہیں جواس اراضی پر آپ کوکاشتکار ثابت کرے،جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ میں جو جانتا تھا پہلے ہی عدالت کوبتاچکا،گزارش ہے کہ عدالت پہلے میراموقف سنے،لیزمعاہدوں کے مطابق ادائیگیاں زمیندارخاندانوں کے سربراہوں کودی گئی،درحقیقت یہ زمین 18566ایکڑ اراضی جہانگیرترین کے زیرکاشت ہے،آبیانہ بھی میں دیتاتھاجس میں موضع اورمیرانام شامل ہوتاہے،چیف جسٹس نے کہا کہ لیزکامعاملہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں کیوں نہیں،سکندر بشیر نے کہا کہ اراضئ مالکان نہیں چاہتے کہ لیز معاہدے ریکارڈ میں آئے، چیف جسٹس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے پاس کاشتکاری اورقبضہ کاکوئی سرکاری ریکارڈ نہیں، سکندر بشیر نے کہا کہ سرکاری دستاویز تو نہیں ہیں لیکن کچھ متعلقہ دستاویز ہیں، 21کروڑ لیز کی مد میں اداکیے.
جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آپ شوگرمل کے مالک ہیں،ممکن ہے یہ چیکس کرشنگ کے دوران گنے کی ادائیگی کے ہوں، سکندر بشیر نے کہا کہ اگرکراس چیکس نہ ہوتے تومعاملے کی انکوائری ہوسکتی تھی،یہ الگ سوال ہے ہے کہ عدالت کراس چیک کودرست مانتی ہے کہ نہیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیاآپ نقشے پر اراضی ظاہرکرسکتے ہیں،جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ بالکل نقشہ مہیا کیا جا سکتا ہے، میراموقف یہ نہیں کہ کوئی دستاویز نہیں، جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ کرشنگ کے لیے اداکی گئی رقم جے ڈی ڈبلیو شوگرمل اکاونٹ سے دی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ جمع بندی توآپ کوکس طرح فائدہ نہیں دے گی، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شوگر ملز مالکان قرض دیتے وقت زمین کی دستاویزات اپنے پاس رکھتے ہیں، عموما بوگس ادائیگیوں کو زرعی آمدن ظاہر کیا جاتاہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی کاشتکاری ثابت کرنے کے لئے خسرہ گرداوری لے آئیں، کیا حاجی خان اور اللہ یار واقعی آپ کے ڈرائیورلوگ ہیں،سکندر بشیر نے کہا کہ معلومات لے کربتاوں گا ملازمت کس طرز کی تھی.

درخواستگزار کے مطابق جہانگیرترین نے ای سی پی میں اپناجرم قبول کیاہے،ایس ای سی پی قوانین کے تحت ان سائیڈر ٹریڈنگ غیرقانونی ہے،2005میں ایس ای سی پی کاسیکشن 15ای نہیں تھا،سیکشن 15ای قانون سے متصادم ہے، سکندر بشیر نے کہا کہ سیکشن 15ای کو 2008میں شامل کیاگیاتھا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کی ایمانداری کاجائزہ لے رہے ہیں،آپ نااہلی کے مقدمے میں قانون کوچیلنج کررہے ہیں،سکندر بشیر نے کہا کہ اب تک تو62(1)ایف کے تحت نااہلی مستقل تصور ہوتی ہے،اگر62(1)ایف کے تحت نااہل کیاتوہمیشہ کے لیے داغ لگ جائے گا،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں