عبوری جج کی موجودگی میں انصاف نہ ملنے کا اندیشہ ہے، انوشہ رحمان

اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ہمارے خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آج تک نظرثانی اپیل مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا ہم آج بھی سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے انتظار ہیں،نیب کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوشہ رحمان نے کہا کہ عدالتی حکم پر بنائے گئے ریفرنسز میں انصاف ملنے کی توقع ہو سکتی ہے ،عبوری جج کی موجودگی میں انصاف نہ ملنے کا اندیشہ ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہماری بات سننے سے انکار کر دیا،نیب گواہوں کو بولنے کا موقع نہیں دے رہی.
وفاقی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ،کیا ریٹائرڈ جرنیلوں کو استثنیٰ حاصل ہے ؟،کیاعدالتوں کا پرویز مشرف پر بس نہیں چلتا؟،کیا نیب کورٹ میں صرف سویلین کا احتساب ہو گا؟عمران خان کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟چیئرمین پی ٹی آئی کو ہتھکڑی لگاتے ہوئے کیوں ہاتھ کانپ رہے ہیں؟،کیا عمران خان ماورائے عدالت ہیں ان کے پیچھے کوئی قوت ہے؟ انہوں نے کہا کہ اداروں کو اپنی رٹ قائم کرنی چاہئے ،یہ جھوٹے مقدمات بنا کر ہمیں ہٹاناچاہتے ہیں. انوشہ رحمان نے کہا کہ انصاف کی بجائے انتقام سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں