عائشہ گلالئی ڈی سیٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے عائشہ گلالئی کو ڈی سیٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر عائشہ گلالئی کے وکیل بیرسٹر مسرور شاہ نے ریفرنس میں ان کے موکل پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کر دیے۔عائشہ گلالئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی سے17 اگست تک جواب مانگنے کا شو کاز 18 اگست کو پوسٹ کیا گیا جب کہ پارٹی سربراہ نے جان بوجھ کر عائشہ گلالئی کو جواب دینے کا موقع نہیں دیا جو بظاہر بددیانتی لگتا ہے۔

اس موقع پر عمران خان کے وکیل سکندر بشیر نے موقف اختیار کیا کہ عائشہ گلالئی نے پارٹی چھوڑ دی لیکن اسمبلی رکنیت نہ چھوڑیں، یہ آئینی طور پر ممکن نہیں، پارٹی چیرمین کے ڈیکلریشن کے بعد گلالئی کی اسمبلی رکنیت منسوخ کی جانی چاہیے۔ عائشہ گلالئی کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ گلالئی نے 7 اگست کو قومی اسمبلی میں کہا پارٹی نہیں چھوڑ رہی، گلالئی نے پارٹی چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاہم پارٹی چھوڑنے کے ارادے کا اظہار مستعفی ہوجانا نہیں ہوتا۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عائشہ گلالئی کسی حلقے سے جیت کر قومی اسمبلی کی رکن منتخب نہیں ہوئیں بلکہ قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر نامزد کی گئیں۔

رکن الیکشن کمیشن نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ووٹ نہ دینے والے دیگر پارٹی ارکان کو بھی نوٹس دیے گئے جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ باقی ارکان نے ووٹ نہیں دیے تو پارٹی چھوڑنے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ آپ کی جماعت سے مستعفی ہونے کا طریقہ کار کیا ہے جس پر وکیل نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں کسی رکن کے لئے استعفیٰ دینے کا طریقہ کار نہیں ہے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عائشہ گلالئی کا پارٹی چھوڑنے کے لئے تحریری استعفیٰ دینا لازم نہیں وہ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر کے بیان سے منحرف ہوگئیں تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں