امریکا کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے:امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا مقصد ایران میں جمہوریت کے لیے کوشاں قوتوں کو مضبوط بنانا اور ملک میں حکمران نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں ٹیلرسن کا کہناتھا کہ امریکی حکمت عملی کا مقصد صرف جوہری معاہدے سے نمٹنا نہیں بلکہ ایران کی طرف سے جملہ دھمکیوں اور خطرات سے نمٹنا ہے۔ ہواشنگٹن ایرانی اپوزیشن قوتوں اور ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے کوشاں جماعتوں کی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایران میں اعتدال پسند ووٹروں کو سپورٹ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ جمہوریت اور آزادی کے لیے کام کرنے والی طاقتوں کو مضبوط بنایا جاسکے جبکہ ایران میں گیم کا اختتام نظام کی تبدیلی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ طویل المدت منصوبہ ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات خطرناک ہیں جو پوری دنیا کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2016 میں امریکی صدارتی الیکشن میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں شکست سے دور چار ہونے والی ہیلری کلنٹن کااپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ سابق وزیرخارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو امریکا کے لئے دنیا میں عدم اعتمادی کا باعث قراردیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے غلط اور مضحکہ خیز اقدامات دنیا بھر میں امریکی عوام کے لئے باعث ندامت ہیں۔ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکی کو خطرناک قراردیتے ہوئے ہلیری کا کہنا تھا کہ امریکی صدر عالمی سطح پرامریکا کو بدعہد اور بد اعتماد بنا کر پیش کررہے ہیں جس سے امریکا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ وعدوں کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں