نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن پر سوالات اٹھیں گے، سیکرٹری الیکشن کمیشن

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن کمیشن کو وہ اختیارات بھی مل گئے ہیں جو بھارتی الیکشن کمیشن کو بھی حاصل نہیں. انہوں کہا کہ ایک کروڑ خواتین کی ووٹر رجسٹریشن کے حوالے سے دو جماعتوں کے علاوہ کسی جماعت نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا، افسوسناک بات ہے کہ سیاسی قیادت خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کو مسئلہ ہی تسلیم نہیں کررہی. الیکشن ایکٹ 2017 پر منعقدہ ایک سیمینار میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ ، الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ توہین عدالت کی کارروائی کرسکتا ہے، پاکستان میں الیکشن کمیشن کا ایسا ڈھانچہ بن چکا ہے جو حکومت کے تابع نہیں، تاہم الیکشن ایکٹ 2017 درست سمت میں درست قدم ہے

اس ایکٹ میں الیکشن کمیشن کو ایسے اختیارات بھی مل گئے ہیں جو بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس بھی نہیں، بھارت میں الیکشن عدلیہ اور فوج نہیں کراتی، بھارت میں الیکشن کمشنر کا کہنا ہی کافی ہوتا ہے اور سیاسی جماعت اس کا احترام کرتی ہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پاکستان میں مرد اور خواتین کی رجسٹریشن میں واضح فرق ہے، ایک کروڑ خواتین کا بطور ووٹر رجسٹرڈ نہ ہونا ہماری قومی ناکامی ہے، ایک کروڑ خواتین کی ووٹر رجسٹریشن کے حوالے سے دو جماعتوں کے علاوہ کسی جماعت نے الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا، افسوسناک بات ہے کہ سیاسی قیادت خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کو مسئلہ ہی تسلیم نہیں کررہی.

الیکشن کمیشن خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کرے گا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن کی مضبوطی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ فارن فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے اس پر بات نہیں کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں