ولایتی اشیاء استعمال کرنے والوں پر حکومت نے مہنگائی کا بم گرادیا

ولایتی اشیاء استعمال کرنے والوں پر حکومت نے مہنگائی کا بم گرادیا. میک اپ سامان، جیولری، پھلوں سبزیوں سمیت سینکڑوں درآمدی اشیاء پر 80 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی گئی. حکومت کا موقف ہے کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے اور درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے، غریب آدمی اس سے متاثر نہیں ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا. نوٹیفکیشن کے مطابق موبائل فون کی درآمد پر 250 روپے فی سیٹ، ایل ای ڈی اور ایل سی ڈی کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، ایک ہزار سی سی سے زائد نئی اور پرانی گاڑیوں کی درآمد پر 15 سے اسی فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ پولٹری مصنوعات پر 10فیصد جبکہ مچھلی کی مصنوعات درآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، درآمدی دودھ، کریم، دہی، مکھن، پنیر، شہد، مختلف سبزیوں پر 20 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائدکی گئی ہے

درآمدی سپاری پر 55 فیصد جبکہ پھلوں اور خشک میوہ جات پر 10سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔ گندم اور مکئی کی درآمد پر 60فیصد جبکہ آٹا اور میدے کی درآمد پر 25فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ہوگی۔ بیجوں پر 30 فیصد چینی اور گڑ کی درآمد پر 40فیصد ڈیوٹی ہوگی۔ ساسز، کیچ اپ پر 50فیصد ، منرل واٹر اور آئسکریم کی درآمد پر 20فیصد ڈیوٹی ہوگی۔ پالتو جانوروں کی خوراک پر 20فیصد،سگریٹس اور سگار پر 20 جبکہ شیمپواور پرفیومز کی درآمد پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ہوگی۔ میک اپ کی تمام مصنوعات پر 50 فیصد، چمڑے اور کپڑے کی مصنوعات پر 10سے40 فیصد، فیبرکس اور گارمنٹس کی درآمد پر بھی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جوتوں کی درآمد پر 15 سے 35 فیصد جبکہ ماربل، گرینائٹ، سینیٹری کے سامان کی درآمد پر 45 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائدہوگی

جیولری کی درآمد پر 45 فیصد، قیمتی پتھروں اور موتی کی درآمد پر 55 فیصد، سکریپ پر 5 سے 15 فیصد، اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات پر 30 فیصد، الیکٹریکل مصنوعات پر 20 سے 40 فیصد، فرنیچر پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے، زراعت میں استعمال ہونے والی ہارویسٹر اور آٹومیٹک مشینوں پر 20 سے 40 فیصد، جنریٹرز کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ کھیلوں کے سامان پر 30 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، نوٹیفکیشن کا اطلاق آج سے ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں